Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی کمیشن کا مشترکہ سروے ضروری

بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی کمیشن کا مشترکہ سروے ضروری

نئی ریاست کے قیام کو بنیا دبناکر آبادی ، ذات کا سروے کرتے ہوئے نئی تحفظات پالیسی
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جنوری (سیاست نیوز) نئی ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کیلئے تحفظات کے فیصد میںاضافہ کا جو وعدہ کیا ہے ، اس سے دیگر پسماندہ طبقات میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے ۔ حکومت نے سیاسی مقصد براری کیلئے یہ وعدہ تو کرلیا لیکن اس پر عمل آوری گلے کی ہڈی بن چکی ہے اور صورتحال سے بچنے کیلئے کے سی آر حکومت نت نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ حکومت کو ایک طرف وعدہ کی تکمیل کرنی ہے تو دوسری طرف دیگر طبقات کو مطمئن کرنا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی ۔ کسی بھی نئی ریاست میں عوام کی معاشی ، تعلیمی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے جامع سروے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس سروے کے مطابق یہ اندازہ ہو کہ ریاست میں مختلف طبقات کی آبادی کا فیصد اور ان کی صورتحال کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے ریاست بھر میں عام تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے جامع سروے کا اہتمام کیا تھا لیکن اس کی تفصیلات آج تک منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جامع سروے حکومت کو درکار تفصیلات مہیا کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ اب جبکہ ریاست میں مسلمانوں کیلئے دیگر پسماندہ طبقات تعلیم اور روزگار میں بہتر نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ وہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور مسلمانوں کے بارے میں مشترکہ سروے کا اہتمام کرے تاکہ حقیقی اعداد و شمار کا علم ہو۔ جب تک مختلف طبقات کی آبادی اور ان کی پسماندگی کا اندازہ نہیں ہوگا، اس وقت تک فلاحی اسکیمات کی تیاری میں مدد نہیں مل سکتی۔ کے سی آر حکومت فلاحی اسکیمات کیلئے 30,000 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن اس کے مثبت نتائج دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ کسی ایک طبقہ کو بھی حکومت مطمئن نہیں کرسکی۔ ان حالات میں ماہرین کا ماننا ہے کہ ریاست میں تشکیل دیئے گئے بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی کمیشنوں کے ذریعہ مشترکہ سروے کا اہتمام کیا جائے تاکہ تلنگانہ میں سماجی تقسیم کی حقیقی صورتحال منظر عام پر آسکے ۔ حکومت نے تین علحدہ کمیشن قائم تو کئے جو اپنے مقررہ وقت پر حکومت کو رپورٹ پیش کریں گے۔ اگر یہ تینوں کمیشن مشترکہ سروے منعقد کرتے ہیں تو نہ صرف پسماندہ طبقات بلکہ ان کے ذیلی طبقات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومت نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کیا تھا جس نے 18 ماہ میں مسلمانوں کی سماجی ، تعلیمی اور معاشی صورتحال پر حکومت کو رپورٹ پیش کی ۔ اگرچہ اسے کمیشن کا نام دیا گیا لیکن بعد میں اسکے ساتھ ایک کمیٹی جیسا سلوک کرکے اس کی رپورٹ کابینہ کی منظوری کے بغیر برسر عام کردی گئی۔ اب جبکہ مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا معاملہ بی سی کمیشن سے رجوع کیا گیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ کمیشن مسلمانوں کے حالات کا علحدہ طور پر سروے کرے۔ سدھیر کمیشن کے اعداد و شمار اور اسکی رپورٹ پر انحصار کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کرنا اگرچہ آسان ہے لیکن یہ عمل عدالت میں ٹک نہیں پائیگا۔ تحفظات و پسماندہ طبقات کی ترقی کے سلسلہ میں جدوجہد کرنے والے سماجی کارکنوں اور تنظیموں کا احساس ہے کہ نئی ریاست کے قیام کو بنیاد بناکر حکومت کو چاہئے کہ آبادی اور ذات پات کا نیا جامع سروے منعقد کرے۔ ( باقی سلسلہ صفحہ 8 پر )

TOPPOPULARRECENT