Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی کمیشن کا موجودہ طریقہ کار غیر پیشہ ورانہ اور حقائق سے بعید

بی سی کمیشن کا موجودہ طریقہ کار غیر پیشہ ورانہ اور حقائق سے بعید

سفارشات عدالت میں ٹک نہیں سکتیں ، ممتاز ماہر قانون خواجہ محی الدین کا تاثر
حیدرآباد ۔ 10 ۔ جنوری : ( تبارک نیوز ) : ممتاز ماہر قانون و سینئیر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا جناب خواجہ محی الدین نے ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں اب تک اختیار کردہ طریقہ کو ناکافی اور نامکمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سدھیر کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن نے ریاست کے تمام اضلاع کا دورہ کیے بغیر جو سفارش پیش کررہی ہے وہ قانونی اور دستوری تقاضوں اور شرائط کی تکمیل نہیں کرتی ، ہونا تو یہ چاہئے کہ پسماندہ طبقات کمیشن ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع کا مکمل دورہ کر کے اور تحفظات کے لیے درکار شرائط کے مطابق مواد حاصل کرتا اور حقائق کا پتہ چلا کر تحفظات کے لیے رپورٹ تیار کرتا ، سارا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی اور اس کی مرکزی حکومت مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنا نہیں چاہتی اور ان تحفظات کی شدید مخالفت کررہی ہے ایسے حالات میں حکومت تلنگانہ کی طرف سے ادھوری مساعی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ، سدھیر کمیشن کو قانونی اور دستوری اختیارات اور موقف حاصل ہی نہیں ہے ۔ ریاستی حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کرنے کی مسلسل صرف باتیں کررہی ہے ۔ اس ضمن میں سدھیر کمیشن اور بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن صرف جھنجنے اور کھلونے سے زیادہ اہمیت اور وقعت نہیں رکھتے ، جو مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھمائے جارہے ہیں اور وہ کھیلنے اور وقت گزاری کے بعد پھینک دئیے جاتے ہیں ۔ جناب خواجہ محی الدین نے کہا کہ بی سی کمیشن نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ حکومت کی ایماء پر ہی کیا گیا ہے اور یہ رپورٹ اس طرح تیار کی جارہی ہے جیسے کہ کسی تخیل کی بنیاد پر یا دوسری رپورٹوں اور تبصروں پر انحصار کرنے کا طریقہ کار قطعی غیر پیشہ ورانہ ہے اور جس طرح عدالتوں میں پچھلے تحفظات ٹک نہیں سکے تھے اسی طرح 12 فیصد تحفظات بھی ٹک نہیں سکتے ۔۔

TOPPOPULARRECENT