Sunday , November 19 2017
Home / سیاسیات / بی جے پی کو پنویل اور کانگریس کو بھیونڈی میں کامیابی

بی جے پی کو پنویل اور کانگریس کو بھیونڈی میں کامیابی

مالیگاؤں میں کانگریس کو پہلا اور این سی پی ۔ جنتادل اتحاد کو دوسرا مقام، شیوسینا کو ہزیمت
ممبئی ۔ 26 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا کی تین بلدیات کے انتخابات میں بی جے پی کو پنویل میں بھاری اکثریت سے کامیابی ملی ہے جبکہ پارچہ بافی کے شہروں مالیگاؤں اور بھیونڈی میں کانگریس اپنی بنیادوں کو دوبارہ مضبوط کرتے ہوئے سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری ہے۔ یہ نتائج ایک ایسے وقت جاری ہوئے ہیں جن سے کچھ عرصہ قبل بی جے پی نے 13 میونسپل کارپوریشنوں، 25 ضلع پریشدوں اور 210 میونسپل کونسل و  نگر پنچایتوں کے انتخابات میں مثالی کامیابی حاصل کی تھی۔ پنویل کارپوریشن کی 78 نشستوں کے منجملہ بی جے پی نے 51 اور کسان مزدور پارٹی (پی ڈبلیو پی) نے 25 پر کامیابی حاصل کی ہے۔ بی جے پی نے پنویل میں سابق رکن پارلیمنٹ رام ٹھاکر اور ان کے فرزند و بی جے پی رکن اسمبلی پرشانت ٹھاکر کی قیادت میں مہم چلائی تھی۔ بی جے پی کے اس کامیابی سے کانگریس این سی پی اور بی جے پی کی  حلیف شیوسینا کا عملاً صفایا ہوگیا ہے لیکن  جہاں تک بھیونڈی اور مالیگاؤں کاتعلق ہے، کانگریس کو اہم کامیابیاں ملی ہیں اور بی جے پیکا صفایا ہوا ہے۔ مالیگاؤں کے 84 رکنی بلدی ادارہ میں کانگریس 28 نشستوں پر قبضہ کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری ہے۔ این سی پی ۔ جنتادل اتحاد کو 26 نشستوں کے ساتھ دوسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ شیوسینا کو 13 اور مجلس کو 7 نششستیں ملی ہیں اور حیرت انگیز طور پر بی جے پی کو صرف 9 نشستوں پر اکتفا کرنا پرا ہے۔ 90 رکنی بھیونڈی مجلس بلدیہ میں کانگریس کو 46 نشستیں ملی ہیں۔ بی جے پی اپنا جادو نہیں چلا سکی اور اس کو صرف 20 نشستیں حاصل ہوئیں۔ شیوسینا کو 13 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔
خانگی کمپنیوں کے دودھ سے کینسر کا اندیشہ
چینائی 26 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ٹاملناڈو کے ریاستی وزیر ڈیری ڈیولپمنٹ راجندر بالاجی ایک تنازعہ میں پھنس گئے ہیں کیوں کہ اُنھوں نے دودھ کے تعلق سے بعض عجیب تبصرے کئے ہیں۔ سرکاری ملکیتی آون انٹرپرائزس کے حق میں بات کرتے ہوئے وزیر موصوف نے صارفین کو آون کا دودھ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ زیادہ صحت بخش ہے۔ بالاجی کا دعویٰ ہے کہ پرائیوٹ کمپنیوں کی جانب سے فروخت کیا جانے والا دودھ کینسر کا باعث ہوتا ہے اور خاص طور پر بچوں میں کینسر کا اندیشہ رہتا ہے۔ رویندر بالاجی نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ خانگی کمپنیوں کا فروخت کیا جانے والا دودھ ملاوٹ شدہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کئی دن تک وہ خراب نہیں ہوتا۔ دوسری طرف آون مِلک ایسا ہی خالص ہے جیسا کہ ماں کا دودھ۔

TOPPOPULARRECENT