Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی کوئی اعتراض سے قبل اپنا احتساب کرے:کانگریس

بی جے پی کوئی اعتراض سے قبل اپنا احتساب کرے:کانگریس

صدر کانگریس کے انتخاب پر سوال فضول، بھگوا پارٹی راہول فوبیا میں مبتلا

نئی دہلی 4دسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے اپنے صدر کے عہدے کے انتخاب پر سوال اٹھانے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے ۔پارٹی ہیڈکوارٹر میں آج یہاں صدر کے عہدے کے لئے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کے کاغذات نامزدگی داخل کئے جانے کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈروں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ جو بی جے پی مکمل طور پر آر ایس ایس کے ذریعہ چلائی جاتی ہے وہ کانگریس کے جمہوری عمل پر سوال اٹھائے ، تو اس سے بڑا مذاق اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ کانگریسی لیڈروں نے کہا کہ بی جے پی صدر امت شاہ کا انتخاب کیسے ہوا یہ سب جانتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے راہول گاندھی کے کاغذات نامزدگی داخل کرنے پر کہا کہ وہ پارٹی کے ہردلعزیز لیڈر ہیں اور وہ پارٹی کی عظیم روایات کو آگے بڑھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے 19 سال تک پارٹی کی خدمت کی ہے اور عظیم روایات کو آگے لے جانے کی سمت میں یہ ایک اہم قدم ہے “۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے کہا کہ جس پارٹی کا آزادی کی لڑائی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں کوئی اہم کردار ادا نہیں رہا ہے ، وہ کانگریس جیسی پارٹی کو جمہوریت کا سبق نہ پڑھائے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریسی لیڈروں نے جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور گاندھی خاندان نے ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لئے سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے ۔پارٹی کے میڈیا انچارج رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مودی اور ان کی پوری کابینہ کو راہول گاندھی کا ‘ فوبیا’ ہو گیا ہے ۔ مودی گزشتہ 48 گھنٹوں سے راہول گاندھی کے خلاف جس طرح کی اوچھی اور نیچ زبان استعمال کر رہے ہیں ، اس سے ان کی بوکھلاہٹ کا پتہ چلتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور امیت شاہ کو کانگریس پر سوال اٹھانے سے پہلے یہ بتانا چاہئے کہ وہ اپنے سینئر رہنماؤں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کر رہے ہیں اور ان کے سوالات کا جواب دینا چاہئے ۔پارٹی کے سینئر لیڈر منی شنکر ایئر نے کانگریس میں نسل پرستی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں صدر کے عہدے کا انتخاب مکمل طور جمہوری عمل سے ہو رہا ہے ۔ نسل پرستی میں کوئی جمہوریت نہیں ہوتی ہے ۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بابر کے بعد اس کے بیٹے اکبر اور اکبر کے بعد شاہجہاں اور شاہجہاں کے بعد اورنگ زیب کو حکمرانی کا تخت ملا، اسے نسل پرستی کہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT