Monday , August 20 2018
Home / دنیا / بی جے پی کیلئے 2019ء عام انتخابات بیحد مشکل ثابت ہونگے : سلمان خورشید

بی جے پی کیلئے 2019ء عام انتخابات بیحد مشکل ثابت ہونگے : سلمان خورشید

l 2014ء کی لہر اب کہیں نظر نہیں آتی، بی جے پی کے خوشیاں منانے کے ایام اب ختم ہوئے
l کرناٹک، راجستھان اور مدھیہ پردیش انتخابات کے نتائج اہم رول ادا کریں گے ، ہمیں کوئی خوش فہمی نہیں
l نیویارک میں انڈیا بزنس کی 14 ویں کانفرنس سے سابق وزیرخارجہ کا خطاب

نیویارک ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ ہندوستان میں عام انتخابات کے انعقاد کیلئے صرف ایک سال کا عرصہ باقی بچا ہے، سینئر کانگریس قائد سلمان خورشید نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی کے خوشیاں منانے‘‘ کے ایام اب پورے ہوچکے ہیں اور جس طرح 2014ء میں انہوں نے پارٹی کی مقبولیت اور لہر کی بنیاد پر واضح کامیابی حاصل کی تھی، وہی لہر اور جوش و خروش اب ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔ سلمان خورشید نے دلت احتجاج، کسانوں کے احتجاج اور اعلیٰ سطحی دھوکہ بازی معاملات کے تناظر میں کہا کہ اب ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہیکہ کیا بی جے پی اپنی موجودہ کارکردگی کی بنیاد پر 2019ء انتخابات میں واپسی کی امید رکھتی ہے؟ جس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ ’’نہیں‘‘۔ بی جے پی کے ’’اچھے دن‘‘ کی اب الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے اور یہ بات بالکل واضح طور پر کہوں گا کہ 2019ء کے انتخابات بی جے پی کیلئے بہت بہت بہت زیادہ مشکل ثابت ہوں گے۔ سابق وزیرخارجہ سلمان خورشید کولمبیا بزنس اسکول میں منعقدہ 14 ویں سالانہ انڈیا بزنس کانفرنس میں شرکت کیلئے یہاں پہنچے ہیں جس کی میزبانی ساؤتھ ایشیاء بزنس اسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی ہے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’سماجی بھائی چارہ‘‘ کو لیکر آج ہندوستان میں کئی سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ جس طرح سے دلتوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ یقینی طور پر منصفانہ ہے۔ آج ہندوستان میں لوگ بیحد چوکنا اور بیدار ہوچکے ہیں۔ جس طرح بی جے پی نے مسلم اقلیتوں کو حاشیہ بردار کردیا ہے اس کے بعد دلتوں کے احتجاج نے یقینی طور پر سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2014ء میں جو حالات تھے اب ویسے حالات نہیں رہے۔ حالات بدل رہے ہیں اور مقبولیت کی جو لہر 2014ء میں بی جے پی کے حق میں تھی وہ لہر اب کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ البتہ میں یہ بھی کہوں گا کہ یہ لہر مکمل طور پر غائب نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک، راجستھان اور مدھیہ پردیش کے آنے والے انتخابات میں کانگریس ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی ہے۔ اگر کرناٹک میں نتائج ہمارے حق میں آئے جیسا کہ ہم امید کرتے ہیں اور راجستھان میں بھی نتائج ہمارے حق میں آئے اور مدھیہ پردیش میںبھی جیسا کہ ہم توقع کرتے ہیں لہٰذا اس کے بعد یہ کہنا پڑے گا کہ اس سے پورے ملک کے سیاسی حالات پر خاطرخواہ اثرات مرتب ہوں گے۔ بہرحال ہم نتائج کے بارے میں کسی خوش فہمی مبتلاء نہیں ہیں۔ بہرحال یہ توکہنا ہی پڑے گا کہ 2019ء میں بی جے پی کے مقابلہ کیلئے ایک متحدہ اتحاد کی اشد ضرورت ہوگی۔ سلمان خورشید نے کہا کہ یو پی اے صدرنشین سونیا گاندھی 2019ء کے عام انتخابات کیلئے ایک متحدہ محاذ بنانے کیلئے سخت محنت کررہی ہیں اور اب بھی اس پر مسلسل کام ہورہا ہے لیکن ہمیں کوئی بھی فیصلہ قبل از وقت نہیں کرنا چاہئے یا خوش فہمی میں مبتلاء ہونا نہیں چاہئے کہ 2019ء تو کانگریس کا ہے۔ مذکورہ کانفرنس میں طلباء کے علاوہ ماہرین تعلیم، تاجرین اور ایگزیکیٹیوز نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں آج مسئلہ یہ ہیکہ عوام سے بہت زیادہ وعدے کرلئے گئے ہیں تاہم حکومتیں ان وعدوں کی پابجائی میں ناکام ہیں۔ وعدے اتنے ہی کئے جانے چاہئے جن کی پابجائی ممکن ہو ورنہ حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی بدظن ہوجاتے ہیں اورعوام کی یہ بدظنی جمہوریت کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہیکہ حکومتیں وعدے کرنے بھی محتاط رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی عوام متعدد سماجی معاملات میں یکساں رائے نہیں رکھتے جیسے مذہب، پولیس اصلاحات، لسانیات، مختلف کمیونٹیز کیلئے مواقع اور تحفظات ایسے معاملات ہیں جہاں ہر دو کی رائے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ان مسائل کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاتا ہے اور جب سپریم کورٹ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اس فیصلہ کو چیلنج کرنے عوام سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اس طرح بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور یہی سچ بھی ہے کہ ہم اس وقت ایک بحران میں ہیں۔ ایسی کوئی بھی حکومت جو برسراقتدارآئے گی، اسے ان اقسام کے مسائل کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ انہوں نے جمہوریت میں بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔ جمہوریت صرف مردم شماری کا نام نہیں بلکہ مواصلات کا نام بھی ہے کہ آپ اپنی عوام سے کس طرح تعلق بنائے رکھتے ہیں اور یہی حقیقت ہم بھول چکے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT