Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی سے انتخابی مفاہمت پرتلگودیشم پارٹی حلقوں میں شدید ناراضگی

بی جے پی سے انتخابی مفاہمت پرتلگودیشم پارٹی حلقوں میں شدید ناراضگی

کئی قائدین کی بغاوت ‘ احتجاجی مظاہرے ‘ریونت ریڈی اور مظفر علی خان کے بحیثیت آزاد امیدوار مقابلے کا امکان

کئی قائدین کی بغاوت ‘ احتجاجی مظاہرے ‘ریونت ریڈی اور مظفر علی خان کے بحیثیت آزاد امیدوار مقابلے کا امکان

حیدرآباد۔7اپریل ( سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی کی بی جے پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت ریاست آندھراپردیش اور بالخصوص تلنگانہ میں تلگودیشم کیلئے پارٹی نقصاندہ ثابت ہورہی ہے ۔اس مفاہمت کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی اور کئی اہم قائدین بشمول اضلاع کے سینئرلیڈرس نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ ان میں سے اکثر نے پارٹی سے استعفی بھی دے دیا ہے ۔کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔یہ اتحاد چندرابابو نائیڈو کیلئے درد سر بن گیا ہے۔آج وجئے واڑہ ‘ ملکاجگری‘ نرسا پوراور دیگر مقامات پر پارٹی قائدین نے بحیثیت آزاد امیدوار انتخابی مقابلے کااعلان کیا ہے۔ تلگودیشم پارٹی کے سینئر قائدین کا یہ احساس ہے کہ طویل عرصہ تک پارٹی سے وابستگی کے باوجود ان کی رائے کو انتخابات کے پیش نظر فراموش کرتے ہوئے بی جے پی سے اتحاد کیا گیا ہے ۔پارٹی صدرانتخابی جلسوں میں عوام کی کثیر تعدادکے پیش نظر خود کو سیما آندھراکا چیف منسٹر تصورکررہے ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے ایک فرقہ پرست جماعت بی جے پی سے انتخابی مفاہمت کرتے ہوئے علاقہ تلنگانہ میں 117کے منجملہ 47نشستیں بی جے پی کو دینے سے اتفاق کیا ہے ۔ اس طرح تلنگانہ کے مضبوط گڑھ میں چندرا بابو نائیڈو نے خود اپنی پارٹی کے صفائے کی راہ ہموار کرلی ۔ صدر تلگودیشم پارٹی کے طرز عمل کے خلاف آج ان کی قیامگاہ کے روبرو زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ حلقہ اسمبلی اپل اور حلقہ اسمبلی خیریت آباد کے پارٹی کارکنوں نے اُن کے قافلہ کو آگے بڑھنے نہیں دیا اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی شدید مخالفت کی ۔مسٹر چندرا بابو نائیڈو کڑپہ روانگی کیلئے جیسے ہی قیامگاہ سے باہر آئے احتجاجی کارکنوں نے زبردست نعرے بازی کی اور اُن کو آگے بڑھنے نہیں دیا تاہم چندرا بابو نائیڈو نے ان تمام کو سمجھا بجھاکر خاموش کردیا ۔بی جے پی سے انتخابی مفاہمت پر پارٹی لیڈر ریونت ریڈی شدید برہم ہیں۔ رکن اسمبلی کوڑنگل مسٹر ریونت ریڈی لوک سبھا حلقہ ملکاجگری سے مقابلے کے خواہاں تھے لیکن انتخابی مفاہمت کے تحت تلگودیشم نے یہ نشست بی جے پی کیلئے چھوڑ دی ہے ۔اس کی وجہ سے مسٹر ریونت ریڈی اور ان کے حامیوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب مسٹر اے ریونت ریڈی نے 8 اپریل کو تلگودیشم امیدوار کی حیثیت سے پارلیمانی حلقہ ملکاجگیری سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے پارٹی کی جانب سے بی فارم نہ دیئے جانے کی صورت میں باغی امیدوار کے طور پر آزاد مقابلہ کرنے کا بھی تہیہکرلیا ہے

۔ تلگودیشم پارٹی کے سرکردہ قائدین بشمول صدر تلگودیشم مسٹر این چندرا بابونائیڈو نے بھی ان سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے ۔ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کے تلگودیشم انچارج جناب مظفر علی خان نے بھی 9 اپریل کو حلقہ اسمبلی ملک پیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ قریبی ذرائع کے بموجب مظفر علی خان نے بھی پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں آزاد امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جناب مظفر علی خان کو مختلف علمی حلقوں کے علاوہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں نوجوانوں کی زبردست تائید حاصل ہونے کے سبب ان پر انتخابی مقابلہ کیلئے دباو بڑھتا جارہا ہے۔ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کے تلگودیشم کارکنوں نے 8 اپریل کو صدر تلگودیشم مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی قیامگاہ واقع جوبلی ہلز پر احتجاجی دھرنا منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بی جے پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت تلگودیشم کیلئے ایسا لگتاہے کہ کافی مہنگی ثابت ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT