Tuesday , September 25 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی کی شکست سے دوسری بی جے پی پیدا ہوگی !

بی جے پی کی شکست سے دوسری بی جے پی پیدا ہوگی !

حیدرآباد۔8ڈسمبر(سیاست نیوز) لال کرشن اڈوانی‘ مرلی منوہر جوشی کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر قائدین بشمول چند سینیئر مرکزی وزراء جنہیں مرکزی کابینہ میں برداشت کیا جا رہا ہے وہ گجرات انتخابی مہم سے ایسے غائب ہیں جیسے ’’گدھے کے سر سے سینگ‘‘۔ بھارتیہ جنتا پارٹی قیادت نئی نسل میں عملی طور پر منتقل کرچکی ہے اور لال کرشن اڈوانی جیسے قائدین کو بھی خاطر میں نہیں لایاجارہا ہے جو 6ویں مرتبہ گجرات کے دارالحکومت گاندھی نگر سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ گجرات انتخابی مہم کے دوران سینیئر قائدین کی عدم موجودگی اور ہر جگہ صرف نریندر مودی اور امیت شاہ کے جلوے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ان قائدین میں شدید احساس عدم تحفظ پیدا ہونے لگا ہے جو ان دو قائدین کے حلقہ میں شمار نہیں کئے جاتے بلکہ انہیں سینیئر بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کے نو نظر قرار دیا جاتا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر قائدین کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح اڈوانی ‘ جوشی اور واجپائی جیسے قائدین کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو ایسی صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں دوسرا گروپ تیارہونے میں دیر نہیں لگے گی کیونکہ سشما سوراج‘ ارون جیٹلی‘ شتروگھن سنہا‘ شاہنواز حسین اور ایسے کئی سینیئر قائدین ہیں جو یشونت سنہا کی ڈگر پر چلتے ہوئے سینیئر قائدین کی سرپرستی میں نئے گروپ کی تشکیل دے سکتے ہیں کیونکہ پارٹی میں انہیں جس طرح سے نظر انداز کیا جا رہاہے وہ ان کی توہین کے مترادف ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر قائدین کا کہنا ہے کہ اقتدار کے حصول کے لئے تمام قائدین سے مدد کے حصول کے بعد پارٹی قیادت چند شخصیتوں تک محدود ہوچکی ہے اور ان شخصیات کے نور نظر ہی عہدہ حاصل کر رہے ہیںاور انہیں ہی ہر جگہ اہمیت حاصل ہونے لگی ہے جو کہ پارٹی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ نریندر مودی نے اقتدار حاصل کرتے ہی پارٹی کے سینیئر قائدین کو ’’ماک درشک منڈل‘‘ میں روانہ کرتے ہوئے تمام راستے صاف کرلئے لیکن مخالف مودی قائدین کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں داخلی جمہوریت موجود ہے اور شخصیت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اسی لئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر سینیئر قائدین کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو موجودہ بی جے پی قیادت کے خلاف سرگرم تحریک اندرون پارٹی ہی شروع کردی جائے گی جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے زوال کا سبب بن سکتی ہے اوراس بات کا اعتراف پارٹی قائدین کرنے لگے ہیں کہ پارٹی میں ہی طاقتور اپوزیشن تیار ہونے کے امکانات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

TOPPOPULARRECENT