Tuesday , August 21 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی کیخلاف متحدہ اپوزیشن فرنٹ کی اپیلوں میں شدت

بی جے پی کیخلاف متحدہ اپوزیشن فرنٹ کی اپیلوں میں شدت

٭ ضمنی چناؤ میں کامیابی پر اپوزیشن کے حوصلے بلند
٭ بی ایس پی سربراہ مایاوتی اور دیگر قائدین کے تاثرات

لکھنؤ / ممبئی ۔ /15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش اور بہار میں حالیہ لوک سبھا اور اسمبلی کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کی شکست نے آج حریف پارٹیوں کی جانب سے متحدہ اپوزیشن فرنٹ تشکیل دینے کی اپیلوں میں شدت پیدا کردی تاکہ 2019 ء کے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کا بھرپور مقابلہ کیا جاسکے ۔ جہاں بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے عوام پر زور دیا کہ بی جے پی کو مرکز میں دوبارہ اقتدار پر قبضہ جمانے نہ دیا جائے ، وہیں صدر سماجوادی پارٹی اکھلیش یادو نے اشارہ دیا کہ ان کی پارٹی بی جے پی کو شکست دینے کی خاطر بی ایس پی کے ساتھ اپنے اختلافات کو دفن کرنے کیلئے تیار ہے (متعلقہ خبر صفحہ 5 پر) ۔ مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی ہوسکتا ہے عاجلانہ عام انتخابات منعقد کرانا چاہے گی ۔ وہ چندی گڑھ میں ایک ریالی سے مخاطب تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے لوک سبھا ضمنی چناؤ میں ایس پی امیدواروں کی حمایت کی تاکہ بی جے پی کی شکست یقینی ہوجائے ۔ گزشتہ روز انتخابی نتائج کے اعلان پر بی جے پی کو زوردار جھٹکا لگا جب اسے تینوں لوک سبھا نشستوں پر شکست ہوگئی جن میں اترپردیش میں اس کا گڑھ گورکھپور اور پھولپور کے علاوہ بہار کی ارریا نشست شامل ہے ۔ نہ صرف بی ایس پی اور ایس پی بلکہ بی جے پی کی ناراض حلیف شیوسینای نے بھی کہا ہے کہ یہ نتائج سے اپوزیشن کو تقویت ملی ہے ۔ علاوہ ازیں شردپورا زیرقیادت این سی پی نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن ہی بی جے پی زیرقیادت حکومت کو شکست دے سکتا ہے ۔ این سی پی نے بی جے پی کی ضمنی چناؤ میں شکست کو آنے والے عام انتخابات کیلئے مثبت اشارہ قرار دیا ۔ این سی پی کے ترجمان نواب ملک نے کہا ہے کہ ضمنی چناؤ کے نتائج سماجی انصاف کیلئے متحدہ قوتوں کی فتح ہے ۔ انہوں نے ممبئی میں پی ٹی آئی کو بتایا کہ اس مرتبہ ووٹوں کی تقسیم نہیں ہوئی اور بحی جے پی کوئی فائدہ نہ اٹھاسکی ۔ 2019 ء کے جنرل الیکشن میں جب سیکولر ووٹ تقسیم نہیں ہوگا تو بی جے پی کو یقیناً شکست دی جاسکے گی ۔ جو کچھ گزشتہ روز کے نتائج سامنے آیا اسے عام انتخابات میں دوہرایا جاسکتا ہے ۔ چیف منسٹر اڈیشہ نوین پٹنائک نے بھی یہی تاثرات ظاہر کرتے ہوے کہا کہ بی جے پی کی کشتی ’’ڈوب‘‘ رہی ہے ۔ سی پی آئی جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی اور دیگر قائدین نے بھی متحدہ اپوزیشن کے حق میں اظہار خیال کیا ۔

TOPPOPULARRECENT