Friday , November 17 2017
Home / سیاسیات / بی جے پی کے دوبارہ برسراقتدار آنے کو نئے چیلنجس کا سامنا

بی جے پی کے دوبارہ برسراقتدار آنے کو نئے چیلنجس کا سامنا

مختلف سیاسی پارٹیوںبشمول کانگریس کے مختلف ترغیبی ایجنڈے ‘ ایم جی پی ‘ شیوسینا اور جی ایس ایم کا اتحاد

پاناجی ۔ 29جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) عام آدمی پارٹی کے 4فبروری سے گوا اسمبلی انتخابات کیلئے مقابلوں میں شامل ہوجانے کے بعد گوا میں چار رخی مقابلہ شروع ہوگیا ہے ‘ جہاں بی جے پی دوسری میعاد پر نظررکھے ہوئے ہے لیکن اسکو کانگریس اور بعض دیگر سیاسی پارٹیوں سے چیلنجس کا سامنا ہے ۔ بی جے پی انتخابی مقابلہ میں ترقی کے موضوع کی بنیاد پر حصہ لے رہی ہے ۔ انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں اپنے کارناموں کا تذکرہ کررہی ہے جب کہ اپوزیشن کانگریس اس کی ناکامیوں اور حکومت کے انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل پر انحصار کررہی ہے ۔ بی جے پی 36 نشستوں سے مقابلہ کررہی ہے ‘ دیگر چار نشستوں پر آزاد امیدواروں کو اس کی تائید حاصل ہے ۔ گوا اسمبلی میں 40نشستیں ہیں ۔ بھگوا پارٹی نے اپنی پوری انتخابی مہم ’’ ایک بار پھر بی جے پی ‘‘ کے نعرے پر مرکوز کر رکھی ہے اور دوسری بار برسراقتدار آنے کی کوشش کررہی ہے ۔ جب کہ رائے دہی کیلئے صرف پانچ دن باقی ہے ۔ بی جے پی کے قومی قائدین جیسے امیت شاہ اور مہاراشٹرا کے چیف منسٹر فرنویز جاریہ ہفتہ کے اوائل میں عام جلسوں سے خطاب کریں گے ۔ دوسری طرف کانگریس 37نشستوں پر مقابلہ کررہی ہے ‘ اسے تاحال اپنی انتخابی مہم میں نمایاں ردعمل حاصل نہیں ہوا ۔

تاہم اُس نے نائب صدر کانگریس راہول گاندھی سے امیدیں وابستہ کررکھی ہیں جو کل ماپوسا میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کریں گے ۔ یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ اس کے دھیمے لب و لہجہ کی وجہ سینئر کانگریس قائد ڈگ وجئے سنگھ کے بموجب یہ ہے کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ گھر گھر انتخابی مہم چلانے پر زیادہ زور دیا جائے گا ۔ کانگریس کے امیدواروں میں پرانے اور نئے چہرے دونوں شامل ہیں ۔ چند ایک مقامات کے سوائے اس کو بغاوت کا سامنا نہیں ہے ۔ عام آدمی پارٹی نے ایل ویس گومس کو اپنا چیف منسٹری کا امیدوار قرار دیا ہے ‘ وہ کنکولیم انتخابی حلقہ سے مقابلہ میں ہیں ۔ سب سے حیرت انگیز پروگرام جاریہ انتخابات میں یہ ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیاں باہم اتحاد کررہی ہیں ۔ مہاراشٹرا وادی ‘ گومنتک پارٹی ‘ گوا سرکھشا منچ اور شیوسینا نے اتحاد کرلیا ہے ۔ ایم جی پی جو بی جے پی کی سابق حلیف ہے برسراقتدار پارٹی میں پھوٹ کی وجہ سے مخالف بی جے پی بن چکی ہے ۔ آر ایس ایس کے باغی اور علاقائی زبان کے ماہر سبھاش ویلنگکر زیرقیادت جی ایس ایم نے انگریزی ذریعہ تعلیم اسکولوں کو امداد کا مسئلہ اپنا انتخابی موضوع بنایا ہے اس کو شیوسینا کی تائید حاصل ہے ۔ ایم جی پی 18نشستوں ‘ جی ایس ایم 6نشستوں اور سینا 4نشستوں پر انتخابی مقابلہ کررہی ہے ۔ تینوں پارٹیوں نے اپنے مشترکہ انتخابی منشور میں تیقن دیا ہے کہ ریو پارٹیوں ‘ برقی رقص و موسیقی ‘ تہواروں اور جوے خانوں کی برخواستگی پر توجہ دی جائے گی ۔ ایم جی پی نے 18امیدوار کھڑے کئے ہیں جو اچھی حکمرانی پر توجہ دے رہے ہیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT