Thursday , December 14 2017
Home / اداریہ / بی جے پی کی گھٹتی ہوئی مقبولیت

بی جے پی کی گھٹتی ہوئی مقبولیت

کوئی جنبش نہیں کوئی حرکت نہیں
زندگی اپنی تصویرِ غم ہوگئی
بی جے پی کی گھٹتی ہوئی مقبولیت
گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں غیر متوقع کامیابی کے بعد بی جے پی کے حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوگیا تھا کہ وہ ہندوستان میں ناقابل شکست پارٹی بنتی جا رہی ہے ۔ خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی کے صدر امیت شاہ کے رویہ میںانتہاء درجہ کی آمریت پیدا ہوگئی تھی اور وہ پارٹی کے سینئر قائدین کو بھی خاطر میں لانے تیار نہیں تھے ۔ کسی بھی گوشے سے پیش کی جانے والی تجاویز کو قبول کرنے کا بھی کوئی تصور ہی نہ تھا ۔ پارٹی کو لوک سبھا انتخابات کے بعد دہلی میں جس طرح سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اسے صرف ایک اتفاقی شکست قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اس کے بعد بہار میں اسمبلی انتخابات ہوئے اور یہاں بھی پارٹی نے صرف دو افراد یعنی نریندر مودی اور امیت شاہ پر ہی تکیہ کیا تھا ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پارٹی کو بہار میں بھی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ انتہائی شدت کے ساتھ چلائی گئی مہم بھی بے اثر ثابت ہوئی ۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے شخصی امیج کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی اور بے شمار انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا ۔ ان ریلیوں اور انتخابی مہم کے دوران وہ دوسری جماعتوں کے قائدین کے ساتھ الزامات و جوابی الزامات میں بھی ملوث رہے ۔ انہوں نے وزارت عظمی کے عہدہ پر فائز رہنے کا وقار برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کی ۔ تاہم بہار میں شدت کے ساتھ مہم چلانے کے باوجود پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس وقت کھلے انداز میں پارٹی میں تنقیدوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ خود بہار کے قائدین ہوں یا پارٹی کو ترقی دلانے کے ذمہ دار سینئر قائدین ہوں سبھی گوشوں سے نریندر مودی اور امیت شاہ پر تنقیدیں ہوئی تھیں۔ ان تنقیدوں کو زیادہ اثر انداز ہونے نہیں دیا گیا اور فی الحال پارٹی میں خاموشی تھی ۔ تاہم اب گجرات کی سیاست نے بھی ایسا لگتا ہے کہ کروٹ بدلنی شروع کردی ہے اور یہ کروٹ بھی بی جے پی کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف دکھائی دے رہی ہے ۔ گجرات میں مجالس مقامی کے انتخابات میں جس طرح سے پارٹی نے کانگریس کے خلاف کئی مقامات پر شکست کھائی ہے وہ خود پارٹی کی آنکھیں کھولدینے کیلئے کافی ہے ۔ یہاں کانگریس نے کامیابیاں حاصل کی ہیں اس سے اس کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔
گجرات کے دیہی علاقوں میں کانگریس نے اپنے اثر و رسوخ کو بحال کرلیا ہے ۔ بے شمار ضلع پنچایتوں اور کارپوریشنوں میں کانگریس نے اپنی حصہ داری میں زبردست اضافہ کرلیا ہے ۔ بی جے پی کو حالانکہ شہری حدود میں اب بھی اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیابی ملی ہے لیکن یہاں بھی کانگریس نے کئی مقامات پر اپنے وجود کو منوالیا ہے ۔ کانگریس نے گجرات میں تین چوتھائی سے زیادہ ضلع پنچایتوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور اسے تعلقہ پنچایتوں میں بھی 60 فیصد سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ یہ حلقے بی جے پی کے اثر میں تھے اور انہیں بی جے پی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا ۔ بی جے پی کا اثر توڑتے ہوئے کانگریس اپنی واپسی کو یقینی بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کریگی کہ 2014 کی لوک سبھا انتخابات کی شکست کے بعد کانگریس بتدریج اپنی کامیابیوں کو بحال کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے ۔ بی جے پی کو گجرات جیسی ریاست میں ‘ جو وزیر اعظم نریندر مودی کی ریاست ہے ‘ جو شکست ہوئی ہے اس سے یہ تاثر اور بھی تقویت پاتا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کی کارکردگی سے لوگ مایوس ہیں۔ خود گجرات میں آنندی بین پٹیل کی حکومت سے عوام مطمئن نہیں ہیں اور انہیں نریندر مودی سے بھی مایوسی ہوئی ہے ۔ گجرات مجالس مقامی انتخابات کے نتائج پٹی دار کوٹہ احتجاج کے اثرات سے بھی ایسا لگتا ہے کہ متاثر نہیں رہے ہیں کیونکہ جن علاقوں میں یہ احتجاج ہوا تھا وہاں کانگریس بی جے پی کو پچھاڑنہیں سکی ہے ۔ یہاں بی جے پی کا ہی اثر ہے اور اسے اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں کامیابی ملی ہے ۔
بہار اسمبلی انتخابات میں بھی کانگریس نے اچھی کارکردگی دکھائی تھی ۔ اسے 27 حلقوں سے کامیابی ملی تھی جو اس کیلئے بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے ۔ علاوہ ازیں بی جے پی اقتدار والی مدھیہ پردیش میں اس نے رتلام ۔ جھبوا لوک سبھا نشست بھی بی جے پی سے چھین لی تھی ۔ یہ نشست 2014 میں بی جے پی کے حق میں گئی تھی اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے انتقال کے بعد دوبارہ انتخاب ہواتھا جہاں کانگریس نے کامیابی حاصل کی ۔ یہ ساری صورتحال یہ واضح اشارے دیتی ہے کہ بی جے پی کی مقبولیت میں مسلسل گراوٹ آتی جا رہی ہے اور کانگریس پارٹی ایسا لگتا ہے کہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے میں بتدریج کامیاب ہوتی جا رہی ہے ۔ کانگریس کو اسی ڈگر پر اپنی کامیابیوں کا سفر جاری رکھنے کیلئے اپنی حکمت عملی کو اور بھی موثر بنانے کی ضرورت ہے اور اسے رائے دہندوں سے رابطوں کو اور بھی مستحکم کرنا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT