Sunday , February 25 2018
Home / Top Stories / بی جے پی فرقہ واری اختلافات پیدا کررہی ہے

بی جے پی فرقہ واری اختلافات پیدا کررہی ہے

آگ بھڑکانے کاالزام ، وزیراعظم سے جئے شاہ کی رشوت ستانی پر لب کشائی کا مطالبہ ، حیدرآباد کرناٹک میں راہول گاندھی کا خطاب

جیورگی ؍ رائچور ۔12 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ فرقوں کے درمیان اختلافات پیدا کررہی ہے اور فرقہ وارانہ منافرت کی آگ بھڑکا رہی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کرناٹک میں اپنی انتخابی مہم کے دوران یہی کام کیا ہے ۔ بی جے پی حکومت والی ریاستوں ہریانہ ، یو پی اور راجستھان میں تشدد پھیلا ہوا ہے ۔ قبل ازیں راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اپنی تنقیدوں کاسلسلہ جاری رکھتے ہوئے آج کہاکہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے فرزند کے خلاف رشوت ستانی کے الزامات کے بارے میں انھیں ( وزیراعظم مودی کو ) لب کشائی کرنا چاہئے ۔ راہول گاندھی رواں سال اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے والی ریاست کرناٹک میں اپنے تین روزہ جن آشیرواد یاترا پر ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ کرپشن کے بارے میں اظہارِ خیال سے قبل اپنی دائیں اور بائیں جانب بھی دیکھ لیا کریں۔ راہول گاندھی نے کہاکہ ’’اگر آپ (مودی ) رشوت کے بارے میں کچھ کہنا ہی چاہتے ہیں تو اپنی پارٹی کے صدر امیت شاہ کے بیٹے کی رشوت ستانی کے بارے میں بھی کچھ بولیں‘‘۔ راہول نے مودی سے کہا کہ ’’آپ ملک کو بتائیں کہ انھوں ( امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ ) نے آیا کس طرح 50,000 رروپئے کو صرف تین ماہ میں 80 کروڑ روپئے میں تبدیل کردیا ‘‘ ۔ امیت شاہ اپنے بیٹے جئے شاہ کے خلاف رشوت ستانی کے الزامات کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔ انھوں نے اُس نیوز پورٹل کے خلاف بھی فوجداری مقدمہ دائر کیا ہے جس نے دعویٰ کیا تھا کہ 2014 ء میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد اُن ( جئے شاہ ) کا کاروبار اچانک چمک اُٹھا تھا ۔ حیدرآباد کرناٹک کے علاقے میں مہم کے آغاز سے قبل اُن کے استقبال کے لئے جمع ہونے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے ریاستی بی جے پی قائدین کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کانگریس کے صدر نے کہاکہ ’’مودی جی آپ رشوت کے بارے میں بات کریں ۔ مودی جی آپ کے پاس ماضی کی باتیں کرنے کے بعد اگر کچھ وقت بچتا ہے تو آپ اپنی دائیں اور بائیں جانب ذرا دیکھ لیں۔ ایک طرف (بی ایس ) یدی یورپا ہیں جو جیل بھی جاچکے ہیں ۔ دوسری طرف کم سے کم چار ( سابق ) وزراء ہیں اور وہ بھی جیل گئے تھے اور ان کی پیچھے دیگر دو قائدین ہیں جنھوں نے رشوت ستانی کے الزامات پر استعفیٰ دیا تھا ‘‘ ۔ راہول گاندھی نے کہاکہ مودی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کسانوں کی پریشانیوں کو ختم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ’’مودی جی اس ملک کے عوام نے آپ کو کام (روزگار) دیا ۔ کسانوں نے آپ کو کام دیا۔ نوجوانوں نے آپ سے کہا تھا کہ ہمارا مقابلہ چین سے ہے ۔ چین محض 24 گھنٹوں میں 50,000 نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا ہے ۔ ( لیکن ) مودی جی ناکام ہوگئے‘‘ ۔ رائچو میں روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے صدر نے مزید کہا کہ کسانوں نے وزیراعظم سے مدد کی درخواست کی تھی ۔ انھوں نے کہاکہ ’’میں خود شخصی طورپر ان ( وزیراعظم کے دفتر گیا تھا اور ان ( کسانوں) کے قرض معاف کرنے کی درخواست کی تھی لیکن انھوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور خاموش بیٹھے رہے ‘‘۔ راہول گاندھی نے حکومت کرناٹک کی طرف سے کسانوں کے قرضوں کی معافی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ کانگریس ہے جس نے قرضوں کو معاف کیا ہے ۔کانگریس کے رہنما نے مودی حکومت کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’آپ نوجوانوں کو روزگار دینا شروع کریں ۔ آپ کسانوں کی مدد شروع کریں۔ آپ کے پاس اب زیادہ وقت باقی نہیں رہا ہے۔ ( انتخابات کیلئے ) صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے ۔یہ بھی سنا گیا ہے کہ آپ تو قبل از وقت انتخابات کا منصوبہ بھی بنارہے ہیں۔ ( چنانچہ) اب بہانہ بازی بند کریں اور کام شروع کیجئے‘‘ ۔ راہول گاندھی نے وزیراعظم کا مذاق اُڑاتے ہوئے اُن کا ایک ایسے کرکٹر سے تقابل کیا جو یہ جانے بغیر کہ گیند کدھر سے آرہا ہے صرف وکٹ کیپر کو دیکھ کر بیٹنگ کررہا ہے ۔ راہول گاندھی اپنی پارٹی کے قائدین کے ساتھ ایک بس کے ذریعہ یہاں پہونچے تھے جہاں عوام کی کثیرتعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا ۔ راہول گاندھی نے حیدرآباد ۔ کرناٹک کو خصوصی موقف دینے کے علاوہ کانگریس کی طرف سے کئے گئے مختلف اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ مستقبل میں مزید اقدامات کئے جائیں گے ۔حیدرآباد ۔ کرناٹک علاقہ اضلاع بیدر ، یادگیر ، رائچور ، کوپل ، بیلاری اور کلابرگی پر مشتمل ہے جو 1948 ء تک نظام کے زیرحکمرانی حیدرآباد کا حصہ تھا ۔ راہول نے گزشتہ روز سندھنور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’سچن تنڈولکر اگر وکٹ کیپر پر نظر رکھ کر بیٹنگ کرتے تو کیا ایک بھی رن بناسکتے تھے ؟ ( لیکن ) ہمارے وزیراعظم ایک ایسے کرکٹر ہیں جو وکٹ کیپر کی طرف دیکھتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ گیند کدھر سے آرہا ہے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT