Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / بی جے پی پر مذہبی تعصب کا ماحول پیدا کرنے کا الزام

بی جے پی پر مذہبی تعصب کا ماحول پیدا کرنے کا الزام

نئی دہلی۔ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں آج اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹی کے ارکان کے درمیان فرقہ وارانہ واقعات کی ’’بڑھتی ہوئی تعداد‘‘ پر گرماگرم زبانی تکرار کے مناظر دیکھے گئے۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ارکان نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’مذہبی تعصب‘‘ کا ماحول پیدا کررہی ہے، حالانکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اق

نئی دہلی۔ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں آج اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹی کے ارکان کے درمیان فرقہ وارانہ واقعات کی ’’بڑھتی ہوئی تعداد‘‘ پر گرماگرم زبانی تکرار کے مناظر دیکھے گئے۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ارکان نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’مذہبی تعصب‘‘ کا ماحول پیدا کررہی ہے، حالانکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اقلیتوں کو تیقن دیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے حکومت کی جانب سے الزام کا جواب دیتے ہوئے کانگریس پر جوابی الزام عائد کیا کہ وہ ’’فرقہ واریت کی سیاست‘‘ کررہی ہے، جبکہ ان کی پارٹی کے ارکان نے پرزور انداز میں کہا کہ ریاستی حکومتوں کو چاہئے کہ نظم و قانون کے مسائل سے نمٹیں اور پارلیمنٹ میں الزامات عائد نہ کریں۔ ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہم فرقہ وارانہ سیاست پر عمل نہیں کرتے۔

ہماری حکومت کا نعرہ ہے ’’سب کیلئے ترقی اور کسی کی بھی خوشامد نہیں‘‘۔ وینکیا نائیڈو کا تبصرہ ایک ایسے وقت منظر عام پر آیا جبکہ ایوان میں سلسلہ وار فرقہ وارانہ واقعات جیسے کہ ہریانہ کے ایک گرجاگھر میں حالیہ توڑ پھوڑ کا واقعہ، 70 کی دہائی کی عمر والی راہبہ کی مغربی بنگال میں عصمت ریزی اور بی جے پی قائد سبرامنیم سوامی کا آسام میں قابل اعتراض بیان پر گرماگرم تکرار جاری تھی۔ اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹیوں کے ارکان کے درمیان زبردست زبانی تکرار ہورہی تھی۔ سوامی کے مبینہ تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ’’مسجدیں مذہبی مقام نہیں ہیں اور انہیں شہید (منہدم) کیا جاسکتا ہے‘‘۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہم ایسے بیانات سے مکمل طور پر عدم اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے اظہار حیرت کیا کہ کیا ایسے تمام انفرادی مسائل ایوان میں اٹھائے جائیں گے۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس نے متحدہ طور پر بی جے پی پر تنقید کی۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان بھی ایک دوسرے پر الزام تراشی کا منظر دیکھا گیا۔ ممتا بنرجی حکومت کے دور اقتدار میں راہبہ کی عصمت ریزی کے واقعہ کے سلسلے میں کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری نے الزام عائد کیا کہ کلیدی ملزم کو ہنوز گرفتار نہیں کیا گیا، حالانکہ اس کی تصویر کیمرہ میں موجود ہے۔ ترنمول کانگریس کے ارکان نے احتجاج کیا۔

بی جے پی کے ایس ایس اہلووالیہ نے بھی مغربی بنگال کی برسراقتدار پارٹی پر تنقید کی جس کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے قائدین کلیان بنرجی اور سوگٹ رائے نے جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات اس لئے پیش آرہے ہیں تاکہ بی جے پی کی جانب سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جاسکے ۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ارکان نے حکومت پر تنقید جاری رکھی۔ اسپیکر سمترا مہاجن کو ایک بار پھر نظم و ضبط کی برقراری کے لئے اُٹھ کر کھڑا ہونا پڑا۔ انہیں برہمی کے انداز میں کانگریسی قائد ملکارجن کھرگے سے یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ وہ اپنے پارٹی ارکان کو ہنگامہ کرنے سے روکیں۔ اسپیکر نے دریں اثناء کانگریس کے گورو گوگوئی کو اس مسئلہ پر تقریر کرنے کیلئے مدعو کیا جب کانگریس کے ارکان اپنا موقف نرم کرنے پر تیار نہ ہوئے اور ایوان کے وسط میں جمع ہوکر حکومت سے تفصیلی بیان دینا کا مطالبہ کرنے لگے اور سوال کیا کہ ایسے واقعات کا تسلسل کیوں جاری ہے۔ حالانکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اقلیتوں کو تیقن دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT