Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی کمیشن کے بغیر مسلمانوں کو تحفظات کی عدم فراہمی

بی سی کمیشن کے بغیر مسلمانوں کو تحفظات کی عدم فراہمی

وزیر بی سی ویلفیر جوگو رمنا کے بیان پر عبداللہ سہیل کا اظہار تشویش
حیدرآباد /14 ستمبر ( سیاست نیوز ) صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر شیخ عبداللہ سہیل نے ریاستی وزیر بی سی ویلفیر جوگو رمنا کی جانب سے بی سی کمیشن تشکیل دئے بغیر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینا ناممکن قرار دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر سدھیر کمیشن تشکیل دیتے ہوئے 25 قیمتی ماہ ضائع کردینے کا الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کا ابتداء سے کہنا تھا کہ مسلمانوں کی معاشی سماجی تعلیمی پسماندگی کا جائزۃ لینے کیلئے تشکیل دی گئی سدھیر کمیشن کو کوئی اختیارات نہیں ہے اور نہ ہی سدھیر کمیشن مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی حکومت سے کوئی سفارش کرسکتی ہے ۔ کانگریس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور سے مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ کو پورا کرنے کیلئے کئی مرتبہ حکومت سے مطالبہ کیا کانگریس کی جانب سے دستخطی مہم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا تاہم حکومت نے ہمیشہ سدھیر کمیشن کی رپورٹ وصول ہونے کے بعد مسلمانوں کو وعدے کے مطابق 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے اور اسمبلی کا خصوصی سیشن طلب کرنے کا ایک اور وعدہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ۔ دیڑھ ماہ قبل ہی سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹ چیف منسٹر کو پیش کردی ہے ۔ تاہم  ابھی تک رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا اور نہ ہی کابینہ ا جلاس میں رپورٹ پر غور کیا گیا ہے اور نہ ہی جی ایس ٹی بل پیش کرنے کیلئے طلب کردہ اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں اس رپورٹ کو ایوان میں پیش کیا یگا ۔ 25 ماہ گذرنے کے بعد ریاستی وزیر بی سی ویلفیر مسٹر جوگو رامنا کی جانب سے اس بات کا اعتراف کرنا کہ بی سی کمیشن کی تشکیل کے بغیر مسلمانوں کے تحفظات کو 4 فیصد سے بڑھاکر 12 فیصد کرنا ناممکن ہے ۔ شرم کی بات ہے حکومت کو اس کا علم رہنے کے باوجود حکومت نے مسلمانوں کو دھوکہ میں رکھا اور ٹال مٹول کی پالیسی میں حکومت نے اپنی نصف معیاد مکمل کرلی ہے ۔ اب ریاستی وزیر بی سی ویلفیر کا بیان مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے ۔ کانگریس نے بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد تحفظات فراہم کیا تھا ۔ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے اس کی تقلید کرنے کے بجائے مسلمانوں کو دھوکہ میں رکھا گیا ہے ۔ لہذا چیف منسٹر کے سی آر فوری معذرت خواہی کرے اور فوری بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے مسلمانوں کو وعدے کے مطابق 12 فیصد تحفظات فراہم کرے بصورت دیگر مسلمان ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT