Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / بی جے پی کے انتخابی منشور میں رام مندر‘ یکساں سیول کوڈ اور دفعہ370کا حوالہ

بی جے پی کے انتخابی منشور میں رام مندر‘ یکساں سیول کوڈ اور دفعہ370کا حوالہ

حساس و متنازعہ موضوعات پر زعفرانی جماعت کے موقف کا اعادہ ، بہتر حکمرانی و ترقی کا وعدہ، یو پی اے حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہونے کا دعویٰ

حساس و متنازعہ موضوعات پر زعفرانی جماعت کے موقف کا اعادہ ، بہتر حکمرانی و ترقی کا وعدہ، یو پی اے حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہونے کا دعویٰ

نئی دہلی،7 اپریل(سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی نے آخرکار آج یہاں اپنا انتخابی منشور جاری کردیا جس میں پالیسی کے مفلوج پن، کرپشن اور ’’ٹیکس ٹیررازم‘‘ کے خاتمے اور ملٹی برانڈ ریٹیل میں ایف ڈی آئی پر پابندی لگانے کا عہد کرتے ہوئے اصل اپوزیشن پارٹی حساس اور متنازعہ مسائل کے اپنے کلیدی ایجنڈے پر بدستور قائم ہے جیسے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، یکساں سیول کوڈ اور آرٹیکل 370 کی تنسیخ جو جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیتی ہے۔ بہتر حکمرانی کے ذریعہ اقتصادی بحالی کیلئے روڈ میاب جاری کرتے ہوئے بی جے پی نے سینئر پارٹی قائدین کی موجودگی میں 42صفحات پر مشتمل منشور جاری کیا ۔ ایک ہفتے کی تاخیر کے ساتھ جو بظاہر ہندوتوا مسائل کی شمولیت کے بارے میں اختلافات پر ہوئی، یہ منشور 9 مراحل والے لوک سبھا انتخابات کے افتتاحی روز جاری کیا گیا ہے۔ پارٹی ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ اس تقریب میں پارٹی قائدین کی جھرمٹ شریک رہی جن میں ایل کے اڈوانی، نریندر مودی ، راجناتھ سنگھ ، سشما سوراج اور مرلی منوہر جوشی شامل ہیں۔ جوشی نے اس کمیٹی کی صدارت کی جس نے یہ دستاویز تیار کیا ہے۔ مودی نے اس تقریب میں سوالات کے جواب نہیں دیئے۔ اُن سے بالخصوص اپنے قریبی ساتھی امیت شاہ کے متنازعہ ’’انتقام‘‘ ریمارک کے تعلق سے اُن کا ردعمل جاننے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بس ٹال گئے۔ جوشی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال اس منشور سے تعلق نہیں رکھتا ہے۔ وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کی مہم کے بنیادی موضوع ترقی و بہتر حکمرانی کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے اس منشور میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا واضح حوالہ دیا گیا اور وعدہ کیا گیا ہے کہ دستوری حدود کے تحت مندر کی تعمیر کے تمام امکانات تلاش کئے جائیں گے ۔ یکساں سیول کوڈ کے بارے میں بی جے پی نے اپنے منشور میں کہا کہ دستور کی دفعہ 44 کے تحت یکساں سیول کوڈ کا ملکی پالیسی کے رہنمایانہ اصول کی حیثیت سے حوالہ دیا گیا ہے ۔ بی جے پی کو یقین ہے کہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے بغیر صنعتی مساوات ممکن نہیں ہوں گے کیونکہ یکساں سیول کوڈ میں ہی خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ چنانچہ بی جے پی اپنے اس مطالبہ کا اعادہ کرتی ہے کہ عصرحاضر سے ہم آہنگ اور بہترین روایات پر مبنی یکساں سیول کوڈ کا مسودہ تیار کیا جائے ۔ جموں و کشمیر کے سوال پر دفعہ 370 کے بارے میں بی جے پی منشور نے اس ریاست کو خصوصی موقف فراہم کرنے والی دفعہ کی برخاستگی کے مطالبہ کا اعادہ کیا۔ منشور میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی مکمل عزت و احترام ‘ تحفظ و سلامتی کے ساتھ اپنے آباء و اجداد کی سرزمین کو اپسی بھی بی جے پی کے ایجنڈہ میں کلیدی اہمیت کے ساتھ شامل ہے ۔ منشور میں مسئلہ رام مندر کی شمولیت پر بی جے پی قائدین میں اختلافات سے متعلق ایک سوال پر جوشی نے جواب دیا کہ ’’ جو کچھ بھی ہے وہ اس منشور میں شامل ہے اور آپ جو کچھ لکھنا چاہتے ہیں ‘

آپ کو اس کی آزادی ہے‘‘۔ اس سوال پر کہ آیا ترقی اور بہتر حکمرانی کے نعرہ کے ساتھ بشمول رام مندر ہندوتوا کے موضوعات کو اٹھاتے ہوئے بی جے پی کہیں رائے دہندوں کو الجھن زدہ کرنے کی کوشش تو نہیں کررہی ہے؟ جوشی نے جواب دیا کہ ہندوتوا سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہ صرف ترقیاتی پروگرام کا وعدہ ہے۔ جوشی نے مزید کہا کہ ہندو توا کبھی بھی بی جے پی کا انتخابی موضوع نہیں رہا اور منشور ہمیشہ ہی ترقیاتی پروگراموں اور بہتر حکمرانی سے متعلق رہا ہے۔ رام مندر کا حوالہ دیتے ہوئے جوشی نے کہا کہ ہم نے اس مسئلہ کو منشور میں ’’ثقافتی ورثہ‘‘ کے تحت رکھا ہے اور ثقافتی طور پر ہمارے لئے جو بھی اہم ہے ہم اس پر اظہار خیال کئے ہیں ۔ رام مندر کے مسئلہ کو گزشتہ انتخابات کے منشور میں بھی شامل کیا گیا تھا اور اس مرتبہ پارٹی نے اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے۔ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ پر بھی انہوں نے ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ منشور نے یوپی اے I اور IIکو ’’کچرے کا ایک دہا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یو پی اے حکومت کے10سالہ دور میں ہندوستان بشمول حکمرانی، معیشت، سفارتی، خارجہ پالیسی، سرحدی سلامتی ہر محاذ پر بری طرح ناکام و انحطاط پذیر ہوا ہے۔ اس کے ساتھ رشوت ستانی، اسکامس، خواتین کے خلاف جرائم ناقابل قبول سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ حکومت اور سرکاری اداروں کا بڑے پیمانے پر بیجا استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کی اتھاریٹی اور ان کا دفتر بھی بری طرح کمزورہوا ہے۔ ’’سسٹم کی اصلاح‘‘ کے تحت منشور نے اچھی حکمرانی کا وعدہ کیا ہے جو شفاف، مؤثر رہے گا اور اس میں نظم و نسق، عدلیہ، پولیس اور الیکشن کے نظام میں اصلاحات عمل میں لائی جائیں گی۔ منشور نے کئی موضوعات کا تفصیلی تذکرہ کیا لیکن حیرت انگیز طور پر دہشت گردی سے نمٹنے کے بارے میں زیادہ اظہار خیال نہیں ہوا۔ تقریباً ہر مسئلہ کے حوالے کے ساتھ یو پی اے حکومت کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے حکومت پر مفلوج اور منجمد طرزعمل اختیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT