Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / بی سی کمیشن کی عوامی سماعت کے دوسرے دن حوصلہ افزاء ردعمل

بی سی کمیشن کی عوامی سماعت کے دوسرے دن حوصلہ افزاء ردعمل

سدھیر کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے مختلف تنظیموں و قائدین کا مطالبہ
حیدرآباد۔/15ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر تلنگانہ اسٹیٹ بی سی کمیشن کی عوامی سماعت کے دوسرے دن آج حوصلہ افزاء ردعمل دیکھا گیا۔ کئی مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین کے علاوہ انفرادی طور پر عوام کی بڑی تعداد نے کمیشن سے رجوع ہوکر مسلم تحفظات کے حق میں اپنے دلائل کو پیش کیا۔ تمام کا متفقہ طور پر یہ موقف رہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر سدھیر کمیشن آف انکوائری نے جس طرح 9 تا12 فیصد تحفظات کی سفارش کی ہے اسی سروے کے بنیاد پر بی سی کمیشن کو بھی مسلمانوں کے ساتھ انصاف پر مبنی سفارشات حکومت کو پیش کرنی چاہیئے۔ بی سی کمیشن کے صدر نشین بی ایس راملو اور ارکان ڈاکٹر وی کرشنا موہن راؤ، ڈاکٹر انجنئے گوڑ، جے گوری شنکر اور ممبر سکریٹری جی ڈی ارونا ( آئی اے ایس ) نے سماعت کی۔ کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو نے نمائندگی کرنے والے اداروں اور افراد کو تیقن دیا کہ مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات کے سلسلہ میں وہ مکمل انصاف کریں گے اور دیگر پسماندہ طبقات کے تحفظات کو متاثر کئے بغیر حکومت سے سفارش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی سفارشات میں کسی بھی طبقات کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔ آج جن اہم اداروں اور تنظیموں نے بی سی کمیشن سے رجوع ہوکر تحفظات کے حق میں اپنے دلائل کو پیش کیا ان میں جماعت اسلامی ہند، ویلفیر پارٹی آف انڈیا،  آل انڈیا مسلم تھنک ٹینک، تلنگانہ آل میناریٹیز اینڈ ورکرس اسوسی ایشن، لاری ورکرس اسوسی ایشن، تلنگانہ میناریٹیز سیکولر فرنٹ، سینئر سٹیزنس ویلفیر اسوسی ایشن، انڈین یونین مسلم لیگ، بی سی مسلم اسوسی ایشن اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کئی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین، پروفیسرس اور وکلاء نے انفرادی طور پر کمیشن کو تحفظات کے حق میں نمائندگی کی۔ دوسرے دن بھی تحفظات کے مخالف بعض تنظیموں کو نمائندگی کرتے دیکھا گیا۔ ریڈی جاگرتی سنگم اور ویر ساورکر یوجنا سنگم کی جانب سے کمیشن سے مخالف تحفظات نمائندگی کی گئی۔ ان تنظیموں نے کمیشن سے کہا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر تحفظات کے خلاف ہیں۔ ایک تنظیم نے کہا کہ وہ پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو تحفظات کے حق میں ہے تاہم بی سی طبقات کے تحفظات میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے بھی مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی مخالفت کی۔ ٹاملناڈو کی طرز پر دستور کی آرٹیکل 15/(4) اور 16/(4) میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔ بی سی کمیشن کو آج دن بھر بڑی تعداد میں تحفظات کے حامیوں کی نمائندگی موصول ہوئی اور شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی رضاکارانہ تنظیموں کے خواتین نے بھی بڑی تعداد میں نمائندگی کی۔ جماعت اسلامی کے ریاستی صدر حامد محمد خاں کی قیادت میں جناب عبدالباسط انور، جناب ایم این بیگ زاہد، جناب محمد اظہر الدین اور ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے جناب عبدالجبار صدیقی نے کمیشن کو یادداشت پیش کی اور مشورہ دیا کہ عوامی سماعت کے بعد شہر اور اضلاع کا دورہ کریں تاکہ مسلمانوں کی پسماندگی کی حقیقی صورتحال کا اندازہ ہوسکے۔ وفد نے کہا کہ کمیشن کو شخصی طور پر مسلم علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لینا چاہیئے تاکہ رپورٹ پیش کرنے میں سہولت ہو۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ایکشن کے بعد مسلمان ہر شعبہ میں مسلسل پسماندگی کا شکار ہیں، ملازمتوں میں ان کی نمائندگی برائے نام ہوکر رہ گئی ہے۔ مسلمان زیادہ تر چھوٹے کاروبار کے ذریعہ اپنا گذارا کرنے پر مجبور ہیں۔ تعلیمی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے وفد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے معیاری تعلیمی اداروں کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اب تک 5 مختلف کمیشن قائم کئے گئے تھے اور تمام نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ گزشتہ 50 برسوں میں مسلمانوں کی حالت انتہائی پسماندہ رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے قائدین نے کہا کہ 12 فیصد تحفظات کے حق میں بی سی کمیشن کو حکومت سے موثر نمائندگی کرنی چاہیئے۔ کمیشن سے امید ظاہر کی گئی کہ وہ مسلمانوں کی پسماندگی کا بہتر طور پر احاطہ کرے گا۔ تحفظات کی فراہمی کیلئے سیاسی عزم کی ضرورت ہے اور جماعت اسلامی نے امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر نے جماعت اسلامی کے تلنگانہ گرجنا میں تحفظات کا جو وعدہ کیا تھا اس پر یقینی طور پر عمل کریں گے۔ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی آج کمیشن سے رجوع ہوکر اپنی نمائندگی کی۔بی سی کمیشن کی عوامی سماعت 17ڈسمبر شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ روزانہ  صبح 11تا 5 بجے شام کمیشن کے دفتر واقع خیریت آباد، میٹرو واٹر ورکس بلڈنگ میں تحریری یا زبانی طور پر نمائندگی کی جاسکتی ہے۔ روز نامہ ’سیاست‘ نے تحفظات کے حق میں نمائندگی کیلئے رہنمائی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت دفتر ’سیاست‘ میں خصوصی انتظام کیا گیا۔ حلف نامہ پر گزیٹیڈ آفیسر کے صداقتنامہ کے حصول کا انتظام کیا گیا ہے۔ عوام اور اقلیتی تنظیمیں اور ادارے دفتر ’سیاست‘ سے رجوع ہوکر سوالنامہ کی تفصیلات حاصل کرسکتے ہیں یا آن لائن فارم داخل کرنے کیلئے ویب سائٹ reply2bc.in سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT