Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / بی جے پی وزراء بھی ڈرنا چھوڑیں اور ججوں کی طرح بولیں

بی جے پی وزراء بھی ڈرنا چھوڑیں اور ججوں کی طرح بولیں

مودی کابینہ کے ارکان خوف کے سائے میں کام کررہے ہیں ، موجودہ صورتحال 1975ء کی ایمرجنسی جیسی : یشوت سنہا

نئی دہلی ۔ /13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے ناراض لیڈر یشونت سنہا نے حکومت پر ایک اور تنقیدی وار کرتے ہوئے آج اپنی پارٹی کے رفقاء اور وزراء نے کہا کہ وہ ’’اپنے ڈر خوف سے چھٹکارہ پانے پر اور جمہوریت کے لئے کچھ بولیں ‘‘ جس طرح سپریم کورٹ کے چار ججس گزشتہ روز چیف جسٹس کے خلاف منظر عام پر آئے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر اپنے ان ریمارک کے ذریعہ ان چار ججوں کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال 1975-77 ایمرجنسی جیسی ہے ۔ انہوں نے مختصر پارلیمانی سیشن کے انعقاد پر بھی تنقید کی۔ یشونت سنہا نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ہی مفاہمت کرلیتی ہے۔ سپریم کورٹ میں نظم و ضبط نہیں رہتی تو جمہوریت خطرہ میں پڑجاتی ہے ‘‘ ۔ سنہا نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ کے چار انتہائی سینئر ججوں نے ہی اگر یہ کہہ دیا کہ جمہوریت خطرہ میں ہے تو ہمیں ان کے الفاظ کو انتہائی سنجیدگی سے لینا ہوگا ‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہر شہری جو جمہوریت کا احساس رکھتا ہے تو میں اپنی پارٹی (بی جے پی ) کے قائدین اور سینئر کابینی وزرا سے کہوں گا کہ وہ اس پر اظہار خیال کریں ۔ میں ان سے اپیل کروں گا کہ وہ اپنے ڈر خوف کو ترک کرتے ہوئے پانے کیلئے کچھ بولیں‘‘ ۔ تاہم سنہا نے اصرار کے ساتھ کہا کہ ملک کے چیف جسٹس کیخلاف گزشتہ روز چار ججوں کی عملاً بغاوت سے پیدا شدہ بحران سے خود عدالت عظمی ہی یکسوئی کرے ۔ ان ججوں نے چیف جسٹس کی جانب سے منتخب انداز میں مقدمات تفویض کئے جانے اور بعض احکام پر سوال اٹھایا تھا ۔ یشونت سنہا نے کہا کہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی طرح حکومت میں وزیراعظم ہی تمام مساویات میں سب سے پہلے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ان کے کابینی رفقاء کو چاہئے کہ وہ بھی (ایسے مسائل پر ) کچھ بولیں ‘‘ ۔ سنہا نے جو نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور کشمیر جیسے مختلف مسائل پر مودی حکومت کے کٹر ناقدین دعویٰ کیا کہ وہ شخصی طور پراس غصہ سے واقف ہیں جس میں ان حکومت کی کابینہ کے ارکان کام کررہے ہیں اور یہ بھی جمہوریت کیلئے ایک خطرہ ہے ‘‘ ۔ حکومت پر سنہا کی سخت تنقیدوں کو ماضی میں بی جے پی نے پارٹی میں انہیں وزیر فینانس ارون جیٹلی کے ذریعہ درکنار کردیئے جانے کا نتیجہ قرار دیا تھا ۔ انہیں ایک مرتبہ 80 سال میں روزگار کے خواہشمند درخواست گزار قرار دیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT