Thursday , June 21 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی پر صف بندی اور خوف کی نفسیات پیدا کرنے کا الزام

بی جے پی پر صف بندی اور خوف کی نفسیات پیدا کرنے کا الزام

راجیہ سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطاب پر مباحث ، ایوان کا اجلاس شروع ہوتے ہی ملتوی

نئی دہلی ۔ 5 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے آج برسراقتدار بی جے پی پر ملک میں عوام کی صف بندی اور خوف کی نفسیات پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اُس کی سابقہ پالیسیوں سے اس الزام کا ثبوت ملتا ہے جس میں اُس نے ملک کے غرباء کو فوائد پہونچانے کا تیقن دیا تھا ۔ اہم اپوزیشن کانگریس نے کہا کہ یہ حکومت ’’گیم چینجر ‘‘ نہیں بلکہ ’’نیم چینجر‘‘ گورنمنٹ ہے جس نے تمام محاذوں پر اپنی ناکامی کا ثبوت دیدیا ہے ۔ یہ حکومت کاشتکاروں اور غرباء کو راحت رسانی، بیروزگاروں کو روزگار فراہم کرنے اور مسئلہ کشمیر کی یکسوئی سے قاصر رہی ہے ۔ تحریک تشکر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے حکومت پر الزام تراشی کی اور کہا کہ صرف عوام ہی نہیں بلکہ سرکاری عہدیدار اور اپوزیشن قائدین سب کے سب اس حکومت سے نالاں ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اتنی اقتدار کی بھوک ہم نے قبل ازیں کبھی نہیںد یکھی تھی ۔ اگر کوئی اپوزیشن سے بات کرنے میں خوف کھاتا ہے تو یہ جمہوریت اور آزادی تقریریہاں تک کہ کاروبار کی آزادی کیلئے بھی کسی خطرے سے کم نہیں ۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن پارٹی قائدین کو امکانی دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے ۔ اُن کے فون ٹائیپ کئے جارہے ہیں ، آج کوئی بھی اُن سے ٹیلی فون پر بات نہیں کرتا کیونکہ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کافون ٹائیپ کیا جارہا ہے ۔ اپوزیشن ارکان بشمول کانگریس ، سماج وادی پارٹی ، این سی پی اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے ارکان نے صدر کے خطبہ میں 324 ترمیمات پیش کیں جو تحریک تشکر پر مباحث کاحصہ تھیں۔ قبل ازیں راجیہ سبھا کے صدرنشین ایم وینکیا نائیڈو نے سخت قدم اُٹھاتے ہوئے اپوزیشن ارکان کی نعرہ بازی پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کارروائی کو وقفہ سوالات کے آغاز کے بغیر ہی دوپہر 2بجے تک ملتوی کردیاجس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ایوان بالا کی کارروائی 11بجے دن شروع ہوئی تھی اور مقررہ مصروفیات کی فہرست پیش کی گئی جس کے مطابق وقفہ صفر میں مفاد عامہ کے مسئلہ اُٹھانے کے بعد وقفہ سوالات مقرر تھا جس میں مختلف پالیسیوں پر حکومت سے ارکان سوالات پوچھتے ہیں ۔ بالعموم ایوان کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی شوروغل کے سبب کارروائی متاثر ہوئی ہے اور کرسی صدارت مختصر وقفہ کیلئے اجلاس ملتوی کرتی اور اکثر 12 بجے دن تک اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے ۔ بعد ازاں وقفہ سوالات شروع کیا جاتا ہے۔ لیکن بی جے پی کے زیراقتدار اُترپردیش میں پولیس انکاؤنٹر میں ہلاکتوں کے خلاف سماج وادی پارٹی کے ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے تھے ۔ دوسری طرف دہلی میں تجارتی اداروں کی مہربندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے ارکان بھی ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے ۔ مزید براں کانگریس کے رکن کے وی پی رامچندر راؤ ایک بیانر تھامے وہاں پہونچ گئے ۔ اس بیانر پر ’’آندھراپردیش کے ساتھ انصاف کرو‘‘ نعرہ درج تھا ۔

TOPPOPULARRECENT