بی جے پی کیخلاف جسونت سنگھ کی بغاوت

بارمیر سے پرچہ نامزدگی داخل، نامو نامو تماشہ سے ایمرجنسی دور کی یاد تازہ

بارمیر سے پرچہ نامزدگی داخل، نامو نامو تماشہ سے ایمرجنسی دور کی یاد تازہ

بارمیر ۔ 24 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے سینئر لیڈر جسونت سنگھ نے اپنی پارٹی کے خلاف آج عملاً علم بغاوت بلند کرتے ہوئے حلقہ لوک سبھا بارمیر سے بحیثیت آزاد امیدوار اپنا پرچہ نامزدگی داخل کردیا۔ اس موقع پر انھوں نے بی جے پی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کو بالواسطہ اور مبہم تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’نامو نامو ‘کا تماشہ چل رہا ہے اور بی جے پی میں فیصلہ سازی کا عمل ماضی کے ایمرجنسی دور میں ہونے والی ہٹ دھرمی کی یاد دلاتا ہے ۔ انھوں نے بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ اور راجستھان کی چیف منسٹر وسندھرا راجے سندھیا پر تنقید کرتے ہوئے ان دونوں قائدین پر انھیں دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا ۔کلکٹر کے اجلاس پر نامزدگی داخل کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جسونت سنگھ نے کہا کہ ’’نامو نامو تماشہ ، بی جے پی میں فیصلہ سازی کا عمل دراصل مجھے 1975 ء کی یاد دلارہا ہے ، اُس دور میں ہٹ دھرمی بہت زیادہ تھی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا عمل بہت کم تھا ‘‘۔ جسونت سنگھ نے اپنا پرچہ داخل کرنے کے بعد حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’کون لوگ ہیں جنھوں نے آپ کو دھوکہ دیا ۔ احساسات کو مجروح کیا ، ایک تو بی جے پی کے صدر ہیں جنھوں نے دوسری مرتبہ مجھے دھوکہ دیا۔ وسندھرا راجے نے سازش تیار کی تھی ۔ میں سخت افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ دھوکہ صرف ایک جسونت سنگھ کو ہی نہیں دیا گیا بلکہ بی جے پی کے اصول و نظریات کے ساتھ بھی دھوکہ دہی کی گئی ہے ‘‘۔ 76 سالہ بااثر لیڈر نے اگرچہ راج ناتھ سنگھ اور وسندھرا کے خلاف سخت تنقید کی ۔

TOPPOPULARRECENT