Tuesday , January 23 2018
Home / اداریہ / بی جے پی کو آر ایس ایس کی ہدایت

بی جے پی کو آر ایس ایس کی ہدایت

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ بی جے پی کو آر ایس ایس کی ہدایت

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ
چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ
بی جے پی کو آر ایس ایس کی ہدایت
سیکولرازم ہمارے دستور کا ایک اہم حصہ ہے۔ لوک سبھا کے حالیہ انتخابات کو بی جے پی نے رشوت ستانی کے خاتمہ، ترقی اور روزگار فراہم کرنے کے مسائل پر مقابلہ کرکے کامیاب کیا ہے۔ بی جے پی کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس نے اس شاندار کامیابی پر نریندر مودی اور بی جے پی دونوں کو ہدایت دی کہ وہ عوام سے یکساں اور مساویانہ سلوک رکھے۔ یہ خیال پایا جاتا ہے کہ بی جے پی کی کامیابی نے ملک کی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو تشویش و فکر میں مبتلا کردیا ہے۔ بی جے پی کے قائدین کو سب سے پہلے اس تشویش کو دور کرنے کی ضرورت ہوگی۔ آر ایس ایس نے بی جے پی کی کامیابی کو عدیم المثال قرار دیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہاکہ پارٹی کی قیادت میں تشکیل پانے والی حکومت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ کسی جانبداری یا امتیاز کے بغیر ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔ آر ایس ایس کا یہ سلجھا ہوا بیان وقت کی رفتار کے ساتھ یا حکومت سازی کے شور میں دب کر رہ جائے تو پھر بی جے پی اس بیان کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر ہوگی۔ بی جے پی نے انتخابات میں شاندار کامیابی اس لئے حاصل کی ہے کیوں کہ اس نے بدعنوان کانگریس کا ہندوستان سے صفایا کرتے ہوئے عوام کو ایک اچھی حکمرانی دینے، تعلیم اور صحت کے معاملہ پر توجہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ مسائل ذات پات یا رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کیلئے مشترکہ ہیں۔ مسلمانوں میں اعتماد پیدا کرکے اپنے راج دھرم کو روبہ عمل لانے میں بی جے پی دیانتدارانہ مظاہرہ کرتی ہے تو ہر شہری کے ساتھ انصاف ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ان انتخابات میں ہر پارٹی اور امیدوار نے رائے دہندوں کے سامنے خود کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کے ساتھ حصہ لیا تھا۔ اپنے سینوں پر سیکولرازم کا تمغہ لگاکر ووٹ مانگنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں تھی لیکن اب بی جے پی حکومت میں لفظ سیکولرازم پس منظر میں چلا جائے تو اس کے کئی بھیانک عوامل و نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ بی جے پی قائدین سیاسی شاطر کے طور پر اپنی چالیں بڑی مہارت سے چلتے ہیں اس لئے یہ اندازہ لگانا آسان نہیں کہ اس کے آستین میں چھپے پرندہ کا رنگ کیا ہے اور وہ کس وقت کون سے کرتب کا ارادہ کئے بیٹھے ہیں۔ عمومی اندازہ اور قیاس کی بات کی جائے تو یہی گمان گزرتا ہے کہ بی جے پی کی حکومت آئین کے مطابق آخری لمحہ تک حکمرانی کے فرائض انجام دے گی۔ اپنی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کی ابتدائی ہدایات پر عمل کرے گی۔ وزیراعظم کے طور پر عنقریب حلف لینے والے نریندر مودی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ’’سب کو ساتھ لے کر چلیں گے‘‘۔ ہندوستان میں ہر چھوٹے بڑے بحرانوں سے قطع نظر مودی کی سب سے اہم ترجیح یہی ہونی چاہئے کہ ان کے تعلق سے پائے جانے والے اندیشوں کو غلط ثابت کیا جائے۔ گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے سلوک کے حوالے سے ہندوستانی مسلمانوں کو امن و امان کی غارت گری اور کھلی دشمنی کا اندیشہ ہے۔ اس لئے نریندر مودی کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ طبعاً جمہوری ذہن اور سیکولر مزاج کے حامل ہیں۔ انھیں سیاسی مہم جوئی کا شوق تو ہے مگر وہ خلاف آئین کوئی قدم نہیں اُٹھائیں گے۔ اُنھوں نے ملک کے عوام سے کئے گئے پہلے وعدے کو پورا کرتے ہوئے کانگریس سے چھٹکارا دلایا ہے۔ دیگر وعدوں جیسے رشوت سے پاک حکمرانی، بہتر تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی ترقی پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ اب تک سیاسی پارٹیوں نے ووٹ بینک کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے سیکولرازم کو مختلف شکلوں میں پیش کرکے اپنا فائدہ حاصل کیا ہے۔ ماضی میں بی جے پی کی حکومت میں مسلمانوں نے پارٹی کے سینئر لیڈر اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پر اعتماد کا اظہار کیا تھا لہذا ملک کے مسلمانوں کا مشترکہ مطالبہ یہی ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے، ان پر ظلم نہ کیا جائے۔ انصاف سے محروم نہ رکھا جائے۔ ان میں عدم تحفظ کے احساس کو دور کیا جائے۔ اب تک ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کا وعدہ کرنے والی پارٹیوں نے ہی انھیں سب سے زیادہ غیر محفوظ بناکر چھوڑ دیا تھا۔ اب بی جے پی کو اقتدار ملا ہے تو مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا اور شدید ہوگا لہذا آر ایس ایس کے مطابق بی جے پی کو راج دھرم پر عمل کرتے ہوئے تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہئے۔ ہندوستان کیلئے اچھے دن لانے کا منصوبہ رکھنے والے مودی کو مسلمانوں کے بُرے دن آنے کی اصطلاح کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔ بی جے پی اور نریندر مودی کو ہندوستانی سیاست خاص کر کانگریس کی سیاست کی مکھی پر مکھی مارنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ خالص معاشرتی موضوعات پر توجہ کرنا ضروری ہے۔ ان کے حلقہ بگوش عناصر اگر انھیں ایسا نہیں کرنے دیتے ہیں تو حکمرانی کا فرض متزلزل ہوجائے گا۔ ملک کی سب سے بڑی منتخب جماعت کی قیادت کو یہ یاد دہانی بھی کرائی جاتی ہے کہ بی جے پی کی کامیابی سے ایک روشن خیال معاشرے کیلئے چراغ جلانے میں مدد ملے گی یا فسطائیت کے طلبگاروں کو کھلی چھوٹ حاصل ہوگی۔ اگر اس 125 کروڑ لوگوں کے ملک کے چند مٹھی بھر افراد، انسانوں کا خون چوسنے کے عادی بن جائیں تو بلاشبہ مسائل کے انبار لگ جائیں گے۔
شیئر مارکٹ میں اُچھال
مرکز میں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کے قیام کے یقین کے ساتھ ہی شیئر مارکٹ میں زبردست اُچھال آگیا ہے۔ یہ 6.1 فیصد ریکارڈ نشانہ چھو گیا۔ حکومت سازی کے عمل کے دوران شیئر مارکٹ میں مزید اُچھال درج کیا جاتا ہے تو یہ ایک عارضی مرحلہ بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ تمام بڑی کمپنیوں کے شیئرز کی مانگ بڑھے گی تو اچانک گھٹے گی۔ اس لئے شیئرز کے کاروبار میں دلچسپی رکھنے والوں کو مزید شیئرز کی خریدی میں احتیاط کا رجحان بھی دیکھا جارہا ہے۔ شیئرز فروخت کرنے کیلئے یہ سیزن موافق معلوم ہوتا ہے۔ انتخابی نتائج سے مارکٹ والوں کی اُمیدیں بھی مزید قوی ہوگئی ہیں۔ مرکز میں ایک مضبوط کابینہ ہوگی تو معاشی سطح پر ہندوستان کی ترقی کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔ مستقبل کی پیش بندی کرتے ہوئے سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر شیئرز مارکٹ پر سرمایہ لگایا ہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ ماضی کے ابتر رجحانات کا شکار بھی ہوجائے لیکن بی جے پی کو واضح اکثریت ملنے سے سرمایہ داروں میں اعتماد پیدا ہوا ہے۔ اور ان کا یہ اعتماد ہی شیئر مارکٹ کو مزید مستحکم کرسکتا ہے کیوں کہ سرمایہ داروں نے ایک مستحکم حکومت کو سامنے دیکھ کر سرمایہ کاری کی ہے تو اس کے مثبت نتائج کی توقع کی جارہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کے حوصلے بھی بلند ہوں تو مودی کے دور حکومت میں شرح پیداوار 10 فیصد نشانہ تک پہونچنے کی توقع ہوگی۔ ہندوستان کی شرح پیداوار کیلئے شیئر مارکٹ میں بڑے پیمانہ پر اُچھال کو بہتر سمجھا جارہا ہے لیکن ہندوستان جیسے بڑے ملک میں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ کئی نشیب و فراز بھی آسکتے ہیں۔ اس لئے سرمایہ مارکٹ کو اندھے عقیدہ سے دیکھنے کے بجائے چالاک سرمایہ کاروں کی طرح عام سرمایہ کاروں کو بھی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوگی۔ نتائج کے پہلے ہی دن آئی سی آئی سی آئی، ایچ بی سی ایل، بی پی سی ایل کے شیئرز میں زبردست اُچھال درج کیا گیا لیکن یہ نتائج کے موقع پر ایک عارضی اُچھال ہے آئندہ 60 ماہ کے دوران شیئرز مارکٹ کی سطح کس نشانہ پر پہونچتی ہے یہ سرمایہ کاروں کیلئے اہم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ 1984 ء کے بعد کسی پارٹی کو سب سے بڑی واحد پارٹی ہونے کا موقف حاصل ہوا ہے تو سرمایہ مارکٹ والوں کیلئے اہمیت رکھتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT