Tuesday , January 16 2018
Home / دنیا / بی جے پی کے منشور پر تبصرہ سے امریکہ کا گریز

بی جے پی کے منشور پر تبصرہ سے امریکہ کا گریز

واشنگٹن ، 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے بی جے پی کے انتخابی منشور پر تبصرے سے انکار کردیا ہے، جس نے لوک سبھا چناؤ کے بعد برسراقتدار آنے پر ہندوستان کی نیوکلیر پالیسی پر نظرثانی کا وعدہ کیا ہے۔ ’’ہم ایسی کسی پارٹی کے منشور پر تبصرہ نہیں کرنے والے ہیں جو جاریہ انتخابات میں مقابلہ کر رہی ہے۔ لیکن ہمارے نقطہ نظر کے تعلق سے کچھ بھی نہ

واشنگٹن ، 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے بی جے پی کے انتخابی منشور پر تبصرے سے انکار کردیا ہے، جس نے لوک سبھا چناؤ کے بعد برسراقتدار آنے پر ہندوستان کی نیوکلیر پالیسی پر نظرثانی کا وعدہ کیا ہے۔ ’’ہم ایسی کسی پارٹی کے منشور پر تبصرہ نہیں کرنے والے ہیں جو جاریہ انتخابات میں مقابلہ کر رہی ہے۔ لیکن ہمارے نقطہ نظر کے تعلق سے کچھ بھی نہیں بدلا ہے،‘‘ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان جین ساکی نے کل اخباری نمائندوں کو یہ بات بتائی۔ پیر کو نئی دہلی میں جاری کردہ منشور کے مطابق بی جے پی نے کہا کہ اگر اسے اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ ہندوستان کے نیوکلیر نظریہ کا باریک بینی سے جائزہ لے گی، اور اس پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے جدید بنائے گی،

تاکہ اسے موجودہ وقت کے چیلنجوں کے مطابق ڈھالا جاسکے۔ اپنی روزانہ کی بریفنگ میں ساکی نے بی جے پی کے انتخابی منشور کے بارے میں کوئی بھی ردعمل سے انکار کردیا۔ انھوں نے کہا، ’’میں اس پر مزید کچھ کہنے والی نہیں ہوں۔ ظاہر ہے یہ ایسی باتیں ہیں جن پر ہم ہندوستانی حکومت کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں‘‘۔ بعدازاں ایک سینئر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ عہدہ دار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ امریکہ پالیسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کے داخلی دستاویز پر عین الیکشن کے درمیان کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت ہند نے اپنی پالیسی نہیں بدلی ہے۔ یہ خارج از امکان ہے کہ ہم اس نکتہ سے قبل کچھ زیادہ کہہ پائیں گے۔ بی جے پی کے ملکی نیوکلیر پالیسی پر نظرثانی کے وعدہ کا حوالہ دیتے ہوئے الیسا آیرس سابق سینئر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ عہدہ دار نے کہا کہ منشور کا یہ عنصر دنیا بھر میں کافی دلچسپی کا معاملہ رہے گا، بالخصوص بی جے پی کے ماضی کے پیش نظرکہ وہ نیوکلیر پالیسی کے تعلق سے اپنے انتخابی بیانات سے انحراف کرتی رہی ہے۔ الیسا نے کونسل برائے خارجہ تعلقات (واشنگٹن میں قائم ممتاز امریکی ادارہ) کے اپنے بلاگ میں تحریر کیا، ’’درحقیقت، 1998ء کے بی جے پی منشور نے ملکی نیوکلیر پالیسی کا ازسرنو تجزیہ کرنے اور نیوکلیر ہتھیاروں کو شامل کرنے کے اختیار کو استعمال کرنے کا عہد کیا تھا۔ مئی 1998ء میں انھوں نے یہی کیا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT