Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے سے ٹی آر ایس کا انکار

بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے سے ٹی آر ایس کا انکار

عدم اعتماد تحریک
حیدرآباد۔16 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے بی جے پی کی تائید کرنے اور تلگودیشم کی پیش کردہ عدم اعتماد تحریک کی تائید سے انکار کردیا ہے۔ نئی دہلی میں ٹی آرایس کے رکن پارلیمان مسٹر کے کیشو رائو نے قومی نیوز چینل کو بتایا کہ ٹی آر ایس نے عدم اعتماد کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ حیدرآباد میں ٹی آر ایس کے ایم ایل سی نے کہا کہ ٹی آر ایس مخالف بی جے پی ووٹ دے گی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر رائو ابھی تک خاموش ہیں اور ان کی جانب سے ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس نے طلاق بل پر بھی درپردہ بی جے پی کی تائید کرتے ہوئے رائے دہی سے راہ فرار اختیار کی تھی۔ راجیہ سبھا میں پارٹی کے سینئر رکن ڈاکٹر کیشو رائو نے ایک قومی نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے این ڈی اے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو سیاسی ڈرامہ بازی قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کی پا رٹی حکومت کے خلاف ووٹ نہیں دے گی۔ تلگودیشم پارٹی نے لوک سبھا میں آج تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو کے اس اعلان کے بعد یہ تحریک پیش کی گئی کہ ریاست کو خصوصی موقف کے مسئلہ پر تلگودیشم مرکز کے این ڈی اے محاذ سے علیحدگی اختیار کررہی ہے۔ ڈاکٹر کیشو رائو نے کہا کہ اگرچہ ان کی پارٹی آندھراپردیش کو خصوصی موقف کی تائید کرتی ہے لیکن حکومت کے خلاف ووٹ دینے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ واضح رہے کہ تلگودیشم نے کل اعلان کیا تھا کہ وہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی تحریک عدم اعتماد کی تائید کرے گی لیکن آج اس نے اپنے طور پر یہ تحریک پیش کردی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وائی ایس آر کانگریس اور بی جے پی میں گٹھ جوڑ کے اندیشے کے تحت علیحدہ تحریک پیش کی گئی۔ کیشور رائو نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی تائید کا اس لیے سوال پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ یہ ایک محض سیاسی ڈرامہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ تحریک کی کامیابی کے لیے ایوان کے 50 فیصد ارکان کی تائید حاصل کرنا ممکن ہے؟ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے آندھراپردیش کے ارکان پارلیمنٹ کے اس مطالبہ کی تائید کی کہ ان کی ریاست کو خصوصی درجہ دیا جائے۔ کیشو رائو نے کہا کہ انہیں تحریک عدم اعتماد کی پیشکشی کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔اس مسئلہ پر پارٹی میں تضاد بیانی سے الجھن کے بارے میں نمائندہ سیاست نے نئی دہلی میں موجود ڈاکٹر کیشو رائو سے بات چیت کی۔ کیشو رائو نے اس بات پر ناراضگی جتائی کہ حیدرآباد میں بیٹھ کر ایک ایم ایل سی پارلیمنٹ کے مسائل پر بیان بازی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایم ایل سی کو کیا اختیار ہے کہ وہ ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دے۔ ڈاکٹر کیشو رائو نے وضاحت کی کہ انہوں نے قومی نیوز ایجنسی کو یہ نہیں کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے خلاف ووٹ نہیں دے گی۔ انہوں نے یہ کہا تھا کہ جس وقت تحریک عدم اعتماد مباحث کے لیے قبول ہوگی اس وقت پارٹی اپنے موقف کا فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر چیف منسٹر سے بات چیت کریں گے کہ کس طرح ایک ایم ایل سی نے بیان دے دیا۔ کیشو رائو نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی تائید یا مخالفت کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کیوں کہ پارلیمنٹ میں اسے منظور کیا جانا اور مباحث کا وقت مقرر کرنا ایک طویل مرحلہ ہے۔ لہٰذا ٹی آر ایس بھی اپنے پتے صحیح وقت پر کھولے گی۔ انہوں نے کہا کہ رکن کونسل کے بیان کو وہ کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ دوسری طرف پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کی منظوری سے ہی پربھاکر نے بیان دیا اور یہ بیان دراصل مرکزی حکومت پر دبائو بنانے کی ایک کوشش ہے۔اسی دوران ایم ایل سی کے پربھاکر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی کہ تحریک عدم اعتماد کے سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت اس سلسلہ میں فیصلہ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT