Wednesday , January 17 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی کی الیکشن کمشنرس سے عام آدمی پارٹی کی شکایت

بی جے پی کی الیکشن کمشنرس سے عام آدمی پارٹی کی شکایت

نئی دہلی ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج عام آدمی پارٹی کی شکایت الیکشن کمیشن سے بھی کردی اور کہا کہ ماقبل انتخابات پارٹی ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہی ہے لہٰذا پارٹی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جس میں پارٹی کو غیرمسلمہ قرار دیا جانا بھی شامل ہے۔ بی جے پی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ملک میں افراتفری اور عدم استحکام پ

نئی دہلی ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج عام آدمی پارٹی کی شکایت الیکشن کمیشن سے بھی کردی اور کہا کہ ماقبل انتخابات پارٹی ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہی ہے لہٰذا پارٹی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جس میں پارٹی کو غیرمسلمہ قرار دیا جانا بھی شامل ہے۔ بی جے پی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ملک میں افراتفری اور عدم استحکام پھیلانے کیلئے کچھ غیرملکی طاقتیں بھی سرگرم ہیں، جن کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ دیا رہے کہ بی جے پی قائدین کے ایک وفد بشمول پارٹی کے نائب صدر مختار عباس نقوی، شیام جاجو اور دہلی یونٹ سربراہ ہرش وردھن نے چیف الیکشن کمشنرس وی ایس سمپت، ایچ ایس برہما اور ایس این اے زیدی سے ملاقات کی اور آپ کے خلاف ایک یادداشت ان کے حوالے کی، جس میں انہوں نے عام آدمی پارٹی اور اس کے ورکرس پر الزام عائد کیا کہ دہلی میں انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کیلئے پہلے ہی روز تشدد اور افراتفری پیدا کی اور لوک سبھا انتخابات سے عین قبل ملک میں تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔

دہلی اسمبلی تحلیل نہ کرنے کا عوامی مفاد میں فیصلہ
سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کا حلف نامہ
نئی دہلی۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے سپریم کورٹ میں آج دہلی اسمبلی کو اروند کجریوال کے بحیثیت چیف منسٹر استعفیٰ کے بعد تحلیل نہ کرنے کے فیصلے کی مدافعت کی اور کہا کہ عوامی مفاد میں ایسا کیا گیا ہے ،کیونکہ بی جے پی کی جانب سے تشکیل حکومت کے دعویٰ کا امکان ہے۔سپریم کورٹ میں آج مرکزی حکومت نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کی کہ مختصر ترین وقت میں دوبارہ انتخابات کا انعقاد عوامی مفاد میں نہیں ہے اور لیفٹننٹ گورنر نے بھی یہی سفارش کی ہے۔ حلف نامہ میں کہا گیا کہ لیفٹننٹ گورنر نے دو وجوہات بتائیں جن میں ایک یہ ہے کہ انتخابات ڈسمبر کے پہلے ہفتہ میں اختتام کو پہونچے اور 28 ڈسمبر 2013ء کو حکومت تشکیل پائی۔ ایسے میں فوری انتخابات کا انعقاد عوامی مفاد میں نہیں ہوگا۔ دوسری وجہ یہ بتائی گئی کہ موجودہ حالات میں کوئی دیگر سیاسی پارٹی مستقبل قریب میں تشکیل حکومت کا دعویٰ کرسکتی ہیں۔ مرکز نے کہا ہے کہ لیفٹننٹ گورنر کی دی گئی وجوہات بالکلیہ درست اور موزوں ہیں چنانچہ موجودہ سیاسی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اسمبلی کو تحلیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT