Wednesday , December 19 2018

بی جے پی کے اقلیتوں سے وعدے خون چوسنے والے ڈراکیولا کے مماثل

اصل اپوزیشن کے انتخابی منشور میں متنازعہ ہندوتوا مسائل کی شمولیت ملکی اتحاد کیلئے خطرہ ، کانگریس کا ردعمل

اصل اپوزیشن کے انتخابی منشور میں متنازعہ ہندوتوا مسائل کی شمولیت ملکی اتحاد کیلئے خطرہ ، کانگریس کا ردعمل

نئی دہلی ؍ تھریسور ، 7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایسے تبصرے میں جو سیاسی تنازعہ چھیڑ سکتے ہیں، کانگریس نے آج خون چوسنے والے ڈراکیولا کی فطرت کا بی جے پی کے انتخابی منشور میں اقلیتوں کیلئے وعدوں سے تقابل کیا۔ اور صدر پارٹی سونیا گاندھی نے بی جے پی کے انتخابی منشور میں متنازعہ ہندوتوا مسائل کی شمولیت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ’’فرقہ پرستانہ ایجنڈا‘‘ اس ملک کے اتحاد اور سالمیت کیلئے ’’سنگین خطرہ‘‘ ہے۔ اقلیتی بہبود کے مسئلہ پر بی جے پی کو ان کے ’’دہرے معیار اور دوغلے پن‘‘ پر ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس ترجمان ابھیشک سنگھوی نے کہا، ’’انھوں نے اپنے منشور میں مدرسوں کی جدیدکاری اور اقلیتوں کی تعلیم کے تعلق سے مگرمچھ کے آنسو بہائے ہیں۔ ہلکے پھلکے انداز میں یہی کہنا چاہوں گا کہ جب بی جے پی اقلیتی بھلائی کی بات کرتی ہے تو یہ ایسا لگتا ہے جیسے ڈراکیولا کسی بلڈ بینک کے سربراہ کی حیثیت سے جائزہ لے رہا ہو‘‘۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی کے نریندر مودی کے خلاف گجرات کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ’’موت کا سوداگر‘‘ والے ریمارک نے بڑا سیاسی تنازعہ پیدا کردیا تھا۔ چند سال قبل اُس وقت کے پارٹی ترجمان رشید علوی کے مودی کیلئے ’’یمراج‘‘ کے ریمارک نے بھی سیاسی طوفان مچایا تھا۔

بی جے پی کے آج جاری کردہ انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کو مسترد کرتے ہوئے ابھیشک سنگھوی نے کہا کہ اس کے برخلاف اقلیتی بھلائی کیلئے سچر کمیٹی پروگرام کے تحت جاری کردہ مرکزی حکومت کے فنڈز کو گجرات میں بی جے پی حکومت نے بروئے کار لانے سے ’’روکے رکھا‘‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب یہ معاملہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوا تو گجرات ہائی کورٹ نے حکومت ہند کی جانب سے اقلیتی طلبہ کیلئے اسکالرشپ دینے کیلئے جاری کردہ فنڈز کو حق بجانب قرار دیا لیکن تب بھی ریاستی حکومت نے وہ رقم جاری نہیں کی اور اس کی بجائے سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی۔ 6 مئی 2013ء کو سپریم کورٹ نے حکومت گجرات کے خلاف حکم التوا کو مسترد کردیا۔ یہ معاملہ ہنوز زیردوراں ہے۔ کیرالا کے تھریسور میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر کانگریس سونیا گاندھی نے کہا، ’’ہمارے حریف کا فرقہ وارانہ ایجنڈا ہمارے ہمارے کے اتحاد و سالمیت کیلئے سنگین خطرہ ہے اور کانگریس واحد پارٹی ہے جو یقینی بنا سکتی ہے کہ یہ ملک بدستور متحدرہے‘‘۔ اپوزیشن کو دروغ گوئی اور کرپشن کے الزامات عائد کرنے پر نشانہ بناتے ہوئے یو پی اے چیرپرسن نے کہا ، ’’ہر معاملہ میں ہم نے اصلاحی کارروائی کی ہے۔ میں انھیں یہاں چیلنج کرنا چاہتی ہوں۔

میں انھیں چیلنج کرتی ہوں کہ اُن کے زیراقتدار ریاستوں میں اس طرح کا دعویٰ کرکے دکھائیں‘‘۔ کانگریس جنرل سکریٹری شکیل احمد نے بھی بی جے پی پر اقلیتوں کیلئے اپنے منشور کے وعدوں پر طنز کرتے ہوئے اسے یاد دلایا کہ کس طرح نریندر مودی کے بااعتماد ساتھی امیت شاہ نے ’’انتقام‘‘ کے متنازعہ ریمارکس چند روز قبل مظفرنگر میں کئے ہیں۔ احمد نے ٹوئٹر پر کہا، ’’بی جے پی کہتی ہے کہ وہ اردو اور مدرسوں کی ترقی کیلئے کام کرے گی۔ آیا امیت شاہ کے انتقام کے بعد مدرسوں میں یا اردو پڑھنے کیلئے معقول تعداد میں لوگ رہ جائیں گے؟‘‘علحدہ موقع پر احمد نے کہا کہ بی جے پی کے منشور اور ان کے قائدین کی باتوں میں تضاد پایا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT