Monday , November 19 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی کو 110 پارلیمانی حلقوں کا نقصان ہوگا : شیو سینا

بی جے پی کو 110 پارلیمانی حلقوں کا نقصان ہوگا : شیو سینا

گورکھپور میں انانیت اور ہٹ دھرمی کی شکست ۔ پارٹی ترجمان سامنا کا اداریہ
ممبئی 16 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) گورکھپور لوک سبھا ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی شکست کو انا اور ہٹ دھرمی کی شکست سے تعبیر کرتے ہوئے شیوسینا نے آج اپنے حلیف بی جے پی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی لوک سبھا نشستوں کی تعداد کم از کم 110 تک گھٹ جائے گی ۔ شیوسینا نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جو جماعتیں اپنی حلیفوں کو فراموش کردیتی ہیں اور جھوٹ کا راستہ اختیار کرتی ہیں انہیں شکست ہی ہوتی ہے ۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان سامنا کے اداریہ میں تحریر کیا ہے کہ بی جے پی نے تریپورہ جیسی چھوٹی ریاست میں کامیابی حاصل کی ۔ ابھی وہ اس کامیابی کا جشن منانے ہی میں مصروف تھی کہ اترپردیش کے ضمنی انتخابات کی شکست نے اس کی خوشیوں کو ختم کردیا ہے ۔ یہ نتائج بی جے پی کے کیمپ میں خوف پیداکرچکے ہیں۔ پارٹی کے دو طاقتور گڑھ سمجھے جانے والے حلقوں گورکھپور اور پھولپور میں اسے شکست ہوئی ہے جہاں سے سماجوادی پارٹی کو کامیابی ملی ہے ۔ شیوسینا کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد سے لوک سبھا کے 10 حلقوں میں ضمنی انتخاب ہوا ہے اور ان میں نو میں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ ابتداء میں لوک سبھا میں بی جے پی ارکان کی تعداد 282 تھی ۔ تاہم اب یہ تعداد 272 ہوگئی ہے ۔ مودی اور امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی کو تقریبا ہر ضمنی انتخاب میں شکست ہوئی ہے ۔ شیوسینا نے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے گورکھپور میں ہوئی شکست پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں یوپی میں 325 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ یوگی آدتیہ ناتھ چیف منسٹر اور کیشو پرساد موریہ ڈپٹی چیف منسٹر بن گئے ۔ آدتیہ ناتھ کو کبھی گورکھپور میں شکست نہیں ہوئی لیکن اب ان کے چیف منسٹر بن جانے کے بعد پارٹی کو یہاں شکست ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT