Wednesday , December 19 2018

بی جے پی سے مقابلہ اور شکست دینا میرا مقصد راہول گاندھی کا انٹرویو

بی جے پی کے قائدین بشمول صدر امیت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی بار بار کانگریس سے مکت (پاک) ہندوستان کے نعرے بلند کرتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ امیت شاہ اور مودی کے ان نعروں میں اب کوئی جان نہیں رہی۔ دونوں کے دوسرے نعرے بھی بے جان ہوگئے ہیں۔ مودی نے اقتدار پر فائز ہونے سے قبل عوام سے بہت سارے وعدے کئے تھے لیکن وہ اپنے وعدوں کو وفا کرنے میں ناکام رہے۔ وعدے وفا کرنا تو دور مودی نے نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور قیمتوں پر تیل کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دے کر عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ سماج کا ہر طبقہ مودی حکومت کے اقدامات سے متاثر ہوا ہے جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مودی جی کے کارناموں کو اگر گنوانا شروع کیا جائے تو ان کے بیرونی دورے ہی سب سے بڑا کارنامہ ہوں گے۔ بہرحال مودی اور امیت شاہ کانگریس سے مکت بھارت (کانگریس سے پاک بھارت) چاہتے ہیں لیکن جواب میں راہل گاندھی کہتے ہیں کہ وہ بی جے پی سے مکت بھارت (بی جے پی سے پاک بھارت) نہیں چاہتے کیوں کہ وہ (راہل) بی جے پی سے لڑیں گے، بی جے پی کو شکست دیں گے۔ راہول کے مطابق جن لوگوں نے کانگریس کو خیرباد کہہ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی وہ پچھتارہے ہیں۔ ایک بات ضرور ہے کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مہم میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ یہ سطور پڑھنے تک رائے دہی بھی ہوچکی ہوتی۔ وزیراعظم نریندر مودی، صدر کانگریس راہل گاندھی، چیف منسٹر یوپی یوگی آدتیہ ناتھ اور دوسری جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ سیاسی قائدین کے درمیان کیچڑ اُچھالنا شروع ہوگیا ہے۔ خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی، صدر کانگریس راہول گاندھی کے خلاف ہتک آمیز رویہ و زبان استعمال کررہے ہیں جس کا راہول بڑی شرافت سے منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔ اس تعلق سے راہل کہتے ہیں کہ ’’آپ سب نے دیکھا ہوگا کہ مودی جی میرے خلاف ہتک آمیز الفاظ استعمال کررہے ہیں۔ کانگریس کے دوسرے قائدین کو بھی ایسے ہی نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن میں ہمیشہ عہدہ وزارت عظمیٰ کا احترام کروں گا۔ آپ مجھے ایسی بدکلامی کرتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔ 47 سالہ راہل کی کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مہم میں سرگرمیوں کو دیکھ کر بی جے پی قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ راہل کے مطابق کرناٹک میں عوام بی جے پی اور وزیراعظم کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ انتخابات کرناٹک کے لوگوں کی آواز اور آر ایس ایس کے نظریہ کے درمیان دراصل ایک مقابلہ ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ گجرات اسمبلی انتخابات میں راہل گاندھی نے مودی، امیت شاہ، بی جے پی کے سرکردہ قائدین بالخصوص درجنوں مرکزی وزراء اور آر ایس ایس کا تنہا مقابلہ کیا اور ریاست میں بی جے پی بڑی مشکل سے اقتدار پر واپس آسکی۔ گجرات کا یہ حال ہے کہ اگر وہاں بی جے پی کے 10 تا 15 ارکان اسمبلی بغاوت پر اتر آئیں تو بی جے پی حکومت گر جائے گی۔ جہاں تک کرناٹک کا سوال ہے اس جنوبی ریاست میں کانگریس کا اقتدار ہے۔ سدارامیا حکومت نے عوام کی بہبود کے لئے بے شمار کام کئے ہیں۔ وہاں کئی بہبودی اسکیمات پر کامیابی سے عمل آوری کی جارہی ہے۔

بی جے پی نے سابق چیف منسٹر یدی یورپا کو عہدہ چیف منسٹری کا امیدوار بنایا ہے۔ وہ ہر حال میں کرناٹک کے اقتدار پر فائز ہونے کی خواہاں ہے لیکن موجودہ آثار و قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کو کرناٹک میں ایسی کامیابی حاصل نہیں ہوگی جس کی وہ خواہاں ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران جو سروے اور اوپینین پولس سامنے آئے ہیں ان میں کانگریس کو اقتدار ملنے کے امکانات ظاہر کئے گئے ہیں۔ بعض سروے میں سابق وزیراعظم دیوے گوڑا کی جنتادل (سیکولر) کے بادشاہ گر کی حیثیت سے اُبھرنے کے امکانات ظاہر کئے گئے ہیں۔ ایک بات ضرور ہے کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات 2019 ء کے عام انتخابات کا رجحان ظاہر کردیں گے۔ ملک میں خواتین اور بچیوں پر جنسی حملوں کی جو لہر چل پڑی ہے ناانصافی کا جو دور دورہ ہے اس سے عوام کی اکثریت میں بے چینی اور برہمی پائی جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہی عوامی برہمی بی جے پی کے لئے تباہ کن ثابت ہو۔ بی جے پی کے بارے میں عوام کا یہ ذہن بن گیا ہے کہ وہ مسئلہ کو فرقہ پرستی کی عینک سے دیکھتی ہے۔ ہندو ۔ مسلم میں تفرقہ کی بات کرتی ہے جبکہ ملک کو کئی ایک داخلی اور خارجی مسائل و چیلنجس کا سامنا ہے۔ سرحد پر چین اور پاکستان نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اندرون ملک مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ امن و امان کی صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے۔ عام شہری کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ 4 ماہ کی بچی سے لے کر 74 سال عمر کی بوڑھیا کی بھی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ملک میں نفرتوں کا بازار گرم کردیا گیا ہے۔ ہندوتوا ہندوتوا کی رٹ لگاتے ہوئے بھولے بھالے عوام کا مذہبی و سیاسی استحصال کیا جارہا ہے۔ راہول گاندھی کرناٹک اسمبلی انتخابات کے 2019 ء کے عام انتخابات پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں کہتے ہیں کہ 2014 ء میں مودی نے عوام سے بلند بانگ دعوے کئے اور جھوٹ و دروغ گوئی کی بنیاد پر اقتدار پر فائز بھی ہوگئے۔ انھوں نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان میں سب سے پہلا وعدہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی تھا۔ دوسرا وعدہ انھوں نے ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنے کے بارے میں کیا تھا۔ مودی نے تیسرا وعدہ کسانوں کی حالت زار سدھارنے کے بارے میں کیا تھا۔
راہول گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں یہ کہہ کر مودی اور بی جے پی کی قلعی کھول دی کہ ملک میں مودی اور بی جے پی کے نام نہاد قوم پرستی کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔ ان لوگوں کی قوم پرستی میں کسی اور کی آواز سنی نہیں جاتی بلکہ اُن لوگوں کی ہی آواز سنی جاتی ہے جو فرقہ پرست نظریات کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہے۔ مختلف ریاستیں ہیں جہاں مختلف زبانیں بولنے والے مختلف نظریات کے ماننے والے رہتے ہیں۔ دراصل یہی ہندوستان کی طاقت ہے لیکن مذہب ذات پات زبانوں اور علاقوں کے نام پر عوام میں تفرقہ ڈالنا کسی بھی قوم پرست کا کام نہیں ہوسکتا۔ بی جے پی اور اس کے قائدین صرف قوم پرستی کے دعوے کرتے ہیں۔ وہ اپنے نظریات اور خیالات دوسروں پر زبردست تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی ان کے خیالات و نظریات سے اختلاف کرتا ہے تو وہ ملک دشمن ہوجاتا ہے۔ اس کی قوم پرستی اور حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے لیکن بی جے پی کے یہ نظریات یہ پالیسی زیادہ عرصہ تک چلنے والی نہیں۔ عوام ان کی پالیسیوں سے بیزار ہوگئے ہیں۔ آج ناگپور ۔ آر ایس ایس نظریہ سے کے نفاذ کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ کرناٹک میں آر ایس ایس کی نہیں بلکہ کرناٹک کی آواز گونج رہی ہے۔

راہل کے مطابق انھوں نے ریاست میں اپنے دورے کے دوران عوام سے بات کی۔ عوام نے انھیں بتایا کہ آج کرناٹک کی آواز کا سوال ہے۔ یہاں کرناٹک آواز چلے گی۔ آر ایس ایس کی پالیسیاں نہیں چلیں گے جو مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرتی ہے۔ ان میں پھوٹ ڈالتی ہیں، تفرقہ پیدا کرتی ہیں۔ اب ملک مودی یا ان کے قبیل کے کسی اور کوئی کو برداشت نہیں کرے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی ان کے اور دیگر کانگریس قائدین کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں حالانکہ انھوں (راہول) نے عہدہ وزارت عظمیٰ کا ہمیشہ احترام کیا ہے۔ راہول یہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی بھی مودی کی طرح گندی زبان استعمال نہیں کی۔ مودی جس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں وہ ان کے عہدہ کے شایان شان نہیں۔ راہول کا یہ بھی کہنا تھا کہ مودی جب بھی ان سے خوفزدہ ہوتے ہیں تو ہیبت کے مارے جو زبان پر آیا وہ بولتے جاتے ہیں۔ شائد ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کہنا کیا چاہتے ہیں۔ راہول مزید کہتے ہیں کہ ہندوستان کثرت میں وحدت اور پرامن بقائے باہم کی بہترین مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلورو کو اس کے کاسمو پالیٹن ہونے کے باعث سلیکان وادی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ کثرت میں وحدت کے باعث ہی ہمیں یہ کامیابیاں مل رہی ہیں۔ کانگریس پر نرم ہندوتوا پالیسی اختیار کرنے سے متعلق سوال پر صدر کانگریس کا کہنا تھا کہ بلا لحاظ مذہب و ملت جو کوئی بھی انھیں مدعو کرتا ہے وہ اس کے یہاں جاتے ہیں چاہے وہ ہندو ہوں یا اقلیت (مسلمان، سکھ، عیسائی وغیرہ) یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کرناٹک میں مساجد، منادر کا دورہ کیا اور گجرات میں گردوارہ بھی گئے۔ ایس ایم کرشنا، وی سرینواس پرساد، ایچ وشواناتھ جیسے قائدین کی کانگریس سے دوری اور بی جے پی میں شمولیت کے بارے میں سوال پر راہول کہتے ہیں کہ کچھ موقع پرستوں کے جانے سے پارٹی پر کوئی اثر ہوا ہے نہ ہوگا۔ جہاں تک اترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی کا سوال ہے بی جے پی نے عوام کی مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اس نے لوگوں میں نفرت اور برہمی پیدا کی۔ اب اترپردیش کے لوگ بی جے پی کی اصلیت جان چکے ہیں۔ ریاست میں بی جے پی کے خلاف شدید عوامی برہمی پائی جاتی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں راہل نے بتایا کہ ڈرامائی طور پر اپنی عظمت رفتہ بحال کرے گی۔ جہاں تک کرناٹک کا سوال ہے کانگریس کرناٹک آواز کا دفاع کرے گی۔ بی جے پی کو اس کے آر ایس ایس نظریات دوسروں پر زبردستی تھوپنے کی اجازت نہیں دے گی۔
بشکریہ نیشنل ہیرالڈ، ہندو

TOPPOPULARRECENT