Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی کمیشن ضروری ، 12 فیصد تحفظات سے مسلمانوں میں خوشحالی ممکن

بی سی کمیشن ضروری ، 12 فیصد تحفظات سے مسلمانوں میں خوشحالی ممکن

کاغذنگر ، ہنمکنڈہ اور نظام آباد میں نمائندگی اور پمفلٹس کی تقسیم
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز): چیف منسٹر تلنگانہ پر مسلمانوں سے کیے گئے وعدوں کی عمل آوری کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے ۔ اضلاع کے مسلمانوں نے روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک میں شدت پیدا کردی ہے ۔ وعدوں کی عمل آوری میں تاخیر سے مایوس تلنگانہ کے مسلم طبقہ میں برہمی پائی جاتی ہے اور مسلمان بی سی کمیشن کے فوری قیام کے ساتھ 12 فیصد مسلم تحفظات کو جلد از جلد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے حکومت کی جانب سے ایک کہ بعد دیگر ملازمتوں کے اعلامیہ کی اجرائی اور تعلیم میں مسلمانوں کو ہورہے نقصان سے مسلم طبقہ نوجوان نسل کے مستقبل سے کافی فکر مند ہے اور چیف منسٹر سے کہ کردار کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور تلنگانہ کے مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ آیا چیف منسٹر مسلمانوں کے حقیقی ہمدرد ہیں یا نہیں ۔ جو نہ صرف وعدوں کی عمل آوری میں تاخیر کررہے ہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر مسلم تحفظات کی فراہمی کے مسلم مطالبہ کو بھی نظر انداز کررہے ہیں ۔ تلنگانہ کے مسلمانوں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ مسلم تحفظات کی مدد سے ان کے حالات بہتر ہوں گے ۔ تعلیم کے علاوہ روزگار کا حصول اور ترقی کے لیے راہ ہموار ہوگی ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کمربستہ مسلم قوم اب ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں بھی اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔ ورنگل لوک سبھا حلقہ میں ایک لاکھ 57 ہزار مسلم رائے دہندے پائے جاتے ہیں ۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں ملازمتوں پر تقررات کا موقع آئندہ 20 سال تک آنے والا نہیں اور گذشتہ 60 سال سے مسلسل نا انصافی کا شکار مسلمان اس موقع سے محروم ہونا نہیں چاہئے اور چیف منسٹر تلنگانہ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ مسلمانوں کو تحفظات کی راہ ہموار کرنے کے لیے فورا بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ آج ضلع ورنگل کے ہنمکنڈہ قومی صدر AISF سید ولی اللہ قادری نے کہا کہ ریاستی حکومت کو چاہئے کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات جلد سے جلد فراہم کرکے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرے اور مسلمانوں میں جو مایوسی پیدا ہو رہی ہے وہ مایوسی کو دور کریں ۔ وزیر اعلی کے سی آر بھی مسلمانوں کے ساتھ کھلے ذہین سے کام نہیں لے رہے ہیں ، وزیر اعلی کے سی آر کو چاہئے کہ مسلمانوں میں پائی جانے والی الجھن کو دور کرتے ہوئے اپنے وعدہ پر عمل کرتے ہوئے 12 فیصد تحفظات کو عمل میں لائے ۔انہوں نے کہا کہ بی سی کمیشن کو فوراً قائم کیا جانا چاہئے۔ اس موقع پر کانگریس کے قائدین محمد یعقوب علی ریاستی نائب صدر کانگریس پارٹی شعبہ اقلیتی محمد ایوب صدر سٹی کانگریس ، محمد صادق ، محمد معشوق علی ، محمد حسین پاشاہ ، محمد یعقوب پاشاہ و دیگر کانگریسی قائدین بھی ریاستی وزیر اعلی سے مانگ کی کہ وہ اپنے کئے ہوئے وعدہ پر عمل کریں ورنہ تلنگانہ کے مسلمان آئندہ آنے والے دنوں میں اپنی اس تحریک کو مزید حرکت میں لاتے ہوئے تمام اضلاع میں احتجاجی ریالی اور جلسہ اجلاس جیسے پروگرام کا اہتمام کریں بلکہ 12 فیصد مسلم ریزرویشن آنے تک AISF کے قومی صدر سید ولی اللہ قادری اور کانگریس کے تمام قائدین محمد یقوب علی ، محمد ایوب ، محمد صادق ، محمد حسین پاشاہ ، محمد معشوق علی اور دیگر ذمہ داران نے سیاست اخبار کے نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان صاحب کا شکریہ ادا کئے اور اس تحریک کو اپنے اخبار کی جانب سے 12 مسلم ریزرویشن تحریک کو عوام تک پہونچانے کا جو کام کر رہے ہیں سارے تلنگانہ کے مسلمان ان کیلئے دعا گو ہے ۔اللہ ان کی عمر میں درازی دیں اور ان کے اخبار سیاست اردو اور سیاست ہفتہ وار انگریزی کو ترقی دیں ۔ اس موقع پر مقامی تلگو اخبار کے رپورٹرس اور الکٹرانک چیانلس کے رپورٹرس بھی شریک ہوئے سیاست کی جانب سے دئے ہوئے پمفلیٹ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد تمام مصلیوں کو تقسیم کئے گئے ۔
کاغذ نگر : انڈین یونین مسلم لیگ ضلع عادل آباد کے وفد نے مسلمانوں کے 12 فیصد تحفظات کے سلسلہ میں کلکٹر ضلع عادل آباد ڈاکٹر جگن موہن سے ملاقات کرنے اور یادداشت پیش کرنے کی غرض سے کلکٹریٹ آفس پہونچے لیکن اتفاق سے ڈاکٹر جگن موہن ، کے ٹی آر کے پروگرام میں مصروف تھے کافی انتظار کے بعد یہ یادداشت ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر مسٹر سنجیوا ریڈی کو پیش کی گئی ۔ بعد ازاں کلکٹر ضلع عادل آباد ڈاکٹر جگن موہن کی رہائش گاہ پہونچ کر انہیں بھی یادداشت پیش کی گئی ۔ جس میں انڈین یونین مسلم لیگ کے وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے اعلان میں تاخیر کی وجہ مسلمانوں کا کافی نقصان ہوا ہے ۔ حکومت ملازمتوں کیلئے ایک کے بعد دیگر نوٹیفکیشن جاری کر رہی ہے ۔ تعلیمی اداروں میں داخلے جاری ہیں لیکن مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ تحفظات سے محروم ہیں ۔ انہوں نے یادداشت میں یہ بھی لکھا کہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر راؤ چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے سے قبل مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن تشکیل تلنگانہ کو دیڑھ سال کا طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی چیف منسٹر اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے ۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے انہیں کوئی بھی ہمدردی نہیں ہے ۔ 12 فیصد تحفظات کا مطالبہ مسلمانوں نے نہیں کیا تھا بلکہ چیف منسٹر خود اس بات کو انتخابی منشور میں شامل کیا تھا ۔ اگر کالجس میں داخلے ہوجانے کے بعد اور مخلوعہ جائیدادوں کو پُر کرنے کے بعد مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دئے جائیں تو وہ مسلمانوں کیلئے سودمند ثابت نہیں ہوں گے ۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ تلنگانہ ریاست کے مسلمانوں کے ساتھ انصاف کریں کیونکہ تلنگانہ تحریک میں مسلمانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور جانوں کی بھی قربانی دی ۔ تلنگانہ کے مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ جناب چندر شیکھر راؤ ا پنے ایقائے عہد کو نہ بھولیں اور فوری 12 فیصد تحفظات کا اعلان کردیں ورنہ مسلمان یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ کے سی آر کو مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیٹی کی رپورٹس ہی مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دلوانے کیلئے کافی ہے لیکن اعلان کے سلسلہ میں تاخیر ہو رہی ہے اور نئی کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہے ۔ اگر مسلمانوں کو تحفظات محروم رکھا گیا تو تلنگانہ کے مسلمان آئندہ انتخابات میں چیف منسرٹ کو سبق سکھائیں گے ۔ اس موقع پر حافظ سید غوث صدر ضلع عادل آباد جناب محمد ارشد علی جنرل سکریٹری ضلع عادل آباد ، جناب سید ذاکر صابر وائس پریسیڈنٹ کے علاوہ جناب حسن خان ، جناب سید کلیم ، جناب محمد حسین ، جناب محمد ذاکر اور جناب شیخ ضمیر موجود تھے ۔
یلاریڈی : مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات دینے کا وعدہ کرنے والی سرکار دیڑھ سال ہونے کو ہے ۔ ابھی تک کوئی ٹھوس پہل نہیں کر رہی ہے جس سے مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ یلاریڈی تلگودیشم سینئیر قائد مسٹر شیخ غیاث الدین سابق زیڈ پی ٹی سی نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ ٹی آر ایس سرکار فوری 12 فیصد تحفظات کیلئے ٹھوس قدم  اٹھائے ۔ اقتدار کے چار ماہ میں ہی 12 فیصد تحفظات یقینی بنانے والی سرکار دیڑھ سال گذرنے پر بھی کیوں تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔ اقلیتوں کو اس کی فکر لاحق ہے ۔ انہوں نے سرکار سے وعدہ وفا کرنے کا ڈیمانڈ کیا اور تحفظات کو لیکر روزنامہ سیاست کی مہم کی بھرپور ستائش کی ۔ جناب عامر علی خان کی محنت رنگ لائے گی ۔
کاماریڈی : روزنامہ سیاست کی جانب سے تحفظات کی فراہمی کیلئے چلائی جانے والی تحریک  پر آج کاماریڈی میں بعد نماز جمعہ پمفلٹ کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ کانگریس قائد محمد مظہر الدین افسر کی قیادت میں نوجوانوں نے بعد نماز جمعہ مصلیان میں پملفٹس کو تقسیم کرتے ہوئے تحفظات کے بارے میں واقف کروایااور ریاستی حکومت سے  بی سی کمیشن کے قیام کے ذریعہ تحفظات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر محمد مظہر الدین افسر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ریاستی حکومت نے انتخابات سے قبل 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا اعلان کے علاوہ چار ماہ میں تحفظات کی فراہمی کا اقتدار پر آنے کے بعد بھی اعلان کیا 16ماہ کا وقت گذرنے کے باوجود بھی اس خصوص میں ابھی تک کچھ سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ ریاستی حکومت ملازمتوں کی بھرتی کیلئے اقدامات کرتے ہوئے اب تک جاری کردہ احکامات کی وجہ سے 1247 جائیدادوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ بغیر تحفظات کے ملازمتوں کی بھرتی سے مسلمانوں کو زبردست نقصان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو اسمبلی میں قرار داد پیش کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کرنے کے اعلان پر بھی سخت ناراضگی ظاہر کی اور مرکز ی نریندر مودی کی حکومت کسی بھی صورت میں مسلمانوں کو تحفظات فراہم نہیں کرسکتی۔ نریندر مودی کی حکومت مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی فراہمی کی مخالف ہے اگر حکومت تحفظات پر سنجیدہ ہے تو کانگریس کی طرح بی سی کمیشن کے قیام کے ذریعہ تحفظات فراہم کریں۔ انہوں نے تحفظات کی فراہمی تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے اور روزنامہ سیاست کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کی بھی ستائش کرتے ہوئے تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے سلسلہ وار تحریک چلانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

TOPPOPULARRECENT