Monday , November 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ’’بی سی سی آئی نے کرکٹ کیلئے کچھ نہیں کیا ‘‘

’’بی سی سی آئی نے کرکٹ کیلئے کچھ نہیں کیا ‘‘

فنڈز کی عدم تقسیم اور ناکافی ترقیاتی اقدامات پر سپریم کورٹ کی تنقید
نئی دہلی ، 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) کو ہدفِ تنقید بنایا اور اس پر ملک بھر میں فروغِ کرکٹ کیلئے کچھ بھی نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ کرکٹ بورڈ پر تب سخت تنقید ہوئی جب اس نے فاضل عدالت کو مطلع کیا کہ گیارہ ریاستوں میں فنڈز کا الاٹمنٹ صفر ہے۔ بورڈ کی سرگرمیوں پر شدید لفظی حملے میں فاضل عدالت نے کہا کہ بی سی سی آئی نے باہم فائدہ بخش سوسائٹی بنا رکھی ہے۔ گیارہ ریاستوں کو فنڈز سے عاری رکھنے پر سوال اٹھاتے ہوئے عدالت نے کہا کہ بی سی سی آئی کو فنڈز کی تقسیم میں لازماً انصاف برتنا ہوگا۔ یہ ریاستیں بھیک مانگنے پر کیوں کر مجبور ہیں؟ قبل ازیں سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ اسٹیٹ کرکٹ بورڈز کو کرکٹ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کیلئے فنڈز کا الاٹمنٹ کوئی ’’بھروسہ مند مانیٹرنگ میکانزم‘‘ کے بغیر کیا جارہا ہے۔ عدالت نے بورڈ کو ایسا چارٹ پیش کرنے کیلئے کہا تھا جس میں گزشتہ پانچ سال کے دوران اسٹیٹ بورڈز کو دیئے گئے فنڈز کی تفصیل ہو۔چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا: ’’کیا آپ (بورڈ) نے ان فنڈز پر نظر رکھی کہ یہ کس طرح استعمال کئے جارہے ہیں۔‘‘

TOPPOPULARRECENT