Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / بی جے پی کے اہم اجلاس میں ورون گاندھی غیرحاضر

بی جے پی کے اہم اجلاس میں ورون گاندھی غیرحاضر

مختلف قیاس آرائیاں جاری ،شتروگھن سنہا کی پارٹی لیڈرکو تائید

الہ آباد۔ 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) ورون گاندھی کو اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شناخت کے طور پر پیش کرنے کے مسئلہ پر اندرون پارٹی لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ آج صدر امیت شاہ کی جانب سے ریاستی ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس میں ورون گاندھی نے شرکت نہیں کی۔ وہ بی جے پی قومی عاملہ اجلاس میں حصہ لینے کے لئے یہاں موجود تھے، لیکن لوک سبھا ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس میں عدم شرکت کے باعث شبہات اُبھر رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ دیگر نے اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔ بی جے پی ریاستی صدر کیشو پرساد موریا نے اس بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ بی جے پی کے اترپردیش میں 70 سے زائد ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ ان کے منجملہ تقریباً 13 اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے۔ کسی ناراضگی کے سبب نہیں بلکہ شخصی وجوہات کی بناء انہوں نے شرکت نہیں کی۔ کیشو پرساد موریا جو خود بھی پھول پور سے رکن پارلیمنٹ ہلیں، کہا کہ اجلاس پرامن رہا اور کسی طرح کی کوئی کشیدگی نہیں تھی۔ ورون گاندھی جو دوسری میعاد کے لئے بھی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں، ان کی اجلاس میں غیرحاضری کے سبب یہ شبہات اُبھر رہے ہیں کہ وہ پارٹی مرکزی قیادت کی جانب سے یوپی اسمبلی انتخابات میں نمایاں رول دینے پر پس و پیش کی وجہ سے ناراض ہیں۔ 2013ء میں اس وقت کے پارٹی صدر نے ورون گاندھی کو قومی جنرل سیکریٹری منتخب کیا تھا

اور وہ اس عہدہ پر فائز ہونے والے سب سے کم عمر شخص تھے، لیکن امیت شاہ کے صدارتی عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے کے بعد راج ناتھ سنگھ کو مرکزی کابینہ میں شامل کرتے ہوئے ورون گاندھی کو اس عہدہ سے ہٹا دیا گیا۔ اس دوران بہار کے شعلہ بیان رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا جنہوں نے مبینہ طور پر قومی عاملہ اجلاس میں ورون گاندھی کی تائید کی تھی، آج جب پارٹی رفقاء ان پر نکتہ چینی کی تو انہوں نے اپنے موقف کا دفاع کیا۔ شتروگھن سنہا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے قومی عاملہ اجلاس میں جو کچھ کہا میرا موقف وہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ مخصوص طور پر ورون گاندھی کی تائید نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کا یہ نکتہ نظر ہے کہ کسی ایک کا خواہ وہ ورون گاندھی ہو یا یوگی آدتیہ ناتھ، راج ناتھ سنگھ یا پھر کیشو موریا ہوں نام پیش کیا جائے تاکہ عوام کو یہ معلوم ہوسکے کہ اگر اترپردیش میں پارٹی برسراقتدار آئے تو چیف منسٹر کون ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT