Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / بی جے پی کو ووٹ دینے والے اب پچھتارہے ہیں

بی جے پی کو ووٹ دینے والے اب پچھتارہے ہیں

قیادت کو بھی احساس ہونے لگا ، آئندہ انتخابات کیلئے ذات پات ، فرقہ پرستی اور فسادات کی حکمت عملی

کرناٹک میں کانگریس کی بھی جوابی حکمت عملی
تملناڈو اور مغربی بنگال میں عوام نے
زعفرانی پارٹی کو مسترد کردیا
جنوبی ریاستوں میں پارٹی کا موقف انتہائی کمزور

حیدرآباد۔22اکٹوبر(سیاست نیوز) بی جے پی اور مودی کا جادو ملک کی ان ریاستوں سے ختم ہونے لگا ہے جہاں بی جے پی کو 2014عام انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دینے والوں نے اندرون تین سال پچھتاوے کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے اور بی جے پی اعلیٰ قیادت کو اس بات کا اندازہ ہونے لگا ہے اور وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ان ریاستوں پر توجہ مرکوز کرنے لگی ہے جہاں بی جے پی امیدواروں کو توقع کے مطابق کامیابی نہیں ملی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بی جے پی نے آئندہ انتخابات میں پارٹی امیدواروں کو ہونے والی شکست کے خدشہ کو دور کرنے اور امکانی شکست کے سبب ارکان پارلیمان کی تعداد میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کیلئے ان ریاستوں کی جانب سے توجہ دینی شروع کردی ہے جہاں بی جے پی کا اثر نہیں ہے۔جنوبی ہند کی ریاستو ںمیں بی جے پی نے ریاست کرناٹک میں اپنے اثر کو مزید مستحکم کرنے کیلئے حکمت عملی تیار کرلی ہے اور اس حکمت عملی کے تحت ریاستی اسمبلی پر اپنا قبضہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ملک سے ذات پات کے نظام کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت کیساتھ ساتھ ہر طبقہ کی مساوی ترقی کی بات ہوتی ہے اور بعض ایسے طبقات بھی ہیں جنہیں ان کی ذات کے نام سے پکارا جانا جرم قرار دیا جا چکا ہے لیکن ہندستانی سیاست میں اب نئے دور کا آغاز ہونے جار ہا ہے ۔

کرناٹک میں مجوزہ اسمبلی انتخابات سے قبل کرناٹک میں موجود ذات پات کے نظام میںبڑی تبدیلیا ں دیکھی جانے لگی ہیں اور ہر سیاسی جماعت جنوبی ہند کی اس اہم ریاست پر اقتدار کیلئے اپنی اپنی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے ۔ کرناٹک میں بی جے پی اور کانگریس کی جانب سے ریاست میں پائے جانے والے اہم طبقات کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ریاست کی ترقی اور ریاست کے شہریوں کے حقوق کیلئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ملک بھر میں آندھرا پردیش‘ تلنگانہ ‘ کیرالا ‘ اڈیشہ ‘ تملناڈو‘ مغربی بنگال ایسی ریاستیں ہیں جہاں بی جے پی کا موقف انتہائی کمزور ہے اور بی جے پی کو 2014عام انتخابات میں ان ریاستوں میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی لیکن جنوبی ہند کی ریاستو ںمیں کرناٹک ایک ایسی ریاست ہے جہاں بی جے پی کو 2014 عام انتخابات میں 28 پارلیمانی نشستوں کے منجملہ 17پارلیمانی نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے اور بی جے پی اس کامیابی سے پر امید ہے لیکن کرناٹک میں برسراقتدار سدا رامیا کی زیر قیادت کانگریس حکومت نے بھی اپنی حکمت عملی تیار کرنی شروع کر دی ہے ۔ بی جے پی ملک میں مخالف بی جے پی لہر کو روکنے میں ناکامی کے بعد ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی کا اثر نہیں ہے ان علاقو ں میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کی سازشیں شروع کر دی ہیں اور ان سازشوں کے تحت ہی بی جے پی اور سنگھ پریوار کی جانب سے کیرالا میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مغربی بنگال میں بھی فرقہ وارانہ فسادات کرواتے ہوئے عوام میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی جاچکی ہے ۔

اب بی جے پی کی نظریں کرناٹک پر مرکوز ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کرناٹک سے ہی امید ہے اسی لئے بی جے پی کرناٹک میں جنتال دل (سیکولر) کو بھی اپنا حلیف بنانے کے متعلق غور کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں مشاورت بھی شروع کی جا چکی ہے ۔ کرناٹک میں کانگریس کو یکا وتنہا کرنے کے علاوہ طبقاتی بنیادوں پر ہونے والی رائے دہی کو اپنا نے کیلئے مختلف طبقات کی نمائندگی کرنے والے سرکردہ قائدین کو بی جی پی میں شمولیت اختیار کروانے پر زور دیا جا رہا ہے ۔ کانگریس نے اپنی حکمت عملی و منصوبہ بندی تیار کرنی شروع کر دی ہے اور اس بات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے کہ کرناٹک میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کیلئے بی جے پی کی سازش کو ناکام بنایا جائے اور علاقائی مسائل کی بنیاد پر انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنایا جائے۔ بی جے پی کو جنوبی ہند کی ریاستوں میں 2014عام انتخابات میں خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا آندھرا پردیش میں تلگودیشم پارٹی سے اتحاد کے باوجود بی جے پی کو صرف دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی جبکہ تلنگانہ میں صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اسی طرح تملناڈو میں بھی ایک ہی نشست پر کامیابی حاصل کر پائی تھی کیرالا میں تو عوام نے بی جے پی کو پوری طرح سے مسترد کردیا تھا اور اس ریاست سے ایک امیدوار بھی کامیاب نہیں ہو پایا تھا لیکن کرناٹک میں حاصل ہونے والی کامیابی کو برقرار رکھنے کیلئے کی جانے والی کوششوں میں مصروف بی جے پی اس ریاست کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے یا پھر زہر آلود تقاریر کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT