Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی سے کے سی آر کی قربت، مسلمان ٹی آر ایس سے دور ہوں گے

بی جے پی سے کے سی آر کی قربت، مسلمان ٹی آر ایس سے دور ہوں گے

حیدرآباد۔/18فبروری، ( این ایس ایس ) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کا اچانک بی جے پی کی جانب جھکاؤ اور مرکز میں نریندر مودی حکومت میں ٹی آر ایس قائدین کو شامل کرنے کی کوشش سے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں شروع ہوگئی ہیں۔ واضح رہے کہ کے سی آر نے حال ہی میں صدر بی جے پی امیت شاہ کے فرزند کی شادی کے استقبالیہ میں شرکت کیلئے نئی دہلی کا دورہ

حیدرآباد۔/18فبروری، ( این ایس ایس ) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کا اچانک بی جے پی کی جانب جھکاؤ اور مرکز میں نریندر مودی حکومت میں ٹی آر ایس قائدین کو شامل کرنے کی کوشش سے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں شروع ہوگئی ہیں۔ واضح رہے کہ کے سی آر نے حال ہی میں صدر بی جے پی امیت شاہ کے فرزند کی شادی کے استقبالیہ میں شرکت کیلئے نئی دہلی کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی اس کے بعد یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ کے سی آر بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت میں شامل ہونے کیلئے کوشاں ہیں۔ اگرچیکہ ٹی آر ایس کے حلقوں میں کے سی آر کے اقدامات کی حمایت کی جارہی ہے اور اسے حق بجانب قرار دیا جارہا ہے کیونکہ تلنگانہ حکومت کو اس کی کارکردگی کے عوض مرکز سے شاباشی مل رہی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت مودی حکومت کے ساتھ ہاتھ ملا کر ریاست تلنگانہ میں مختلف ترقیاتی پروگراموں کیلئے قابل لحاظ مالیاتی فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ چیف منسٹر کے دہلی مشن میں یہ خفیہ ایجنڈہ بھی شامل تھا کہ ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کو مودی کابینہ میں شامل کیا جائے۔ کے سی آر چاہتے ہیں کہ تلگودیشم کی طرح مرکز میں ان کی پارٹی کے بھی دو ارکان کو وزارت دی جائے۔ مودی کابینہ میں تلگودیشم کے اشوک گجپتی راجو اور وائی ایس چودھری کو شامل کیا گیا ہے۔

کے سی آر اپنی دختر کویتا اور کے کیشوراؤ کو مودی کابینہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ کے چندر شیکھر راؤ کی ان کوششوں کے درمیان یہ اندیشے پیدا ہورہے ہیں کہ اگر بی جے پی سے کے سی آر نے ہاتھ ملا لیا تو ٹی آر ایس سے مسلمان دوری اختیار کریں گے۔ کے سی آر نے مقامی جماعت سے حمایت حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ ٹی آر ایس کی کامیابی میں تلنگانہ کے مسلمانوں کا اہم رول رہا ہے۔ اگر کے چندر شیکھر راؤ مرکز میں اپنی پارٹی کیلئے قلمدان حاصل کریں گے تو تلنگانہ کے مسلمان اس پارٹی سے دور ہوجائیں گے۔ اس خیال کو سیاسی حلقوں میں تیزی سے گشت کرایا جارہا ہے تاہم انہی سیاسی حلقوں نے احساس ظاہر کیا ہے کہ فی الحال کے سی آر اپریل تک احتیاط کرتے ہوئے’ انتظار کرو دیکھو‘ کی پالیسی پر قائم رہیں گے۔ نریندر مودی اپریل میں اپنی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کرنے والے ہیں اس وقت تک کے سی آر خاموشی کو ترجیح دیں گے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات بھی ٹی آر ایس کیلئے اہم ہیں۔ پارٹی نے مقامی جماعت کے اتحاد کرکے بلدی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کے سی آر کے مستقبل کے منصوبوں پر نظر رکھنے والوں نے کہا ہے کہ کے سی آر ایسی کوئی غلطی نہیں کریں گے جس سے اقلیتوں میں ٹی آر ایس کے خلاف نفرت پیدا ہوجائے۔ دہلی کے تعلق سے کے سی آر کا جو کچھ بھی خفیہ ایجنڈہ ہے اس بارے میں بی جے پی کے بعض ذرائع مختلف طریقوں سے بیان کررہے ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو اور چندر شیکھر راؤ کے درمیان ترقیاتی کاموں کیلئے جاری مسابقت میں مرکز سے فنڈز کا حصول بھی کے سی آر کیلئے اہم مسئلہ ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT