Sunday , September 23 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی میںبڑے پیمانہ پر تبدیلیوں کا امکان

بی جے پی میںبڑے پیمانہ پر تبدیلیوں کا امکان

نئی دہلی 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے صفایہ کے بعد اندرون پارٹی کھلبلی مچی ہوئی ہے اور مختلف گوشوں سے شکست کی وجوہات کا محاسبہ کرنے اور پارٹی کے ساتھ ساتھ مرکز میں بی جے پی زیرقیادت حکومت کی کارکردگی میں نمایاں تبدیلی لانے کا مطالبہ شدت اختیار کررہا ہے۔ حکومت کو اِس وقت پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا بھی سامن

نئی دہلی 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے صفایہ کے بعد اندرون پارٹی کھلبلی مچی ہوئی ہے اور مختلف گوشوں سے شکست کی وجوہات کا محاسبہ کرنے اور پارٹی کے ساتھ ساتھ مرکز میں بی جے پی زیرقیادت حکومت کی کارکردگی میں نمایاں تبدیلی لانے کا مطالبہ شدت اختیار کررہا ہے۔ حکومت کو اِس وقت پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا بھی سامنا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی میں بڑے پیمانہ پر تنظیمی ردوبدل کیا جاسکتا ہے اور جاریہ ماہ کے اواخر تک جنرل سکریٹریز و دیگر عہدیداروں کی تبدیلی عمل میں لائی جاسکتی ہے جو نومبر 2014 ء میں مودی کابینہ میں شامل کئے گئے تھے۔ صدر بی جے پی امیت شاہ نے عہدیداروں کے انتخاب کو التواء میں رکھا تھا اور رکنیت سازی مہم پر توجہ مرکوز تھی۔ پارٹی کے ایک لیڈر نے بتایا کہ مخلوعہ عہدوں پر تقررات کے معاملہ کو امیت شاہ کی جانب سے نظرانداز کئے جانے سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اہم معاملات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ امیت شاہ کے انداز کارکردگی کو بھی دہلی انتخابات میں شکست کی ایک وجہ سمجھا جارہا ہے۔

منگل کی شب وزیراعظم نریندر مودی نے جس وقت اپنے کابینی رفقاء سے انتخابی شکست کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تب ایک سینئر وزیر نے سمجھا جاتا ہے کہ اِس بات کی نشاندہی کی کہ پارٹی کا لائحہ عمل غلط تھا

اور اِس کے تجزیہ کی ضرورت ہے۔ ایک اور سینئر لیڈر نے کہاکہ بجٹ سیشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دہلی شکست سے اپوزیشن کو نیا حوصلہ ملا ہے۔ بہار سے تعلق رکھنے والے سینئر لیڈر کیرتی آزاد نے کہاکہ اعلیٰ سطحی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ جبکہ ایک اور دہلی یونٹ سے تعلق رکھنے والے لیڈر جو آخری لمحہ میں کرن بیدی کے پارٹی میں داخلہ سے ناراض تھے، کہاکہ لمحہ آخر کا یہ فیصلہ ہماری مقابلہ کی صلاحیتوں پر اثرانداز ہوا۔ اُنھوں نے کہاکہ فیصلہ سازی سے لے کر ٹکٹس کی تقسیم اور نعرہ بازی تک ہم نے ہر معاملہ میں تاخیر کی۔ اُنھوں نے کہاکہ پارٹی پارلیمانی بورڈ کو اِس شکست کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ بی جے پی قائدین کو بہار اسمبلی انتخابات پر بھی امکانی اثرات کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ یہاں جاریہ سال کے اواخر میں انتخابات منعقد شدنی ہیں۔ بہار سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے ایک لیڈر نے کہاکہ دہلی کی یہ شکست مخالف بی جے پی طاقتوں کو متحد ہونے کا موقع فراہم کرے گی۔ پارٹی ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے یہ دلیل مسترد کردی کہ دہلی انتخابی نتیجہ مخالف بی جے پی فیصلہ ہے، اُن کا یہ کہنا ہے کہ عوام نے عام آدمی پارٹی کی حمایت کی اور بی جے پی کی مخالفت نہیں کی۔

TOPPOPULARRECENT