Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / بی جے پی کو بقاء کی فکر، اوچھے ہتھکنڈوں و فتویٰ کی سیاست کا اندیشہ

بی جے پی کو بقاء کی فکر، اوچھے ہتھکنڈوں و فتویٰ کی سیاست کا اندیشہ

مسلم ووٹ کو تقسیم کرنے شمالی ہند کے چند ضمیر فروشوں سے رابطہ، سیکولر ہندوؤں کو کانگریس سے بدظن کرنے کی کوششیں ہونگی

حیدرآباد۔17نومبر(سیاست نیوز) گجرات انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے بقاء کا مسئلہ بن چکے ہیں اور بی جے پی کی اعلی قیادت گجرات میں کامیابی کے حصول کے لئے ہر اوچھے ہتھکنڈے کو اختیار کرنے کے لئے تیار ہے بلکہ اس مقصد میں کامیابی کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی رنگ برنگی ٹوپیوں اور دستاروں کو بھی استعمال کرنے کی تیاری میں مصروف ہے۔ انتخابات سے عین قبل فتوے کی سیاست کے امکانات کو بھی مسترد نہیں کیا جا رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ عین انتخابات سے قبل مسلمانو ں کو بھارتیہ جنتاپارٹی کے حق میں ووٹ کے استعمال کو حرام قرار دیتے ہوئے اکثریتی ووٹ کو متحد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔گجرات فسادات 2002 کے بعد نریندر مودی نے ڈسمبر 2002 میں ضمنی انتخابات میں کامیابی کیلئے جو حکمت عملی اختیار کی تھی اس میں’ فتوی سیاست‘ کا اہم رول تھا اور فتوی کے نام پر جاری کردہ بیان کے فوری بعد وشوا ہندو پریشد نے اکثریتی رائے دہندوں کو متحد کرنے اور نام نہاد فتوے کے خلاف سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے نریند مودی کو کامیاب بنانے کیلئے مہم شروع کردی جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ خطوط پر ہوئی رائے دہی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گجرات انتخابات میں بھی بی جے پی نے اترپردیش اور بہار کی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بہر صورت مسلم ووٹ کو تقسیم کرنے کے علاوہ پٹیل برادری کے ووٹ کو نشانہ بنایا جائے تاکہ ان ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ اٹھایا جاسکے۔ شمالی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے چند ضمیر فروشوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے رابطہ قائم کرتے ہوئے انہیں گجرات میں انتخابی مہم کے دوران استعمال کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی ایماء پر کانگریس کیلئے بھی نام نہاد علماء و مشائخین کے ذریعہ بیانات جاری کرواتے ہوئے اکثریتی طبقہ کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے گی کہ مسلمان کانگریس کے ساتھ ہو چکے ہیں اور سیکولر ذہن رائے دہندوں کو منتشر کیا جائے گا۔

بتایاجاتاہے کہ اس مقصد کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلمانوں کے مخصوص فرقوں کے سرکردہ مشائخین کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے مطابق ان مشائخین سے رابطہ کیا جا رہا ہے جو ’’صوفی کانفرنس‘‘ کا حصہ رہے ہیں اور ان میں بیشتر ذمہ داروں نے گجرات انتخابات کے دوران اپنے حلقہ اثر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں رائے دہی کروانے کا تیقن بھی دیا ہے ۔ اترپردیش میں ہو ئے انتخابات میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اترپردیش کی شیعہ برادری اور بعض سنی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد اور مسلم خواتین نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں ووٹ استعمال کیا ہے اور یہی تاثر گجرات میں دیتے ہوئے گجرات کے بوہرہ‘ اسمعیلی کھوجہ ‘ کھوجہ اثناء عشری‘ اور شیعہ ووٹ کو تقسیم کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور مسلک دیوبند سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو اہل سلسلہ سے متنفر کرتے ہوئے انہیں دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نریندر مودی کے قریبی رفیق تصور کئے جانے والے سرکردہ سرمایہ کار جن کا تعلق مسلک دیوبند سے ہے اور وہ گجرات سے ہی تعلق رکھتے ہیں ان کے ذریعہ گجرات میں رہنے والے اہل دیوبند مسلمانوں کو رجھانے کی حکمت عملی بھی تیار کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس مقصد کیلئے سینہ بہ سینہ مہم چلاتے ہوئے ووٹ منتشر کئے جائیں گے۔ کانگریس کو گجرات میں مسلمانوں کی تائید اور سیکولر ووٹوں کے ساتھ ساتھ پٹیل برادری کی تائید حاصل ہونے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حلقوں میں پیدا ہونے والی ہلچل کے نتیجہ میں کی جانے والی ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے ضروری ہے کہ مسلم ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے کی حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ مسلم ووٹ متحدہ طور پر استعمال ہوں تو اس کا فائدہ سیکولر قوتوں کے ساتھ انتخابی ساجھے داری کو ممکن بنا سکتا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات میں جن لوگوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں ہے بلکہ وہ ہر وقت اصحاب اقتدار کی چوکھٹ پر رہنے والے رہے ہیں انہیں اپنے منصب و مرتبہ سے زیادہ اپنے اطراف سیکیوریٹی اور لوگوں پر دبدبہ کی فکر لاحق ہوتی ہے اسی لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں اقوام کے مستقبل کی نہیں بلکہ اپنے مقام کی پرواہ ہے۔ہماچل پردیش انتخابات میں مسلم رائے دہندوں کی کوئی خاطر خواہ تعداد نہیں ہے اسی لئے ہماچل پردیش میں کوئی سرکردہ مسلمان کی سرگرمی نظر نہیں آرہی ہے بلکہ گجرات انتخابات میں مسلم چہروں کو استعمال کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اس کوشش کے پس پردہ آر ایس ایس بھی ہے جو راشٹریہ مسلم منچ کے اندریش کمار کے توسط سے ضمیر فروشوں کی ٹولی کو یکجا کرتے ہوئے مسلم رائے دہی میں اضافہ کے نام پر ان کے ووٹ تقسیم کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔پٹیل پاٹی دار احتجاج اور جی ایس ٹی کے بعد تجارتی برادری میں پائی جانے والی برہمی کو دور کرنے کے اقدمات کے ساتھ ریاست میں مسلم ووٹ کی تقسیم کے بغیر بی جے پی کو کامیابی کی کوئی امید نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT