Thursday , August 16 2018
Home / اضلاع کی خبریں / بی جے پی کے کئی ارکان اسمبلی کی عنقریب کانگریس میں شمولیت

بی جے پی کے کئی ارکان اسمبلی کی عنقریب کانگریس میں شمولیت

گلبرگہ میں 946 کروڑ روپئے کے ترقیاتی کامو ں کے سنگ بنیاد تقریب سے چیف منسٹر کرناٹک کا خطاب

گلبرگہ ۔20دسمبر:(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)حیدر آباد کرناٹک کے علاقوں کے بی جے پی لیڈروں کا سامنا کرنے کیلئے مجھے آنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، ریاستی وزراء پریانکا کھرگے اور ڈاکٹر شرن پرکاش جیسے کانگریس لیڈران ہی کافی ہیں، ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کیا، کلبرگی کے افضل پور سیڑم اور جیورگی میں947 کروڑ روپئے مشتمل ترقیاتی کاموں کی سنگ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کا سامنا کرنے کیلئے ہمارے وزراء ہر وقت تیار ہیں، یہاں کیلئے توردال کسانوں کا مطالبہ ہے کہ توردال کی تائیدی قیمت7500 روپئے طے کی جائے، اس سلسلہ میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ حیدر آباد کرناٹک کو371 جے کے تحت خصوصی مراعات کا درجہ دینے والی پارٹی کانگریس ہے، آبپاشی شعبہ میں گزشتہ پانچ سال میں 52000 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں، صرف کلبرگی ضلع کی آبپاشی ضرورت کے لئے1530 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں، نوکرناٹک نرمان کے عظیم ترین جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ وخزانہ انصرام کے قاعدہ کے تحت ہم نے پانچ سال تک برابر خدمات انجام دی ہیں، مالیاتی معاملہ میں کرناٹک کی سدارامیا حکومت ملک بھر میں مشہور ہے، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے خود اس کی تعریف کی ہے، سدارامیا نے جس پرزور دیئے ہیں، اس راستہ پر ہماری حکومت رواں دواں ہے، ہماری حکومت اس معاملہ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ کامیاب قدم رکھتی جارہی ہے، ریاست میں مسلسل قحط وخشک سالی کی وجہ سے ریاستی کسان مشکلات میں آئے ہوئے تھے، ایسے نازک موقع پرریاستی حکومت نے ہر کسان کا50 ہزار روپئے تک بینک قرضہ کو معاف کرنے کا اعلان کیا، کسان کے قرضہ جات معاف کرنے کیلئے ریاستی حکومت نے 8.165 کروڑ روپئے کا بوجھ برداشت کیا ہے، اس سے22 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اعتبار سے پسماندہ کلبرگی ضلع کو ممتاز اضلاع کی فہرست میں لانے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں، اس ضمن میں پہل کرتے ہوئے اساتذہ کی تقرراتی کے ذریعہ تعلیمی شعبہ میں نئی پیش رفت کا آغاز ہوگیا ہے، کلبرگی ضلع نقص تغذیہ کے مسائل سے دوچار علاقوں میں مرحلہ وار اوپر کی سمت جارہا ہے، ماترپورنا، شیربھاگیہ جیسے اسکیموں کے ذریعہ ضلع بھر میں نقص تغذیہ کے مسائل کو قابو میں لایا جارہا ہے، ان اسکیموں کا یہاں فیصلہ کن کردار رہا ہے۔ لنگایت دھرم کیلئے سفارش، وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ مستقل علاحدہ لنگایت دھرم کے سلسلہ میں ویراشاؤا اور لنگایت تنظیموں کی جانب سے مستقل لنگایت دھرم کیلئے5 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، یہ درخواستیں اقلیتی کمیشن کو روانہ کی جائیں گی، افضل پور میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کیلئے جانے سے قبل اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گجرات الیکشن ہوگیا ہے، کانگریس اور بی جے پی دونوں کی برابر ٹکر ہے، ایگزٹ پول قابل اعتبار نہیں ہوئے، ایگزٹ پول کی رپورٹ بسا اوقات سچ ثابت ہوتی ہے، اور بسااوقات مکمل طور پر غلط بھی ہوتی ہیں، اس کی مثالیں ہمارے پاس موجود ہیں، ان تمام سے ہٹ کر نتیجہ کو دیکھا جائے ، نتیجہ کے دن معلوم ہوجائے گا کہ کونسی پارٹی برسراقتدار آئے گی، الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) پر خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ای وی ایم میں حقائق کو مسخ اور ٹمپرنگ کرنے کا قوی اندیشہ رہتا ہے، اس بات کے پیش نظر ہمارا آئی ٹی بی ٹی محکمہ مرکزی الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ای وی ایم میں جب ٹمپرنگ کا خدشہ ہے تواس میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس دن ایم وی ایم کے بجائے کے بجائے بیالٹ پیپر استعمال میں لایا جائے یہ قدیم طریقہ ہے، اور قابل اعتبار بھی ہے، جس میں کسی کو شک وشبہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، بیالٹ پیپر سسٹم لانے میں مرکزی حکومت کیوں ٹال مٹول کررہی ہے، اس موقع پر انہوں نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نفرت کی آگ بھڑکانے کی سیاست پر اتر آئی ہے، فرقہ وارانہ فسادات برپا کرتے ہوئے ماحول کی پرامن فضا کو مکدر کرنا چاہ رہی ہے، اننت کمار ہیگڈے نالائق ہے، آداب اور قرینوں سے ناواقف غیر مہذب آدمی ہے، بی جے پی کا چیلنج مجھے قبول ہے،اگر وہ چاہیں تو کلبرگی کو آجائیں، بی جے پی کو جواب دینے کے لئے میری ضرورت نہیں ہے، بلکہ پریانکا کھرگے اور پرکاش پاٹل ہی کافی ہیں، بی جے پی کے ریاستی صدر یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاست میں بی جے پی برسراقتدار آئی تو کسانوں کے قومی بینکوں کے قرضہ جات کو مکمل طور پر معاف کردیا جائے گا۔اس بات کو وہ خون میں لکھ دینے کی باتیں کہہ رہے ہیں، کیا یہ وعدہ قابل اعتبار ہے، ریاست میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں، بی جے پی کے بہت سارے اراکین اسمبلی کانگریس میں شامل ہونے والے ہیں، بی جے پی سے کون کون لیڈر کانگریس کو آئیں گے، اس سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہاکہ انتظار کرو وقت ہی بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT