بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے میرے بھائی پر قاتلانہ حملہ کروایا ہے۔ ڈاکٹرکفیل خان۔رکن پارلیمنٹ نے کیاانکار

گورکھپور میں 10جون کے روز نامعلوم افراد نے تین گولیاں جمیل پر داغی تھی۔ اب تک اس کیس میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں ائی ہے۔

لکھنو۔پچھلے سال اگست میں پیش ائے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں نومولود بچوں کی موت کے ملزم ڈاکٹر کفیل خان نے اتوار کے روز مبینہ طور پر کہاکہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کملیش پاسوان اور گورکھپور کے بزنس مین ستیش ناگالیا ہی اس کے بھائی جمیل کاشف پر ہوئے قاتلانہ حملے کے اصل محرک ہیں۔

پاسوان نے ان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر خان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دی ہے۔گورکھپور میں 10جون کے روز نامعلوم افراد نے تین گولیاں جمیل پر داغی تھی۔ اب تک اس کیس میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں ائی ہے۔

لکھنو میں میڈیا کے نمائندو ں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر کفیل خان نے کہاکہ’’مجھے اپنے ذرائع سے اس بات کی جانکاری ملی ہے کہ یہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کملیش پاسوان اور ستیش ناگالیاجو گورکھپور میں بلدیوپلازہ کے مالک ہیں نے گورکھپور کے متوطن نومن اور نکہت آرا کے ساتھ ملکر ایک سازش کو انجام دیا ہے جس کے تحت میرے بھائی (جمیل)پر قاتلانہ حملہ کیاگیا ۔

انہو ں نے اسکام کے لئے شوٹرس کی خدمات حاصل کی ہیں‘‘۔انہوں نے دعوی کیا ہے کہ گورکھپور میں رستم پورہ علاقے کی پچاس ہزار اسکوائر فٹ اراضی پر ان لوگوں کی نظر ہے جو ہماری رشتہ دار شفاقت علی خا ن کی ملکیت ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’ نومن او ردیگر میرے انکل پر دباؤ ڈال رہے ہیں و ہ کم قیمت میںیہ اراضی فروخت کردیں‘ مگر انہوں نے انکارکردیا۔ کیونکہ جمیل شفقت علی خان کے بیٹے اسداللہ کاساتھ دے رہا ہے اس لئے اس کونشانہ بنایاگیا ہے۔

فبروری میں کچھ شر پسندوں نے اسد اللہ پر حملہ کیاتھا جس کے بعد پاسوان او ردیگر کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی درج کرایا گیا ہے‘‘۔

مزیدکہاکہ ناگالیاایک بزنس مین او رپاسوان کا پارٹنر ہے۔

ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاسوان نے کہاکہ ’’ ستیش میرا بچپن کادوست ہے اور میرا اس کے ساتھ کوئی تجارتی رشتہ نہیں ہے۔ کفیل خان مجھ پر جھوٹے الزامات کے ذریعہ سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

کوئی بھی ایجنسی اس کیس کی تحقیقات کرے۔ میں میرے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات پر ان کے خلاف ہتک عزت کامقدمہ درج کرونگا‘‘۔

تبصرے کے لئے ستیش رابطے میں نہیںآیا۔ قبل ازیں ڈاکٹر خان نے رپورٹرس سے کہاتھا کہ انہیں یوپی پولیس پر بھروسہ نہیں ہے وہ اس کیس کی یاتو سی بی ائی یا پھر خود مختار کمیٹی کے ذریعہ جانچ کرائے جس کی نگرانی ہائی کورٹ کے جج کریں۔

خان نے خود کے لئے اپنے گھر والوں کے سکیورٹی کا بھی مطالبہ کیاہے۔ ہفتہ کے روز پولیس کو دئے گئے بیان میں جمیل نے کہاکہ اس کو شبہ ہے کہ اس پر کئے گئے حملے میں کملیش پاسوان ملوث ہے۔

گورکھپور ایس ایس پی سالب ماتھر نے کہاکہ فبروری اسداللہ پر ہوئے حملے کی تحقیقات کے دوران پولیس کو یہ جانکاری ملی تھی کہ موقع ورادت پر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ موجود نہیں تھے

TOPPOPULARRECENT