Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی ‘ کرپٹ ‘ پارٹی میں شامل ہونا کرن بیدی کی غلطی

بی جے پی ‘ کرپٹ ‘ پارٹی میں شامل ہونا کرن بیدی کی غلطی

بی جے پی پر برہمی و عام آدمی پارٹی سے امیدیں ہماری کامیابی کی وجہ : پرشانت بھوشن

بی جے پی پر برہمی و عام آدمی پارٹی سے امیدیں ہماری کامیابی کی وجہ : پرشانت بھوشن

حیدرآباد 21 فبروری ( پی ٹی آئی سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن نے آج کہا کہ سابق آئی پی ایس عہدیدار کرن بیدی کیلئے بی جے پی میں شامل ہونا غلط تھا جبکہ وہ کرپشن کے خلاف مہم کا حصہ رہی تھیں۔ پرشانت بھوشن نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ کرن بیدی کی غلطی تھی کہ وہ بی جے پی میں شامل ہوئیں کیونکہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ بی جے پی بھی کرپٹ جماعت ہے ۔ ایک ایسی شخصیت کیلئے جو مخالف کرپشن تریک کا حصہ رہی ہیں ایک کرپٹ پارٹی میں شامل ہونا اچھا فیصلہ نہیں تھا ۔پرشانت بھوشن نلسار یونیورسٹی میں ایک لیکچر دینے کے بعد خطاب کر رہے تھے ۔ اس سوال پر کہ دہلی اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی تاریخی کامیابی حیرت انگیز نہیں رہی مسٹر بھوشن نے جو خود پارٹی کے بانیوں میں شامل ہیں اثبات میں جواب دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہاں یقینی طور پر اس بے مثال اور زبردست کامیابی سے ہم خود بھی حیرت کا شکار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دو باتیں پتہ چلتی ہیں ایک تو یہ کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف عوام میں غم و غصہ پیدا ہو رہا ہے اور دوسرے یہ کہ عام آدمی پارٹی سے عوام کو امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں۔ ان دونوں وجوہات کے نتیجہ میں عام آدمی پارٹی کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ چیف منسٹر دہلی مسٹر اروند کجریوال کی جانب سے کوئی بھی وزارت نہ رکھنے کے فیصلے پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ چیف منسٹر کا اختیار تمیزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کیلئے ٹھیک ہی ہے ۔ یہ ان کا فیصلہ ہے ۔ وہ ہوسکتا ہے عام طور پر وزارتوں کی نگرانی کرنا چاہتے ہوں۔ کارپوریٹ جاسوسی معاملہ پر پرشانت بھوشن نے کہا کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ اس طرح کی حرکتیں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام طویل وقت سے ہو رہا ہے ۔ حکومتیں بھی ہیں کہ ایسا طویل وقت سے ہو رہا ہے ۔ راڈیا ٹیپس میں اس کا ثبوت ہے ۔ اس سے قبل ریلائینس کے کچھ عہدیداروں کو کئی سال قبل گرفتار کیا گیا تھا ۔ یہ کھلا راز ہے ۔ بڑے کارپوریشنس مختلف وزارتوں کے راز کو سبوتاج کرنے میں ملوث رہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کرتا کیونکہ وہ بہت طاقتور ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بھی ہمیں دیکھنا ہے کہ با اختیار اور طاقتور افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے کیونکہ یہ سب کچھ بڑے کارپوریٹس کے ساتھ ساز باز سے کیا جا رہا تھا ۔ اس میں ٹاپ بیوروکریٹس ملوث ہیں اور شائد وزرا بھی ملوث ہوں۔

TOPPOPULARRECENT