Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی کے لیے شرم کا مقام ، 500 سے زائد امیدواروں کی ضمانتیں ضبط

بی جے پی کے لیے شرم کا مقام ، 500 سے زائد امیدواروں کی ضمانتیں ضبط

’’ اچھے دن ‘‘

پانچ ریاستوں میں محصلہ ووٹوں کا فیصد بھی گھٹ گیا ، مودی کی مقبولیت میں گراوٹ
حیدرآباد ۔ 24 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : حال ہی میں اختتام کو پہنچے 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر سیاسی حلقوں میڈیا اور نجی محفلوں میں مختلف تبصرہ کیے جارہے ہیں ۔ آسام اور کیرالا میں اقتدار سے کانگریس کی بیدخلی پر بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ نریندر مودی اور امیت شاہ آسام میں کامیابی کے بعد ملک کو کانگریس سے پاک کرنے کا اعلان کرچکے ہیں ۔ بی جے پی قائدین آسام میں اپنی پارٹی کی کامیابی پر خوشی میں پاگل ہوئے جارہے ہیں ۔ نریندر مودی تو ہمیشہ کی طرح بیرونی دوروں پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں جبکہ صدر امیت شاہ سے لے کر بی جے پی کے سینئیر قائدین اور بی جے پی کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس قائدین آسام میں اقتدار کے حصول پر شوگر کے مرض میں مبتلا رہنے کے باوجود مجبوراً مٹھائیاں کھاتے جارہے ہیں لیکن ان پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کا تفصیلی جائزہ لے کر تجزیہ کریں تو شائد بی جے پی قائدین برسوں مٹھائی کھانا ہی ترک کردیں ۔ پانچ ریاستوں ، آسام ، کیرالا ، تاملناڈو ، پڈوچیری اور مغربی بنگال میں سے صرف آسام میں بی جے پی کا مظاہرہ بہتر رہا اس کیلئے کانگریس کے سابق چیف منسٹر ترون گوگوئی ان کے فرزند گورو گوگوئی کے علاوہ اے آئی یو ڈی ایف کے بدر الدین اجمل ذمہ دار ہیں ورنہ بی جے پی سال 2011 کے اسمبلی انتخابات کی طرح صرف 5 نشستوں تک ہی محدود ہو کر رہ جاتی ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر امیت شاہ اور دیگر بی جے پی قائدین کو ترون گوگوئی ، گورو گوگوئی اور بدر الدین اجمل کا مرہون منت رہنا چاہئے ۔ ویسے بھی 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے آسام میں 36.5 فیصد ووٹ حاصل کئے لیکن اس مرتبہ اسمبلی انتخابات میں اس نے اپنے بل بوتے پر 60 نشستیں حاصل کئے

لیکن اسے حاصل ووٹوں کی تعداد گھٹ کر 29.5 فیصد ہوگئی ۔ دوسری جانب مغربی بنگال ، تاملناڈو ، کیرالا اور پڈوچری جیسی چار ریاستوں میں بی جے پی کو صرف 4 حلقوں میں کامیابی مل سکی ۔ اس کے علاوہ ان ریاستوں میں 2014 کے تمام انتخابات کی بہ نسبت بی جے پی کے حاصل ووٹوں کا فیصد بھی گھٹ گیا ہے ۔ کیرالا میں 2014 میں بی جے پی نے 10.33 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے ۔ اس مرتبہ اس نے جنوبی ہند کی اس ریاست میں اپنا کھاتہ کھول کر 10.7 فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ تاملناڈو میں 2014 میں اس کے امیدواروں نے 5.56 فیصد ووٹ حاصل کر کے اپنی پارٹی کی عزت بچائی تھی لیکن 2016 کے اسمبلی انتخابات میں وہاں سے اس کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوا ۔ بلکہ قومی جماعت ہونے کا دعوی کرنے والی بی جے پی صرف 2.7 فیصد ووٹ حاصل کرسکی ۔ پڈوچیری میں 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی نے 16.8 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے اس مرتبہ اسے 10.3 فیصد ووٹ حاصل ہوسکے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مغربی بنگال کی294  اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کے تین امیدوار کامیاب ہوئے ۔ 234 رکنی ٹاملناڈو اسمبلی کے لیے اس کا کوئی رکن منتخب نہ ہوسکا ۔ 30 رکنی پڈوچیری اسمبلی میں بھی وہ صفر پر آوٹ ہوگئی اس طرح 5 ریاستوں کے 824 اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کو جملہ 64 حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ مودی اور امیت شاہ کی پارٹی کیلئے سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ ان اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو جو مرکز اور 13 ریاستوں ( ان میں سے وہ 4 میں اتحادی حکومت میں شامل ) میں برسر اقتدار ہے 824 میں سے تقریبا 500 حلقوں میں اسکے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں ۔ اس کے برعکس 824 حلقوں میں کانگریس کو 115 نشستیں حاصل ہوئیں ۔ مغربی بنگال میں اس کا مظاہرہ کمیونسٹوں سے بہتر رہا ۔ 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی ایک خاص بات یہ ہوئی کہ پانچ ریاستوں میں الگ الگ جماعتوں کو اقتدار حاصل ہوا ۔ بہر حال ان تمام اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ نریندر مودی حکومت کی عوامی ساکھ گرتی جارہی ہے ۔ اگر آسام میں بہار کی طرح عظیم اتحاد تشکیل پاتا تو پھر بی جے پی کے قائدین ضرور منہ چھپاتے پھرتے ۔

TOPPOPULARRECENT