Saturday , December 16 2017
Home / کھیل کی خبریں / بی سی سی آئی سے معاوضہ کے دعویٰ پر پی سی بی الجھن سے دوچار

بی سی سی آئی سے معاوضہ کے دعویٰ پر پی سی بی الجھن سے دوچار

پاکستان کے کمزور موقف کا اعتراف ، شہریار خاں کیلئے پریشان کن صورتحال کا سبب
کراچی ۔ /22 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) 2015 ء اور 2023 ء کے دوران دو ملکوں کے ساتھ چھ باہمی سیریز کھیلنے کیلئے طئے شدہ یادداشت مفاہمت کے عدم احترام پر بی سی سی آئی سے معاوضہ وصول کرنے اپنے منصوبوں پر خود کو ایک عجیب اور الجھن زدہ صورتحال سے دوچار محسوس کررہا ہے ۔ پی سی بی کے سابق صدرنشین شہریار خاں اس ہفتہ پریشان کن حالت میں قومی کرکٹ کا یہ کلیدی ادارہ چھوڑگئے تھے جو لاہور میں انہوں نے میڈیا سے کہا تھا کہ بی سی سی آئی کے خلاف پاکستان کا کیس کمزور ہے اور اس سے معاوضہ حاصل کرنے کی توقع نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تھا کہ پاکستان کا ادعاء کمزور ہے کیونکہ یادداشت مفاہمت میں ایک فقرہ میں بھی ہے کہ دو ملکوں کے درمیان تمام سیریز کا اہتمام حکومت کی منظوری سے مشروط ہے ۔ بی سی سی آئی کا ادعاء ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اس وقت تک نہیں کھیل سکتا جب تک حکومت کی جانب سے باہمی کرکٹ سیریز کی منظوری حاصل نہیں ہوجاتی ۔ یہاں یہ امر بھی مضحکہ خیز ہے کہ خود شہریار خاں کی میعاد میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے بورڈ آف گورنرس نے تنازعات کی یکسوئی سے متعلق آئی سی سی کی کمیٹی میں معاوضہ کا دعویٰ دائر کرنے کے فیصلہ کو منظوری دی تھی اور 70 کروڑ امریکی ڈالر کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔ شہریار خاں اور متعلقہ ادارہ نے اس مقدمہ کے مصارف سے نمٹنے کے لئے 10 لاکھ امریکی ڈالر کی منظوری بھی دی تھی ۔ شہریار خاں کے ان تبصروں کے میڈیا میں عام ہونے کے بعد پی سی بی نے سابق صدرنشین پر ان کے موقف کی تبدیلی کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کردیا تھا اور پی سی بی کے موجودہ صدرنشین نجم سیٹھی نے وضاحت کرتے ہوئے اپنے پیشرو کی طرف سے یہ کہے جانے کی تردید کی تھی کہ ہندوستان کے خلاف پاکستان کا دعویٰ کمزور ہے ۔ شہریار نے ایک دستخط شدہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میڈیا میں مجھ سے منسوب شائع شدہ اس بیان کی پرزور تردید کرتا ہوں جس میں میرے حوالہ سے کہا گیا تھا کہ بی سی سی آئی کے خلاف پی سی بی کا کیس کمزور ہے ‘‘ ۔ شہریار نے مزید کہا کہ ’’میڈیا کو میرے ریمارکس مسخ اور پی سی بی کے موقف کو مجروح نہیں کرنا چاہئیے ‘‘ ۔ لیکن اس تنازعہ میں بدترین موڑ اُس وقت آیا جب بعض ٹیلی ویژن چیانلوں نے اس ویڈیو فوٹیج کا ٹیلی کاسٹ کیا جن میں شہریار یہ کہہ رہے تھے کہ معاوضہ کیلئے پاکستان کا مقدمہ بعض پہلوؤں سے کمزور ہے ۔

TOPPOPULARRECENT