Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی کمیشن کی تشکیل پر فاروق حسین کا اظہارتشکر

بی سی کمیشن کی تشکیل پر فاروق حسین کا اظہارتشکر

چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ سے ملاقات اور امام ضامن باندھی
حیدرآباد ۔ 11 اکٹوبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین نے چیف منسٹر کے سی آر کو امام ضامن باندھی اور بی سی کمیشن تشکیل دینے پر اظہارتشکر کیا۔ سدی پیٹ ضلع کا افتتاح کرنے کیلئے سدی پیٹ پہنچنے والے چیف منسٹر کا مسٹر محمد فاروق حسین نے خیرمقدم کیا اور بی سی کمیشن تشکیل دینے پر مسلمانوں میں پائی جانے والی خوشی کی لہر سے انہیں واقف کرایا جس پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چیف منسٹر نے فاروق حسین کو بتایا کہ سماج کے تمام طبقات کی خوشحالی اور ترقی کیلئے کام کرنا ان کا فریضہ ہے۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور سے تلنگانہ کے مسلمانوں کو ٹاملناڈو کے طرز پر 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ عہد کے پابند ہیں۔ سدھیر کمیشن سے رپورٹ وصول ہوگئی ہے اور بی سی کمیشن تشکیل دینے کے فیصلے کو حالیہ کابینہ کے اجلاس میں منظوری دے دی گئی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت قانونی کشاکش سے پاک مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کیلئے سنجیدگی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر محمد فاروق حسین نے کہا کہ کے سی آر وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور ہر کام بڑی جستجو سے کرتے ہوئے اس کو پائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ 14 سال تک جدوجہد کرنے کے بعد علحدہ ریاست تلنگانہ تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کی۔ تلنگانہ میںاضلاع کی تعداد میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا اس کو بھی آج عملی جامہ پہناتے ہوئے تلنگانہ اضلاع کی تعداد کو 10 سے بڑھا کر 31 تک پہنچا دیا ہے۔ نلوں کے ذریعہ گھر گھر پینے کا پانی سربراہ کرنے کا آئندہ سال آغاز ہوجائے گا۔ نئے اضلاع کی تشکیل سے عوام میں خوشی و مسرت پائی جاتی ہے کیونکہ سرکاری نظم و نسق عوام کی چوکھٹ پر ہوگا۔ اقلیتوں کی ترقی کیلئے بھی بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وعدے کے مطابق اقلیتوں کو پہلے سال 1000 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا گیا۔ اس میں اضافہ کرتے ہوئے 1200 کروڑ تک پہنچا دیا گیا ہے۔ جاریہ سال اقلیتوں کیلئے 71 ریزیڈنشیل اسکولس قائم کئے گئے ہیں۔ آئندہ سال ان اسکولس میں مزید 90 اسکولس کا اضافہ کیا جارہا ہے۔ شادی مبارک اسکیم اقلیتی طلبہ کیلئے بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے فی کس 20 لاکھ روپئے کی اسکیم پر کامیابی سے عمل آوری کی جارہی ہے۔ ریاست میں سماج کے تمام طبقات ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی کارکردگی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اپنے وجود کو باقی رکھنے اور سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT