Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / بی یو ایم ایس کونسلنگ میں تلنگانہ امیدواروں سے ناانصافی

بی یو ایم ایس کونسلنگ میں تلنگانہ امیدواروں سے ناانصافی

این ٹی آر ہیلت یونیورسٹی میں حکام پر من مانی پر اولیائے طلبہ کا احتجاج

این ٹی آر ہیلت یونیورسٹی میں حکام پر من مانی پر اولیائے طلبہ کا احتجاج
حیدرآباد۔/29اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے نظامیہ طبی کالج اور آندھرا پردیش ریاست کے ضلع کرنول میں واقع عبدالحق یونانی طبی کالج کے بی یو ایم ایس کورسیس میں داخلوں کیلئے این ٹی آر ہیلت یونیورسٹی وجئے واڑہ میں آج منعقدہ کونسلنگ میں پیش آئی مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف اولیائے طلبہ و امیدواروں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے کونسلنگ کو منسوخ کرنے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کروانے کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ بی یو ایم ایس کورس کیلئے مذکورہ دونوں کالجوں میں نشستوں کی جملہ تعداد 106ہے جن کے منجملہ نظامیہ طبی کالج حیدرآباد میں نشستوں کی تعداد 50اور عبدالحق طبی کالج کرنول میں نشستوں کی تعداد 49ہے لیکن ان نشستوں کو تین یونیورسٹیوں کے حدود میں تقسیم کیا گیا جن میں عثمانیہ یونیورسٹی کے تحت 36فیصد، آندھرا پردیش کے تحت42فیصد، وینکٹیشورا یونیورسٹی کے تحت 22فیصد نشستیں ہیں۔

نظامیہ طبی کالج کی 57نشستوں میں تلنگانہ امیدواروں کو صرف 36فیصد نشستیں مختص کی گئی ہیں جبکہ کرنول طبی کالج کی 49نشستوں میں کرنول اور اطراف واکناف کے طلبہ کیلئے 85فیصد نشستیں مختص کی گئیں۔ اس طرح بتایا جاتا ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے تحت صرف 26فیصد نشستیں مختص کرنے مابقی64 فیصد نشستیں آندھرا اور وینکٹیشورا یونیورسٹی کیلئے مختص کرکے علاقہ تلنگانہ کے ساتھ مکمل ناانصافی کی گئی ہے۔ اس ناانصافی کے باعث آندھرا کے 199 رینک حاصل کرنے والے امیدوار کو نظامیہ طبی کالج میں نشست حاصل ہونے پر داخلہ مل گیا لیکن عثمانیہ یونیورسٹی حدود کے 28 ویں رینک حاصل کرنے والے امیدوار کو نظامیہ طبی کالج میں داخلہ حاصل نہیں ہوسکا۔ آج کونسلنگ کے دوران وینکٹیشورا یونیورسٹی عہدیداروں نے اپنی من مانی کرتے ہوئے آندھرا یونیورسٹی اور وینکٹیشورا یونیورسٹی حدود کے طلباء کو اپنی مرضی کے مطابق داخلہ دینے کی متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں اور اس طرز عمل کے خلاف عثمانیہ یونیورسٹی حدود کے تحت کونسلنگ میں شرکت کرنے والے امیدواروں نے اپنے والدین کے ساتھ سخت احتجاج کیا، جس پر این ٹی آر ہیلت یونیورسٹی عہدیداروں نے پولیس کو طلب کرکے کونسلنگ کو جاری رکھتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹی حدود کے امیدواروں کا ساتھ مکمل ناانصافیاں کرکے زیادہ سے زیادہ نشستیں آندھرا اور رائلسیما حدود کے طلباء کو الاٹ کئے۔ جبکہ سابق میں یہ طریقہ کار رہا کہ رینک کی بنیاد پر نظامیہ طبی کالج اور عبدالحق کالج کرنول میں داخلے دیئے جاتے تھے لیکن اس مرتبہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کے کم رینک حاصل کئے امیدواروں کو داخلہ نہیں مل سکا جبکہ عبدالحق کالج میں 411رینک حاصل کرنے والے امیدوار کو داخلہ حاصل ہوگیا۔ جب ان ناانصافیوں کے تعلق سے کونسلنگ کیمپ آفیسر مسٹر مرلی موہن سے دریافت کرنے پر بتایا کہ یونیورسٹی قواعد کے مطابق ہی کونسلنگ منعقد کی گئی اور داخلے دیئے گئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی حدود کے امیدواروں نے تلنگانہ حکومت سے این ٹی آر ہیلت یونیورسٹی میں منعقدہ کونسلنگ کو منسوخ کروانے اور دوبارہ کونسلنگ منعقد کرکے عثمانیہ یونیورسٹی کے حدود کے طلبہ کے ساتھ انصاف کرنے کے علاوہ کونسلنگ میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT