Wednesday , January 17 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی کو یوپی کنٹونمنٹ انتخابات میں ناکامی

بی جے پی کو یوپی کنٹونمنٹ انتخابات میں ناکامی

لکھنو 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کو یو پی کے 13 کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں سے بیشتر میں شرمناک شکست کا سامنا کیا۔ ان کے نتائج پیر کے دن منظر عام پر آئے تھے۔ بی جے پی بیشتر مقامات پر بشمول انتہائی اہم شخصیتوں کے انتخابی حلقوں وارناسی جہاں کی نمائندگی وزیراعظم نریندر مودی کرتے ہیں اور لکھنو جہاں کی نمائندگی مرکزی وزیرداخلہ راجنا

لکھنو 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کو یو پی کے 13 کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں سے بیشتر میں شرمناک شکست کا سامنا کیا۔ ان کے نتائج پیر کے دن منظر عام پر آئے تھے۔ بی جے پی بیشتر مقامات پر بشمول انتہائی اہم شخصیتوں کے انتخابی حلقوں وارناسی جہاں کی نمائندگی وزیراعظم نریندر مودی کرتے ہیں اور لکھنو جہاں کی نمائندگی مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کرتے ہیں، ناکام رہی۔ حالانکہ کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات سیاسی پارٹیوں کے انتخابی نشانات پر منعقد نہیں کئے جاتے لیکن بی جے پی کی ناکامیوں سے اُسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس نے سرکاری طور پر جن امیدواروں کو بڑے شہروں میں نامزد کیا تھا وہاں کی مقامی قیادت نے انتخابی مہم میں سرگرم حصہ لیا۔ تقریباً 15 ہزار رائے دہندے وارناسی کنٹونمنٹ انتخابات کے 7 حلقوں میں ووٹ دے چکے ہیں لیکن بی جے پی ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

آزاد امیدواروں نے تمام 7 حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔ بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 71 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور 2 نشستوں پر اس کی حلیف اپنا دل کامیاب رہی تھی لیکن صرف 4 ماہ بعد اُسے یوپی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں 11 میں سے 9 نشستیں کھو دینے پڑیں۔ برسر اقتدار سماج وادی پارٹی نے حیرت انگیز طور پر دوبارہ برسر اقتدار آنے میں کامیابی حاصل کی۔ روہانیہ کی انتخابی ناکامی وارناسی اسمبلی حلقہ سے جو وزیراعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ ہے، بی جے پی کے لئے سب سے بڑا دھکہ ثابت ہوا۔ کانگریس رکن اسمبلی پنڈارا اجئے رائے جنھوں نے نریندر مودی کے خلاف مقابلہ کیا تھا کہاکہ بی جے پی نے کافی شوروغل مچایا تھا جب اس نے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی

لیکن اب وہ بے نقاب ہوگئی ہے اور ناکامی کی راہ پر ہے۔ لکھنؤ میں مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے فرزند پنکج سنگھ نے بی جے پی کے نامزد امیدواروں کی انتخابی مہم چلائی تھی لیکن اِس کے باوجود 8 حلقوں میں اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی جو لکھنو کنٹونمنٹ بورڈ میں واقع ہے۔ سماج وادی پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 8 نشستوں میں سے 4 پر کامیابی حاصل کی۔

باقی نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب رہے۔ آگرہ میں بی جے پی کے حمایت یافتہ تمام امیدوار جنھیں کنول کے پھول کا انتخابی نشان دیا گیا تھا اور مرکزی وزیر مملکت رما شنکر کٹہیریا نے اُن کے لئے انتخابی مہم بھی چلائی تھی لیکن پارٹی صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل کرسکی۔ پڑوسی علاقہ متھورا میں بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدوار سات حلقوں میں سے صرف دو پر کامیاب ہوسکے۔ کانپور میں بی جے پی حمایت یافتہ امیدوار 8 نشستوں میں سے 4 پر کامیاب رہے۔ بریلی میں آزاد امیدواروں نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ 3 نشستوں پر بی جے پی کو دوسرا مقام حاصل ہوا۔ الہ آباد میں کنٹونمنٹ بورڈ کی 7 نشستوں میں سے بی جے پی کو صرف ایک نشست حاصل ہوئی۔ فیض آباد (ایودھیا) میں بی جے پی 7 نشستوں میں سے ایک بھی حاصل نہیں کرسکی۔

TOPPOPULARRECENT