Saturday , October 20 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی کی تقسیم کی پالیسی ملک کے سیکولر تانے بانے کو تباہ کرنے کی ذمہ دار

بی جے پی کی تقسیم کی پالیسی ملک کے سیکولر تانے بانے کو تباہ کرنے کی ذمہ دار

ہاپولی 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )راہول گاندھی نے آج بی جے پی کی ’’تقسیم کرنے کی ‘‘پالیسی کو ملک کے سیکولر تانے بانے کو تباہ کرنے اور نفرت انگیز جرائم کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ کانگریس کا نظریہ بلا لحاظ ذات پات ،رنگ و نسل اور مذہب عوام کو متحد کرنا ہے۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ عوام کو سیاسی اور مذہبی خطوط

ہاپولی 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )راہول گاندھی نے آج بی جے پی کی ’’تقسیم کرنے کی ‘‘پالیسی کو ملک کے سیکولر تانے بانے کو تباہ کرنے اور نفرت انگیز جرائم کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ کانگریس کا نظریہ بلا لحاظ ذات پات ،رنگ و نسل اور مذہب عوام کو متحد کرنا ہے۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ عوام کو سیاسی اور مذہبی خطوط پر تقسیم کیا جائے لیکن ہم امن کیلئے عروج ،ترقی اور عوام کی خوشحالی بلا لحاظ مذہب چاہتے ہیں۔ انہوں نے ارونا چل پردیش میں 9 اپریل کو مقرر لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس کی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔کئی دن قبل انہوں نے بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی کو 2002 کے فسادات کے مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ آج انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر بھگوا پارٹی کا نظریہ ملک کی سیکولر نوعیت کو تباہ کررہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں عوام کے درمیان نسلی تعصب پیدا ہورہا ہے۔ شمال مشرقی ہند کے عوام سے ہندوستان کی اصل سرزمین کے عوام تعصب برتتے ہیں وہ 29 جنوری کے قتل کے واقعہ کا حوالہ دے رہے تھے۔ نئی دہلی میں طالبعلم نیڈو تانیہ کا قتل ہوا تھا۔راہول گاندھی نے کہا کہ تانیہ کو اس لئے قتل کیا گیا کیونکہ ہندوستان کی اصل سرزمین کے عوام شمال مشرقی ہند کے عوام سے تعصب رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارونا چل پردیش ہندوستان کا ایک حصہ ہے اس کے عوام کو ملک کی ہر ریاست میں مساوی رعایتوں سے استفادہ کرنا چاہئے۔

نسلی تعصب کو جڑ سے اکھاڑ پر پھینک دینا ضروری ہے اور کانگریس اس عہد کی پابند ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ارونا چل پردیش اور دیگر شمال مشرقی ہند کی ریاستوں کے عوام کو دیگر ریاستوں میں خود کو نظر انداز کردہ نہیں سمجھنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہر ایک کیلئے ہیں اور ہم ملک کی ہر ریاست میں طاقت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہر ریاست ایک پھول کی طرح ہے جنہیں یکجا کر کے گلدستہ تیار کیا جاسکتا ہے انہوں نے پانچ ہزار افراد کے مجمع کی پر زور ستائش کے دوران کہا کہ صبحان سیٹی اسٹیڈیم کی تعمیر کا کانگریس عہد کئے ہوئے ہیںاور چاہتی ہے کہ ارونا چل پردیش کے مالا مال سماجی ،روایتی اور تمدنی ورثے کا جو امن پسند قبائیلی عوام کی منفرد شناخت ہے تحفظ کیا جائے ۔ انہوں نے پر زور انداز میں اروناچل پردیش اور گاندھی۔ نہرو خاندان کے درمیان دیرینہ تعلقاتکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں اندرا گاندھی نے تیقن دیا تھا کہ مرکزی زیر انتظام علاقہ کا موقف ریاست کو عطا کیا جائے گا ۔ 1987 میں راجیوگاندھی نے ارونا چل پردیش میں یہی بیان دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT