Wednesday , December 13 2017
Home / اداریہ / بی جے پی سے عوام کی بیزاری

بی جے پی سے عوام کی بیزاری

آج گرداسپور لوک سبھا حلقہ کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ ملک کے عوام میں بی جے پی کے تعلق سے بیزاری پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے ۔ گذشتہ دنوں ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بھی عوام نے بی جے پی سے بیزاری کا کھل کر اظہار کیا تھا ۔ یہاں 81 نشستوں کیلئے ہوئے انتخابات میں کانگریس پارٹی نے عملا ساری اپوزیشن کا صفایا کرتے ہوئے 73 حلقوں سے کامیابی حاصل کرلی تھی ۔ جس طرح سے ناندیڑ کے نتائج سامنے آئے تھے اس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا تھا کہ حالانکہ ناندیڑ میں بھی دلتوں اور مسلمانوں کے ووٹوں پر نقب لگانے کی کوششیں کی گوشوں کی جانب سے کی گئی تھیں لیکن دلتوں اور مسلمانوں نے سیاسی شعور اور فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کوششوں کو مسترد کردیا تھا اور وہ ایک بار پھر کانگریس پارٹی سے وابستگی اختیار کر رہے ہیں۔ قومی سطح پر حالانکہ اب بھی کانگریس کی حالت انتہائی کمزور ہے اور اس کو حالیہ وقتوں میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ ناکافی کہی جاسکتی ہیں۔ یہ کامیابیاں وقتی بھی ہوسکتی ہیں اگر کانگریس ان سے فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی ۔ کانگریس پارٹی کو موجودہ حالات میں ایک طرح کی حکمت عملی بناتے ہوئے عوام پر اثر انداز ہونے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات تو اب کہی جاسکتی ہے کہ ملک کے عوام میں بی جے پی سے بیزاری کا آغاز ہوچکا ہے ۔ا س کو مزید اجاگر کرنے اور سارے ملک پر اس کو واضح کرنے کیلئے کانگریس پارٹی کو زیادہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ اب کانگریس پارٹی میں تنظیمی تبدیلیوں کا وقت چل رہا ہے ۔ آئندہ دنوں میں راہول گاندھی کے کانگریس کے صدارت پر فائز ہوجانے کے امکانات واضح ہوگئے ہیں اور اس عمل کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔ ایسے میں تنظیم کو مستحکم کرنے اور ملک میں رائے عامہ بنانے میں کامیاب ہونے والے قائدین کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے اس کیلئے اب حالات ویسے نہیں رہے جو گذشتہ تین سال کے دوران رہے تھے ۔ مسلسل کامیابیوں کے نشہ سے سرشار بی جے پی کو اب بھی ان شکستوں پر ہوش نہیں آ رہا ہے اور وہ اب بھی کامیابیوں کے نشہ میں دھت ہی ہے ۔
بی جے پی کو یہ خوش فہمی ہوگئی ہے کہ فی الحال ہندوستان میں جمہوری طور پر اسے کوئی شکست دینے کے موقف میں نہیں ہیں۔ وہ اسی نشہ میں من مانی اقدامات کر تی جارہی ہے اور عوام پر ہونے والے اثرات سے لاپرواہ ہوگئی ہے ۔ اس حقیقت سے بھی انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ بی جے پی کی جتنی مخالف جماعتیں ہیں وہ یقینی طور پر بہت کمزور ہوگئی ہیں اور ان کے پاس اب بی جے پی کو شکست دینے جیسی طاقت فی الحال تو باقی نہیں بچی ہے لیکن بی جے پی ایک ایسی حقیقت کو فراموش کر رہی ہے جو جمہوریت کی اصل طاقت ہے ۔ یہ طاقت عوام ہیں۔ ہندوستان کے عوام نے ایک سے زائد مرتبہ اپنے ووٹوں کے ذریعہ وقت کے فرعونوں کو دھول چٹائی ہے ۔ جس وقت سارے ملک میں اندرا گاندھی کا طوطی بول رہا تھا اس وقت اندرا گاندھی کو کراری شکست کا شکار کیا گیا تھا ۔ کانگریس کا عملا صفایا کردیا گیا تھا ۔ جس وقت یہ سمجھا گیا تھا کہ اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کو شکست دینا آسان نہیں رہا تھا اس وقت بھی عوام نے اپنے ووٹوں کے ذریعہ ساری صورتحال تبدیل کردی تھی ۔ یہ صحیح ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اب بھی اس موقف میں نہیں ہیں کہ وہ بی جے پی کیلئے حقیقی معنوں میں کوئی چیلنج بن سکیں لیکن ملک کے عوام اور ان کے ووٹ کی طاقت ایسی ہے جو کسی گرتے کو بھی سنبھال کر تخت شاہی پر فائز کرسکتی ہے ۔ بی جے پی اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے فی الحال تیار نظر نہیں آتی ۔ اس پر اب تک گذشتہ عام انتخابات اور پھر اس کے بعد ملنے والی انتخابی کامیابیوں کا نشہ ہے اور یہی نشہ اس کیلئے نقصان کا باعث ہوسکتا ہے ۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ حکومت اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہے ‘ ملک کے عوام میں دبے دبے انداز میں حکومت کے تعلق سے بے چینی پیدا ہوگئی ہے تو پھر یہ ملک کی دوسری اپوزیشن جماعتوں اور خاص طو رپر کانگریس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کیلئے جٹ جائے ۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے پاس اب بھی دیڑھ سال تک کا وقت باقی ہے ۔ حالانکہ یہ بہت زیادہ نہیں ہے لیکن حالات کو سازگار بنانے کیلئے اسے بھی کم وقت قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ایک جامع حکمت عملی اور مضبوط حکمت عملی کے ذریعہ عوام کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے جو رائے عامہ بنائی جاسکتی ہے وہ طاقتور ترین حکمرانوں کا تختہ الٹنے میں بھی کامیاب ہوسکتی ہے ۔ عوام میں بیزاری کا جو عنصر اب پیدا ہو رہا ہے اس کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری اپوزیشن جماعتوں پر ہی عائد ہوتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT