Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی طبقات کے تحفظات میں اضافہ پر غور و خوض

بی سی طبقات کے تحفظات میں اضافہ پر غور و خوض

مسلم اور ایس ٹی طرز پر بی سی تحفظات کے لیے چیرمین بی سی کمیشن راملو کا عہدیداروں کے ساتھ اجلاس
حیدرآباد۔/2جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ بی سی کمیشن نے پسماندہ طبقات کے مختلف زمروں کی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے سرکاری محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اپنی 6 روزہ سماعت مکمل کرلی ہے۔ حکومت نے بی سی کمیشن کو پسماندہ طبقات کے اے، بی، سی، ڈی زمرہ جات کے تحت موجود طبقات کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت مسلم اور ایس ٹی طبقات کی طرح بی سی طبقات کیلئے بھی مجموعی تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ صدرنشین بی سی کمیشن بی ایس راملو نے کمیشن کے ارکان کے ہمراہ مختلف سرکاری محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور سرکاری سطح پر عمل کی جارہی اسکیمات کی تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے اسکیمات پر عمل آوری اور استفادہ کنندگان کے بارے میں بھی اعداد و شمار حاصل کئے۔ اس موقع پر کمیشن کے ارکان ڈاکٹر کرشنا موہن راؤ، ڈاکٹر انجنے گوڑ اور جے گوری شنکر کے علاوہ ممبر سکریٹری جی ڈی ارونا ( آئی اے ایس ) موجود تھے۔صدرنشین بی سی کمیشن نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں بی سی طبقات کو ان کی آبادی کے مطابق مختلف اسکیمات سے مستفید کرنے کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقات کی حکومت کی اسکیمات میں حصہ داری کا جائزہ لینے کیلئے سرکاری عہدیداروں کے ساتھ پہلے مرحلہ کے اجلاس منعقد کئے گئے۔ 37 مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں نے بی سی کمیشن کو تفصیلات سے واقف کرایا۔ مختلف محکمہ جات کے ذریعہ بی سی طبقات کیلئے عمل آوری کی جارہی اسکیمات کی تفصیلات کمیشن کو پیش کی گئیں۔ کمیشن نے بتایا کہ حکومت نے جی او 9 کے ذریعہ ٹرم آف ریفرنس جاری کئے ہیں جس کے مطابق کمیشن کو 6 ماہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کرنی ہے۔ صدر نشین نے بتایا کہ بی سی طبقات کے تحفظات میں اضافہ اور انتہائی پسماندہ طبقات ( ایم بی سی ) کی نشاندہی اور دیگر کلیدی اُمور پر بی سی کمیشن ماہرین سے مشاورت کے بعد حکومت کو جامع رپورٹ پیش کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ جات کے ماہرین کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ کمیشن ضرورت پڑنے پر مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لے گا اور معلومات اکٹھا کرے گا۔ سیاسی جماعتوں سے بھی کمیشن اس سلسلہ میں رائے حاصل کررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT