Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / بی جے پی قومی عاملہ کا آج سے الہ آباد میںدو روزہ اجلاس

بی جے پی قومی عاملہ کا آج سے الہ آباد میںدو روزہ اجلاس

اترپردیش اسمبلی انتخابات کیلئے حکمت عملی کا تعین کیا جائیگا ۔ وزیرا عظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امیت شاہ کی شرکت کا امکان
الہ آباد 11 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) اتر پردیش کے انتہائی اہمیت کے حامل اسمبلی انتخاباتک و پیش نظر رکھتے ہوئے بی جے پی قومی عاملہ کا دو روزہ اجلاس یہاں کل شروع ہوگا جس میں امکان ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ بھی شرکت کرینگے ۔ مرکزی کابینہ کے سینئر ارکان ‘ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کے چیف منسٹرس اور ارکان پارلیمنٹ بھی اس اجلاس میں شرکت کرنیو الے ہیں۔ امکان ہے کہ اس اجلاس میں اترپردیش اسمبلی انتخابات کیلئے پارٹی کے ایجنڈہ  کو قطعیت دی جائیگی جس کیلئے اب ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے ۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری سدھارتھ ناتھ سنگھ نے جو جمعرات سے شہر میں مقیم ہیں اور تیاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں کہا کہ ان کے خیال میں یہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا بگل بجانے کے معتراف ہے اور یہ کام گذشتہ مہینے سہارنپور میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس جلسہ کے باوجود وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ الہ آباد ریاست میں سیاسی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے ۔ یہاں پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر وی پی سنگھ جیسے قائدین نے بھی سیاسی سبق سیکھا تھا

اور انہیں یقین ہے کہ یہاں منعقد ہونے والے پارٹی کے اجلاس سے ریاست میں سیاسی تبدیلی لانے بی جے پی کی کوششوں میں قدرے مدد ضرور مل سکتی ہے ۔ امیت شاہ نے شہر کے مضافات میں حال ہی میں منعقدہ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز میں بی جے پی کو اگر کسی ایک ریاست نے قطعی اکثریت دلائی ہے تو وہ ریاست اتر پردیش ہے ۔ پارٹی کے نائب صدر و اتر پردیش امور کے نگران اوم ماتھر نے کہا تھا کہ کئی مسائل ایسے ہیں جن پر قومی عاملہ کے اجلاس میں غور کیا جائیگا تاہم سب سے زیادہ توجہ کا مسئلہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا ہی ہوگا جو آئندہ سال ہونے والے ہیں۔ پارٹی کے کارکنوں میں اس قومی عاملہ اجلاس کے تعلق سے جوش و خروش پایا گیا ہے کیونکہ یہاں تین دہوں میں پہلی مرتبہ ہے جب قومی عاملہ اجلاس منعقد کیا گیا ہے ۔ شہر میں جگہ جگہ پارٹی کے پوسٹرس اور بیانرس لگادئے گئے ہیں جن پر نریندر مودی اور دوسرے قائدین کی تصاویر ہیں۔ یہاں پیر کو ایک ریلی بھی منعقد ہونے والی ہے جب قومی عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر ہوگا۔ شہر میں کئی مقامات پر ایسے پوسٹرس لگائے گئے ہیں جن پر مشن 265 پلس کا نعرہ تحریر ہے جو در اصل صدر امیت شاہ کی اختراع ہے کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست میں بی جے پی واضح اکثریت حاصل ہو۔ اتر پردیش کی اسمبلی 403 رکنی ہے ۔

کچھ پوسٹرس میں یہ بھی مطالبہ کیا یا ہے کہ سلطان پور کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی کو ریاست میں چیف منسٹری کا امیدوار نامزد کردیا جائے ۔ تاہم پارٹی ترجمان شریکانت شرما نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں کئے جاتے ہیں جو عموما دہلی میں منعقد ہوگا ہے ۔ قومی عاملہ میں اس طرح کے فیصلے نہیںکئے جاتے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں یقینی طور پر سماجوادی پارٹی کے غنڈہ راج کے مسئلہ پر غور کیا جائیگا ۔ پارٹی کارکنوں کو ایس پی کی جانب سے ہراساں کرنے کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست کو سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی سے پاک کرنے کے عزم کی پابند ہے اور اس کیلئے جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ پارٹی ریاست میں دونوں جماعتوں کا متبادل بن کر ابھریگی ۔ اتر پردیش کی 403 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کے فی الحال 50 سے بھی کم ارکان ہیں ۔ 1990 کی دہائی کے بعد سے ریاست میں پارٹی ارکان اسمبلی کی تعداد میں زبردست کمی آئی ہے ۔ پہلے یہاں پارٹلی کو اول مقام حاصل ہوا کرتا تھا ۔ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کو ریاست میں جو شاندار کامیابی ملی تھی اس کے بعد اس کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور وہ اسمبلی انتخابات میں بھی کامیابی کے تعلق سے پرامید نظر آتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT