Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / بی جے پی کی سیاست نفرت پر مبنی

بی جے پی کی سیاست نفرت پر مبنی

لکھیم پور(آسام) ۔30مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی اور اس کے وزارت عظمی امیدوارنریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے صدر کانگریس سونیا گاندھی نے عوام کو اپوزیشن پارٹی کی نفرت پر مبنی سیاست کے خلاف خبردار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان کے جھوٹے وعدوں اور بڑی باتوں کے دھوکے میں نہ آئیں ۔ اپوزیشن بالخصوص بی جے پی ملک بھر میں بڑی بڑی باتیں کرر

لکھیم پور(آسام) ۔30مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی اور اس کے وزارت عظمی امیدوارنریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے صدر کانگریس سونیا گاندھی نے عوام کو اپوزیشن پارٹی کی نفرت پر مبنی سیاست کے خلاف خبردار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان کے جھوٹے وعدوں اور بڑی باتوں کے دھوکے میں نہ آئیں ۔ اپوزیشن بالخصوص بی جے پی ملک بھر میں بڑی بڑی باتیں کررہی ہے لیکن جب وہ اقتدار پر تھی اُس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا ۔ سونیا گاندھی نے لکھیم پور ٹاؤن میں انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ باتوں اور کام میں کافی فرق ہے۔ بی جے پی اور اُس کی قیادت نفرت پر مبنی سیاست کو پھیلارہی ہے ۔ انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ اپوزیشن کے جھوٹے وعدوں کا شکار نہ بنیں بلکہ وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے کانگریس کی تائید کرے اور اس پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ملک میں گنگاجمنی تہذیب کو مستحکم کیا ۔

ہم جھوٹے وعدے نہیں کرتے ‘ہم نے جو بھی وعدہ کیا اُسے پورا کیا ۔ کانگریس ’’ہر ہاتھ شکتی ‘ ہرہاتھ ترقی ‘‘ پر یقین رکھتی ہے ۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ 2009ء منشور میں ہم نے جو وعدے کئے تھے ان میں تقریباً پورے کئے ۔ اب 2014ء میں جو منشور پیش کررہے ہیں اسے بھی پورا کیا جائے گا اور ہمیں اس کیلئے آپ کی تائید کی ضرورت ہے ۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ باتیں کرنے اور کام کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ شمال مشرقی عوام حقیقی قومیت پسندی کو جانتے ہیں ‘ توقع ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ذریعہ گمراہ نہیں ہوں گے جو صرف قومیت پسندی کے ڈھول بجاتے ہیں ۔ بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ ملک کیلئے خون بہایا اور قربانیاں دیں ۔
دوسری طرف ایک ایسی پارٹی ہے جس نے صرف سماج کو تقسیم کیا ۔ آسام اور دیگر مقامات پر کانگریس کارکن ملک کیلئے آزادی سے پہلے بھی قربانی دی اور آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ یہی کارکن قوم کی تعمیر میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے پوچھا کہ اُس وقت بی جے پی کہاں تھی ؟ ۔ آزادی کے بعد یا اس سے پہلے اپوزیشن کا نام و نشان بھی نہیں تھا وہ صرف ملک کو تقسیم کررہی ہے ۔ انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ وہ حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے فیصلہ کریں ۔

TOPPOPULARRECENT