Sunday , April 22 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی عدم رواداری ، سرکشی کے سبب حلیفوں میں تک غیرمقبول

بی جے پی عدم رواداری ، سرکشی کے سبب حلیفوں میں تک غیرمقبول

بلند بانگ دعوؤں اور ناکامیوں کے نتیجہ میں ملک کی صورتحال مایوس کن ، کوئی بھی شعبہ عدم سلامتی کے احساس سے محفوظ نہیں ، کانگریس کا دعویٰ
نئی دہلی ۔ 7 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج راجیہ سبھا میں بی جے پی زیرقیادت حکومت کو عدم روادار اور غرور و تکبر والی حکومت قرار دیتے ہوئے حکمرانی کے بارے میں بے اطمینانی کا اظہار کیااور کہا کہ بلند بانگ دعوے اور ناکامیوں کے نتیجہ میں بنیادی حقائق مایوس کن پائے جاتے ہیں۔ صدرجمہوریہ کے خطبہ پر پیش کردہ تحریک تشکر پر مباحث کا احیاء کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر احمد پٹیل نے کہاکہ حتیٰ کہ بی جے پی کی حلیف جماعتیں جیسے شیوسینا ، تلگودیشم یا شرومنی اکالی دل بھی حکومت کی باتوں سے غیرمطمئن دکھائی دیتے ہیں اور اُن کی بے اطمینانی صاف جھلک رہی ہے ۔ راجیہ سبھا نے تحریک تشکر پر مباحث کیلئے وقت کی گنجائش نکالنے کی خاطر آج وقفۂ سوالات کے انعقاد سے گریز کیا۔ احمد پٹیل نے کہاکہ اس طرح کے حالات کے سبب بی جے پی اُترپردیش اور جموں و کشمیر میں مقررہ لوک سبھا ضمنی چناؤ کے انعقاد کی طرف مائل نہیں ہے ، نیز بی جے پی اگر یہ ضمنی انتخابات ہارجاتی ہے تو اکثریتی نشان سے نیچے آجائے گی ۔ احمدپٹیل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملک بھر میں عدم سلامتی کا احساس جاگزیں ہورہا ہے چاہے سماجی تانے بانے کا معاملہ ہو ، معاشی اُمور ہوں ، قومی سلامتی ، عدلیہ یا آزاد دستوری اداروں کے کام کاج کی بات ہو ۔ ایسا کوئی شعبہ نہیں جو عدم سلامتی کے احساس سے بچ سکا ہے ۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ کسان ، مزدور اور دیگر شہری سب پریشان ہیں۔ بی جے پی کو 2019 ء میں شکست ہوجائے گی ۔ انھوں نے کہاکہ مرکزی بجٹ جس پر حکومت نے اپنی اُمیدیں لگا رکھی تھیں وہ بھی فلاپ ثابت ہوا ہے ۔ بی جے پی حلیف پارٹیوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے احمد پٹیل نے کہاکہ شیوسینا نے اپنی زعفرانی حلیف جماعت کو دروغ گوئی کا مورد الزام ٹھہرایا جبکہ ٹی ڈی پی نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے وعدوں سے پھر چکی ہے ۔ حتیٰ کہ اکالی دل نے کہا ہے کہ 2019 ء میں 272 لوک سبھا نشستوں کا حصول بڑا کٹھن معاملہ رہے گا ۔ بی جے پی قیادت پر چوٹ کرتے ہوئے احمد پٹیل نے کہاکہ صورتحال ایسی ہوچکی ہے کہ ضرور کچھ نہ کچھ فوری کرنا پڑے گا ۔ صدر بی جے پی امیت شاہ کے ان تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے کہ این ڈی اے حکومت سابقہ یو پی اے اقتدار کے چھوڑے گئے خلاء کو پُر کررہی ہے ، احمد پٹیل نے کہاکہ 2004ء میں جب واجپائی حکومت اقتدار سے سبکدوش ہوئی تھی سالانہ فی کس آمدنی 24,000 روپئے تھی ۔ 2014 ء میں جب منموہن سنگھ زیرقیادت حکومت نے اپنی میعاد ختم کی تب فی کس آمدنی بڑھکر 70,000 روپئے ہوچکی تھی ۔ اس کے برعکس این ڈی اے حکمرانی کے دوران قرض کی مقدار بڑھ چکی ہے ، نیز یہ واضح ہے کہ کون گڑھے کھود رہاہے ۔ بی جے پی کے قائدین صرف یہی جانتے ہیں کہ کانگریس اور گاندھی خاندان کو کس طرح بدنام کرنے کی کوشش کی جائے ۔ کرپشن کے مسئلہ پر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے احمد پٹیل نے جو سابقہ کانگریس سربراہ سونیا گاندھی کے قریبی مددگار ہیں ، مرکز سے جاننا چاہا کہ کیوں آر ٹی آئی کیلئے بجٹ گھٹادیا گیا ، کلیدی خالی جائیدادوں کو پُر نہیں کیا گیا اور لوک پال کا تقرر کیوں نہیں ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کی عددی طاقت 282 سے گھٹ کر 272 ہوچکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT