Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / بی جے پی کی جانب سے پھر ایک بار یوم شہدائے کشمیر کی سرکاری تقریب کا بائیکاٹ

بی جے پی کی جانب سے پھر ایک بار یوم شہدائے کشمیر کی سرکاری تقریب کا بائیکاٹ

چیف منسٹر محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس و کانگریس سربراہان کا گلہائے خراج عقیدت
سری نگر ، 13جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو بدھ کے روز اُس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ریاستی حکومت میں شامل اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 13 جولائی 1931 ء کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے مزار شہداء واقع خواجہ نقشبند صاحب (ڈاؤن ٹاون سری نگر) میں منعقد کی گئی سرکاری تقریب کا بائیکاٹ کیا۔بی جے پی نے گذشتہ برس بھی اس سرکاری تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔ تاہم جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ ، پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر کے علاوہ درجنوں دیگر مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے مزار شہداء پر حاضری دیکر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔بی جے پی کے اس اقدام پر پی ڈی پی کو نیشنل کانفرنس اور دوسری مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ 1846 میں مہاراجہ گلاب سنگھ اور انگریزوں کے درمیان معاہدہ امرتسر طے پایا۔ اِس معاہدے کے ذریعے انگریزوں نے 75 لاکھ روپے نانک شاہی لے کر کشمیر کو مہاراجہ گلاب سنگھ کے حوالے کردیا تھا۔ معاہدہ طے ہونے کے بعد ڈوگرہ حکمرانوں نے 1947 تک یعنی ایک صدی تک کشمیر پر حکومت کی۔ مورخین کا کہنا ہے کہ ڈوگرہ حکمرانوں کا رویہ کشمیر کے اکثریتی عوام کے تئیں بالکل جانبدارانہ تھا۔اکثریتی عوام غلامی، محکومی اور فقیری کا شکار تھی۔ڈوگرہ حکمرانوں نے کشمیر کو خریدنے کے ساتھ ہی کھیتوں کو جاگیرداروں کے حوالے کردیا تھا۔ اِن کھیتوں پر اگرچہ کشمیری کاشتکار فصلیں اُگاتے تھے تاہم جب فصل تیار ہوتی تھی تو جاگیردار آکے 90 فیصد اناج لے کر چلے جاتے تھے ۔ اِس طرح سے جاگیردار غریب کاشتکاروں کا خون چوستے تھے ۔ اِس کے علاوہ طرح طرح کے ٹیکس لگائے گئے تھے جن کی وجہ سے شالباف اور دیگر کاریگروں کا جینا دو بھر کردیا گیا تھا۔ اکثریتی عوام کیلئے سرکاری نوکریوں کے دروازے بند تھے ۔ ڈوگرہ حکمرانوں اور جاگیرداروں کا خوف اِس قدر حاوی ہوچکا تھا کہ کوئی اُف تک نہیں کرتا تھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ کوئی حاکم اور جاگیرداروں کے خلاف کچھ کہے ۔اس وقت کے سرکردہ مذہبی اسکالروں اور ریڈنگ روم پارٹی نے فیصلہ لیا کہ کشمیر کی اکثریتی عوام پر روا رکھی جارہی ناانصافیوں کو لیکر مہاراجہ کو ایک یاداشت پیش کی جائے گی۔ یاداشت کو پیش کرنے والے نمایندوں کا باضابطہ انتخاب عمل میں آیا۔ اُن نمایندوں میں میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ، مولوی احمد اللہ ہمدانی، شیخ محمد عبداللہ، خواجہ سعد الدین شال، خواجہ غلام احمد عشائی، آغا سید حسین شاہ جلالی، چوھدری غلام عباس وغیرہ وغیرہ شامل تھے ۔ یاداشت کو پیش کرنے کے تعلق سے لوگوں کو مطلع کرنے کے لئے 21 جون 1931 کو خانقاہ معلی کے صحن میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

جلسہ کے اختتام پر جب شرکاء اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہونے ہی والے تھے کہ عین موقعہ پر ایک غیر ریاستی نوجوان اٹھ کھڑا ہوا اور نعرے لگانا شروع کردیئے ۔ لوگ اپنی جگہوں پر دوبارہ بیٹھ گئے ۔ اُس نوجوان نے اپنی تقریر میں کہا کہ بے شک مہاراجہ کی فوج کے پاس بندوقیں اور توپیں ہیں اور تم نہتے ہو۔ مگر تم پتھر اور لاٹھیوں کا استعمال کرکے مہاراجہ کی فوج کا مقابلہ کرسکتے ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ اُس نوجوان نے یہ بھی کہا کہ یاداشت پیش کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا اور اپنی تقریر کے اختتام پر مہاراجہ پیلس کی طرف انگلی لہراتے ہوئے کہا کہ اِس محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دو۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ اُس کا تعلق رائے بریلی اترپردیش، بعض کا کہنا ہے کہ وہ افغانی تھا اور بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ کشمیری تھا۔ دوسرے دن لوگوں کو معلوم ہوا کہ عبدالقدیر خان کو پولیس نے گرفتار کرکے سنٹرل جیل منتقل کیا ہے ۔اُن کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ 13 جولائی 1931 کو عبدالقدیر کے مقدمے کی کاروائی سری نگر کے سنٹرل جیل میں شروع ہونے والی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مقدمہ کی کاروائی سننے کے لئے آئے ہوئے تھے ۔ لوگوں نے مطالبہ کیا کہ عدالت مقدمہ کی کاروائی چار دیواریوں کے بجائے جیل کے صحن میں شروع کرے ۔ جب سیشن جج سنٹرل جیل پہنچا تو وہاں پہلے سے جمع لوگوں نے اُس کی گاڑی کو روکا اور اُن سے درخواست کی کہ عبدالقدیر کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جج اشتعال میں آگیا اور اندر آتے ہی سب سے پہلے پولیس کو بلایا۔ پولیس نے آتے ہی وہاں موجود لوگوں پر اندھادھند گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں 22 کشمیری موقع پر ہی جاں بحق ہوئے ۔مارے گئے لوگوں کو زیارت گاہ خواجہ نقشبند مشکلکشا(رح) کے صحن میں سپرد خاک کیا گیا اور تب سے وہ مقبرہ ”مزارِ شہداء” کہلایا جاتا ہے ۔ ڈوگرہ پولیس کی اِس کاروائی کے خلاف کئی مہینوں تک کشمیر اور جموں خطے میں مظاہرے جاری رہے ۔ اِس واقعہ کے بعد ڈوگرہ مطلق العنان و شخصی حکومت کے خلاف ایک منظم تحریک شروع ہوئی تھی اور لوگ بغیر کسی ڈر وخوف کے احتجاجی پروگراموں میں شامل ہونے لگے تھے ۔ تب سے مسلسل جموں وکشمیر میں 13 جولائی کو سرکاری سطح پر بحیثیت ”یوم شہداء” کے طور پر منایا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT