Sunday , December 17 2017
Home / سیاسیات / بی جے پی کے اچھے دن، اثاثوں میں 627 فیصد کا بھاری اضافہ

بی جے پی کے اچھے دن، اثاثوں میں 627 فیصد کا بھاری اضافہ

 

حکمراں جماعت کے اثاثے 893 کروڑ روپئے، 758 کروڑ کے اثاثوں کیساتھ کانگریس پر 329 کروڑ کے واجبات

کولکتہ 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جمہوری اصلاحات کی تنظیم اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کے ایک تجزیہ کے مطابق بی جے پی کے معلنہ اثاثوں میں 2004-05 اور 2015-16 کے درمیان 627 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جس کے ساتھ ہی حکمراں جماعت کے اثاثے 122.93 کروڑ روپئے سے بڑھ کر 893 کروڑ روپئے تک پہونچ گئے ہیں۔ اس مدت کے دوران کانگریس کے اثاثے بھی 167.35 کروڑ روپئے سے بڑھ کر 758.79 کروڑ روپئے تک پہونچ گئے ہیں جو 353.41 فیصد اضافہ ہے۔ مالیاتی سال 2004-05 ء تا 2015-16 ء قومی جماعتوں کے اثاثے اور واجبات کے زیرعنوان پیر کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں اے ڈی آر اور ویسٹ بنگال الیکشن واچ نے کہاکہ سات بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے محکمہ انکم ٹیکس اور الیکشن کمیون کو پیش کردہ تفصیلات کی بنیاد پر تجزیہ کیا گیا ہے۔ کانگریس، بی جے پی، این سی پی، بی ایس پی، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم) اور ٹی ایم سی کی طرف سے پیش کردہ تفصیلات کو بھی اے ڈی آر کے تجزیہ میں استعمال کیا گیا ہے۔ قومی جماعتوں کی طرف سے ان کے اثاثوں کے اعلانات کے مطابق 2004-05 ء میں بی جے پی کے اثاثے 122.93 کروڑ روپئے تھے جو 627.15 فیصد اضافے کے ساتھ 2015-16 میں 893.88 کروڑ روپئے ہوگئے۔ قومی نگران تنظیم اے ڈی آر کے سربراہ (ریٹائرڈ) میجر جنرل انیل ورما نے انتخابی فنڈنگ کے لئے الیکٹورل بانڈس کی اجرائی کے مسئلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ 2004-05 کے دوران سات قومی جماعتوں کی طرف سے معلنہ اوسط مجموعی اثاثے 61.62 کروڑ روپئے تھے جو 2015-16 ء میں 388.45 کروڑ روپئے تک پہونچ گئے۔ سی پی آئی (ایم) کے مجموعی اثاثے 383.47 فیصد کے ساتھ 90.55 کروڑ روپئے سے 437.78 کروڑ روپئے تک پہونچ گئے ہیں۔ اے آئی ٹی سی کے اثاثے 0.25 کروڑ سے بڑھ کر 44.99 کروڑ روپئے تک پہونچ گئے ہیں‘‘۔

(ریٹائرڈ) میجر جنرل انیل ورما نے مزید کہاکہ ’’جب کبھی الیکشن ہوتے ہیں سیاسی جماعتوں کے اثاثوں میں اچانک بھاری اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ایک سال پہلے سے رقومات جمع کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو سیاسی فنڈنگ کے معاملہ میں شفاف ہونا چاہئے۔ انتخابی نظام کے لئے سب سے بڑا چیلنج دولت کی طاقت ہے‘‘۔ قومی جماعتوں کے معلنہ اثاثے غیر منقولہ جائیدادوں، قرض، پیشگی، ڈپازٹس، ٹی ڈی ایس، ایف ڈی آر سرمایہ کاری اور ’’دیگر اثاثوں‘‘ جیسے زمروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان جماعتوں کی طرف سے 2004-05 کے دوران ایف ڈی آر زمرہ کے تحت بتائے گئے تھے لیکن 2015-16 کے دوران ’’دیگر اثاثوں‘‘ کے زمرہ میں سب سے زیادہ اثاثوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس زمرہ کے تحت تمام سات جماعتوں کے مجموعی طور پر 1,605.114 کروڑ روپئے پائے گئے جو ان جماعتوں کی طرف سے مختلف زمروں میں پیش کردہ اثاثوں کا 59 فیصد حصہ ہے۔ سات قومی جماعتوں نے 2004-05 ء میں 47.77 کروڑ روپئے کے واجبات کا اعلان بھی کیا تھا جو اوسطاً فی جماعت 6.82 کروڑ روپئے تھے۔ سی پی آئی (ایم) نے سب سے زیادہ 20.285 کروڑ روپئے کے واجبات کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بی جے پی کے 14.298 کروڑ روپئے کے واجبات تھے۔ 2015-16 ء میں ان قومی جماعتوں نے 383 کے واجبات کا اعلان کیا۔ جن میں کانگریس نے سب سے زیادہ 329.43 کروڑ روپئے اور بی جے پی 24.99 کروڑ روپئے کے واجبات کے ساتھ دوسرے مقام پر تھی۔

TOPPOPULARRECENT