Wednesday , December 13 2017
Home / Mera Column / بی جے پی کے تعلق سے کے سی آر کی حکمت عملی

بی جے پی کے تعلق سے کے سی آر کی حکمت عملی

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
تلنگانہ کو ملک کی سب سے ترقی یافتہ ریاست بنانے کا دعویٰ کرنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے یہ بھی اعلان کردیا ہے کہ ان کی حکومت شہر حیدرآباد کو ترقی دینے کے لیے سابق حکمرانوں کی طرح صرف وعدے و اعلانات نہیں کرے گی اور نہ ہی اپنے وعدوں کو ریورس گیر لگاکر پیچھے کی طرف لے جائیں گے ۔ اس طرح تلنگانہ کے عوام بالخصوص شہریان حیدرآباد کو یہ سن کر خوشی ہوتی ہوگی کہ ان کے شہر کو ترقی دینے کا عہد و پیما ہوچکا ہے ۔ چیف منسٹر بلا شبہ اپنی محنت سے حاصل کردہ ریاست تلنگانہ کو ایک ایسے دورہے پر کھڑا کرنا نہیں چاہیں گے جہاں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے کہ ریاست کو آگے لے کر جانا ہے یا ماضی کے آندھرائی طاقتوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دینا ہے ۔ سیاسی آثار و قرائین سے یہ اندازہ ہونے لگا ہے کہ ریاست کو آندھرا پردیش کے سیاستدانوں کی ضرورت پڑے گی یعنی بی جے پی اور تلگو دیشم اور ایسی پارٹیوں میں جو ٹی آر ایس کو کانگریس کے مقابل سہارا دے سکتی ہیں ۔ تلگو دیشم لیڈر ریونت ریڈی کی سیاسی قلا بازیوں کی خبروں اور کانگریس میں شامل ہونے سے متعلق ہونے والی قیاس آرائیوں کے درمیان یہ خبر بھی دلچسپی سے خالی نہیں رہی کہ ٹی آر ایس نے ریونت ریڈی کو اپنی صف میں کھینچ لینے کی کوشش شروع کی ہے ۔ سیاسی دل بدلی کا سلسلہ اس وقت تک صحیح راستے پر نہیں چل سکتا جب تک یہاں نظریہ ضرورت کی بدروح بھٹکتی رہے گی ۔ سیاستدانوں میں ضرورت کا نظریہ اس وقت قوی ہوتا ہے جب انہیں اپنی پارٹی میں ترقی کے امکانات موہوم نظر آتے ہیں ۔ خود ٹی آر ایس کے قائدین کو یہ خوف ہونے لگا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ان کی کامیابی سے تعلق یقین نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ کانگریس نے اپنا مورچہ مضبوط کرنا شروع کیا ہے ، اسی لیے ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے بی جے پی سے قطعی ناطہ توڑنے کی بات نہیں کی ہے جب کہ ان کے فرزند کے ٹی راما راؤ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان اب کوئی دوستی باقی نہیں رہی ۔ لیکن کے چندر شیکھر راؤ کی حکمت عملی سے ان کے فرزند واقف نہیں ہیں ۔

کے سی آر کی یہ حکمت عملی ہوسکتی ہے کہ انہوں نے زعفرانی پارٹی کے لیے ایک وقت معینہ کے اندر فیصلہ کرنے کا تہیہ کرلیا ہے ۔ چیف منسٹر نے حال ہی میں پارٹی کے قائدین کے ساتھ ریاست کی تازہ سیاسی تبدیلیوں کا جائزہ لیا اگر اس اجلاس کی رپورٹس پر یقین کرلیا جائے تو تلنگانہ میں بی جے پی کا طاقتور ہونا خود ٹی آر ایس کے لیے اچھی خبر ہے ۔ اس وقت بی جے پی کو ریاست تلنگانہ کے 3 فیصد ووٹ حاصل ہیں اور آنے والے دنوں میں وہ اپنے ووٹ فیصد میں اضافہ بھی کرے گی اور امکان ہے کہ اس کا ووٹ فیصد 6 فیصد تک پہونچ جائے ۔ اس اضافہ سے مخالف حکومت ووٹوں کو منقسم کرنے میں مدد ملے گی ۔ اسی طرح حکومت کے حق میں ڈالے جانے والے ووٹوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ٹی آر ایس پھر ایک بار حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرسکتی ہے ۔ کے سی آر نہیں چاہتے کہ ریاست میں ٹی آر ایس اور کانگریس کے درمیان کوئی راست مقابلہ ہو ، وہ چاہتے ہیں کہ ریاست میں ہمہ رخی سیاسی مقابلہ ہونا چاہئے جس سے ٹی آر ایس کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوسکے ۔ ٹی آر ایس قیادت کی یہی حکمت عملی ہے کہ وہ زعفرانی پارٹی پر توجہ دینے سے زیادہ کانگریس کے امکانات کو کم کرنے کی تدابیر اختیار کرے ۔ بی جے پی قائدین ٹی آر ایس کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ختم نہیں کیا ہے ۔

بی جے پی کی اربن ڈسٹرکٹ صدر راؤ پدما نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا تھا کہ انتخابات کے پیش نظر انہوں نے عوام کا دل جیتنے کے لیے کاکتیہ میگا ٹکسٹائیل پارک شروع کیا ہے ۔ ان کے قبل ازیں کئے گئے وعدوں کو اب تک پورا نہیں کیا گیا اور ٹی آر ایس کی حکمرانی نظام کے دور کی یاد دلاتی ہے ۔ بی جے پی کا یہ بھی الزام غور طلب ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے نمائندوں کے ذریعہ ریاست میں ٹی آر ایس کی مقبولیت کے بارے میں جو سروے کروایا تھا اس میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو دوبارہ ووٹ نہیں ملیں گے ۔ چیف منسٹر سے یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ آیا ریاست میں ترقیاتی پراجکٹس کے لیے تمام مصارف پر ایک وائیٹ پیپر جاری کیوں نہیں کیا جاتا اور یہ بتایا جانا چاہئے کہ اگر ان کی حکومت کے پاس AIIMS ، IIMS اور سینک اسکولس جیسے پراجکٹ شروع کرنے کے لیے فنڈس کہاں سے حاصل ہورہے ہیں ۔ کاکتیہ میگا ٹیکسٹائیل پارک کے لیے تمام ضروری اجازت ناموں یا منظوریوں کا حاصل ہونا بھی ضروری ہے مگر ٹی آر ایس حکومت نے اس پارک کے لیے مرکز سے تمام اجازت نامے اور منظوریاں حاصل کی ہیں جب کہ خود بی جے پی کے قائدین اس پراجکٹ کے بارے میں شبہ ظاہر کیا ہے ۔ بلاشبہ اس پارک کے آغاز ہونے پر ریاست میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ریاست کے بافندوں کو مدد ملے گی ۔ تاہم چیف منسٹر کے ادعاجات اور کاکتیہ میگا ٹیکسٹائیل پراجکٹ کے لیے سنگ بنیاد رکھنے کے درمیان حقائق میں کوئی تال میل نہیں نظر آتا ۔ اس بنیاد پر اپوزیشن کو شبہ ہے ۔ اس سے پہلے کانگریس حکومت نے بھی ضلع محبوب نگر میں ایک WHWP نام سے 1000 ایکڑ کا پراجکٹ قائم کیا تھا اس کا مقصد ضلع میں روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کرنا تھا لیکن آج تک پراجکٹ کے بارے میں کچھ سچائی سامنے نہیں آئی اور ضلع کے عوام کو روزگار کے لیے نقل مکانی کرنی پڑرہی ہے ۔ اس پراجکٹ پر تلنگانہ حکومت نے خاموشی اختیار کرلی ہے ۔

کسانوں کی اراضیات کو زبردستی وصول کرنے کی غرض سے ہی کوئی حکومت پراجکٹ کی بنیاد رکھتی ہے اور آگے چل کر یہ پراجکٹ صرف کاغذ کی زینت بنا رہتا ہے کسانوں کی حاصل کردہ قیمتی اراضی پر حکمراں پارٹی راج کرتی ہے ۔ اگر ورنگل کے کاکتیہ میگا ٹیکسٹائیل پارک کو مرکز کی منظوری حاصل ہے تو پھر اس سنگ بنیاد تقریب کے لیے مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کو کیوں مدعو نہیں کیا گیا ۔ حکومت نے کسانوں سے 1500 ایکڑ اراضی تو حاصل کرلی ہے اب یہ پراجکٹ پورا ہوتا ہے اور روزگار مل جاتا ہے تو یہ اچھی کوشش ہوگی ، لیکن کے سی آر کے مخالف گروپس نے حکومت کی نیت پر شبہ ظاہر کیا خاص کر کے سی آر کے تلنگانہ تحریک کے ہم رکاب سماجی ہیرو کودنڈا رام نے کے سی آر کو نشانہ بناکر انہیں تلنگانہ تحریک کے مقاصد کو کچل دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے بھی تحریک تلنگانہ میں حصہ لینے والے طلباء اور نوجوانوں کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس حقیقت کی جانب نشاندہی کی ہے کہ طلباء اور نوجوانوں کی جانب سے دی گئی قربانیوں کی وجہ سے ہی تلنگانہ کا قیام ممکن ہوسکا تھا ۔ اس جذبہ کے حصہ کے طور پر تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے روزگار کے لیے لڑائی مہم شروع کی ہے ۔ جے اے سی قائدین کی باتیں درست ہیں کہ ریاست میں کئی بیروزگار نوجوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کر کے تلنگانہ لایا تھا تاکہ ان کا مستقبل بہتر ہوسکے تاہم اب ٹی آر ایس حکومت میں انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے ۔ حکومت نے ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے اور اقتدار کے 3 سال بعد بھی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں نہیں لائے گئے یعنی آندھرائی تسلط سے آزاد ہونے کے بعد بھی یہاں کے طلباء اور نوجوانوں کو حکمرانوں کی ذہنی غلامی سے آزاد نہیں کروایا جاسکا ۔ یہ ساری باتیں نئی نہیں ہیں ۔ تلنگانہ کے عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ تلنگانہ سے پہلے اور بعد بھی سب سے زیادہ قیمت انہوں نے ہی ادا کی ہے ۔۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT