Tuesday , January 16 2018
Home / Top Stories / بی جے پی ۔ سینا تنازعہ کے خودبخود حل ہوجانے کی توقع

بی جے پی ۔ سینا تنازعہ کے خودبخود حل ہوجانے کی توقع

نئی دہلی۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی ۔ شیوسینا تعلقات 12 نومبر سے پہلے جبکہ مہاراشٹرا کے چیف منسٹر خطِ اعتماد حاصل کریں گے، تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ شیوسینا کا مسئلہ خودبخود حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعض مسائل خودبخود حل ہوجاتے ہیں۔ کل شیوسینا نے وزیراعظم نریندر مودی زیرقیادت مرکزی م

نئی دہلی۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی ۔ شیوسینا تعلقات 12 نومبر سے پہلے جبکہ مہاراشٹرا کے چیف منسٹر خطِ اعتماد حاصل کریں گے، تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ شیوسینا کا مسئلہ خودبخود حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعض مسائل خودبخود حل ہوجاتے ہیں۔ کل شیوسینا نے وزیراعظم نریندر مودی زیرقیادت مرکزی مجلس وزراء کی توسیع کا بائیکاٹ کیا تھا، مبینہ طور پر شیوسینا اس کے قائد انیل دیسائی کو کابینہ میں وزیر مملکت رتبہ کا عہدہ دینے پر ناراض ہے۔ شیوسینا کے صدر ادھو ٹھاکرے نے مبینہ طور پر انیل دیسائی کو دہلی سے ممبئی واپس طلب کرلیا تھا اور سریش پربھو کو مرکزی کابینہ میں کابینی وزیر کا رتبہ دینے پر بھی اعتراض کیا تھا۔ مہاراشٹرا کے اسمبلی انتخابات سے قبل شیوسینا نے اپنی قدیم حلیف بی جے پی سے ترک تعلق کرلیا تھا۔ ارون جیٹلی نے مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات پر ایک طویل عرصہ کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے دائرۂ کار میں زبردست توسیع ہوچکی ہے اور وزارت کو چاہئے کہ معلومات کے طریقہ کار کے تبدیل شدہ منظر نامہ کا جائزہ لے۔ اپنے سابق تبصرہ کا اعادہ کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے دائرہ عمل میں فوری طور پر توسیع کی جانی چاہئے۔ ریڈیو کی ترقی اور ڈیجیٹل میڈیم کے فروغ میں نئے منظر نامہ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دور وہ بھی تھا جبکہ وزارت کا زیادہ تر کام دوردرشن اور آل انڈیا ریڈیو تک محدود تھا۔ بے شک یہ اب بھی بڑے شعبے ہیں لیکن معلومات طریقہ کار کے منظر نامہ میں بہت زیادہ تبدیلی آچکی ہے۔ وزارت کو اس کا جائزہ لینا چاہئے۔ راجیہ وردھن سنگھ راٹھوڑ حال ہی میں وزیر اطلاعات و نشریات کے قلمدان کا جائزہ حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ذرائع ابلاغ کے درمیان ترسیل کا المیہ پایا جاتا ہے۔ یکطرفہ مواصلات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں انتہائی اہم بات یہ ہے کہ حکومت فوری طور پر اہم اقدامات کرنے سے گریز کررہی ہے، کیونکہ اس سے خوداختیاری اور قومی وقار و سلامتی کو خطرہ پیدا ہونے کا شور مچایا جائے گا جس سے ملک کی معیشت بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ارون جیٹلی اور وہ خود قبل ازیں اس وزارت میں وزیر مملکت رہ چکے ہیں اور ان کی کوشش ہوگی کہ کسی بھی قسم کے روابط کے لئے وہ ہر وقت عوام کو دستیاب رہیں۔

TOPPOPULARRECENT